ڈپٹی ڈائرکٹر سروے و لینڈ ریکارڈز کے اے سی بی کیس میں نیا موڑ

   

ایک کو آپریٹیو سوسائیٹی بھی تحقیقات کے دائرہ میں ۔ بھاری رقم جمع کروانے کا انکشاف
حیدرآباد ۔ 17 ۔ جولائی : ( سیاست نیوز ) : سروے اور لینڈ ریکارڈ ڈپارٹمنٹ کے ڈپٹی ڈائرکٹر نرہری سے منسلک کیس جسے اے سی بی نے گزشتہ ماہ غیر قانونی دولت جمع کرنے کے الزام میں گرفتار کیا تھا ۔ اب یہ کیس نے ایک نیا موڑ لے لیا ہے ۔ نرہری کی گرفتاری کے بعد پوچھ گچھ میں پتہ چلا کہ کلیدی شواہد نے ایک کوآپریٹو کریڈٹ سوسائٹی کو اے سی بی جانچ کے دائرے میں لے لیا ہے ۔ نرہری کی گرفتاری کے وقت اے سی بی کے اہلکاروں نے نرہری کی رہائش گاہ سے 5.04 کروڑ روپئے کے فکسڈ ڈپازٹ دستاویزات ضبط کرلیے ۔ پتہ چلا ہے کہ اس رقم میں سے 3.5 کروڑ روپئے ایک کوآپریٹیو کریڈٹ سوسائٹی میں جمع کئے گئے تھے جب کہ مابقی رقم ایک قومی بینک میں جمع کی گئی تھی ۔ تحقیقات سے پتہ چلا کہ کوآپریٹیو سوسائٹی نے 3.5 کروڑ کے ڈپازٹ پر 3.6 لاکھ روپئے ماہانہ سود ادا کیا ۔ تاہم اس ڈپازٹ کے حوالے سے کسی آن لائن یا بینکنگ لین دین کے ریکارڈ کی عدم موجودگی کے باعث حکام کو شک ہوا ہے کہ نرہری نے رقم نقدی میں جمع کرائی تھی ۔ اے سی بی حکام فی الحال ان فنڈز کی تحقیقات کررہے ہیں ۔ وہ کوآپریٹیو سوسائٹی کے منتظمین اور اراکین کے ساتھ جمع کنندگان اور مالیاتی لین دین سے متعلق ریکارڈ بھی جمع کررہے ہیں ۔ اے سی بی نے پہلے ہی انکم ٹیکس کے ساتھ کیس کے مشتبہ پہلوؤں کی تفصیلات کا اشتراک کیا ہے ۔ حالیہ اے سی بی حراست میں جب ان سے ان فکسڈ ڈپازٹس کے بارے میں پوچھ گچھ کی گئی تو نرہری نے کہا کہ اس نے سوسائٹی کے سینئیر ممبر کے مشورے پر سرمایہ کاری کی تھی ۔ ش k/b