ترقیاتی اور فلاحی اسکیمات پر عمل آوری، خاندانی حکمرانی کی بجائے عوامی حکمرانی
حیدرآباد۔ 30 اگست (سیاست نیوز) وزیر آبپاشی این اتم کمار ریڈی نے کانگریس حکومت کے 1000 دنوں کی تکمیل کو تلنگانہ کے سفر میں ایک اہم پیشرفت قرار دیا اور کہا کہ ریاست میں ترقی اور فلاح و بہبود کے نئے دور کا آغاز ہوا ہے۔ اتم کمار ریڈی نے کہا کہ ایک ہزار دنوں میں نہ صرف حکومت تبدیل ہوئی بلکہ جمہوری انداز حکومت قائم ہوا جس کے لئے تلنگانہ عوام نے جدوجہد کی تھی۔ بی آر ایس کے 10 سالہ دور حکومت میں عوام کے بجائے صرف ایک انفرادی شخص اور ایک خاندان کی بھلائی پر توجہ دی گئی۔ وزراء، ارکان اسمبلی، عوامی نمائندے، اپوزیشن اور حتی کہ عام شہریوں کو ان کے حقوق سے محروم رکھا گیا۔ تلنگانہ سکریٹریٹ میں عوام کا داخلہ ممکن نہیں تھا اور جمہوری اداروں کو کمزور کرتے ہوئے مخالف آوازوں کو دبانے کی کوشش کی گئی۔ کانگریس حکومت نے بی آر ایس حکومت کے کلچرل کو ختم کرتے ہوئے وزراء کو عوام کی بھلائی کے کاموں میں مشغول کیا ۔ اسمبلی میں عوامی مسائل پر مباحث کی گنجائش فراہم کی گئی اور پرجاوانی کے تحت عوامی مسائل کی سماعت کی جارہی ہے۔ انتخابی وعدوں کی تکمیل کی گئی جن میں خواتین کو آر ٹی سی مفت سفر، 200 یونٹ مفت برقی سربراہی، 500 روپے میں گیس سلینڈر اور آروگیہ شری کے تحت 10 لاکھ روپے تک علاج کی سہولت شامل ہے۔ اتم کمار ریڈی نے کہا کہ سیول سپلائیز کے ذریعہ راشن کارڈ پر ہر شخص کو 6 کیلو مفت باریک چاول سربراہ کیا جارہا ہے اور 3.42 کروڑ افراد استفادہ کررہے ہیں۔ کانگریس برسر اقتدار آنے کے بعد نئے راشن کارڈس جاری کئے گئے۔ اندراماں ہاوزنگ کے تحت 5 لاکھ روپے سبسیڈی فراہم کی جارہی ہے۔ کسانوں کو دو لاکھ روپے تک کے قرضہ جات معاف کئے گئے اور رعیتو بھروسہ اسکیم کے تحت فی ایکر 12000 روپے کی امداد دی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ 70,000 سرکاری جائیدادوں پر تقررات کئے گئے۔ ینگ انڈیا اسکل یونیورسٹی، اڈوانسڈ ٹیکنالوجی سنٹرس اور انٹیگریٹیڈ اقامتی اسکولس قائم کئے جارہے ہیں۔ اتم کمار ریڈی نے کہا کہ 1000 دنوں میں کانگریس حکومت نے بہتر حکمرانی، سماجی انصاف، فوڈ سیکوریٹی اور ویمن امپاورمنٹ کی تکمیل کی ہے۔ تلنگانہ سے خاندانی حکمرانی کا خاتمہ ہوا اور عوامی حکمرانی کا آغاز ہوا ہے۔ 1؍F