کرونا وائرس کا اثر‘ ہوسکتا ہے حکومت مردم شماری‘ این پی آر کوا پ ڈیٹ کرنے کے کام کو ملتوی کردے

,

   

نئی دہلی۔کرونا وائرس کی وجہہ سے پیدا شدہ صورتحال کے پیش نظر مذکورہ حکومت یکم اپریل سے شروع ہونے والی مردم شماری او راین پی آر کو ملتوی کرنے یا آگے بڑھانے کے متعلق سونچ رہی ہے‘

یکم اپریل سے ہی مرکزی دہلی‘ انڈومان نیکوبار جزیرے‘ لکشادیپ اور میگھالیہ میں اس مشق کی شروعات ہونے والی تھی

نئی دہلی۔معلنہ مردم شماری کے متعلق جائزہ لینے کے لئے ریاستوں کی جانب سے مرکز کو تحریرات روانے کرنے کے وقت میں یہ اشارہ مل رہا ہے۔

جمعہ کے روز وزیراعظم کو تحریر کردہ ایک مکتوب میں اڈیشہ کے چیف منسٹر نوین پٹائیک نے کہا کہ تمام سی او وی ڈی 19کی وباء کے پیش نظر مردم شماری اور اس سے

متعلق میدا ن پر اتر کر کام کرنے والوں او رعوام کی زندگیوں کو خطرہ لاحق ہے جس کے متعلق ہداتیں دی جانے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہاکہ ”میں اس کے علاوہ مشورہ دینا چاہتاہوں کہ مردم شماری او راس سے متعلق مقرر ہ سرگرمیوں کو ملتوی کردیاجائے“۔

وہیں وزرات داخلہ کے عہدیداروں نے اس پر لب کشائی سے پرہیز کیاہے کہ آیا مقررمردم شماری/این پی آر کا جائزہ لیاجارہا ہے‘

ذرائع نے اس بات کی طرف اشارہ کیاہے کہ ایک فیصلے اگلے کچھ دنوں میں اعلان کیاجاسکتا ہے۔

انتظامیہ کے ایک عہدیدار نے کہاکہ سی او وی ائی ڈی19پر توجہہ کی وجہہ سے ہلکی سے تبدیلی بھی‘

مردم شماری گھروں کی فہرست بندی/این پی آر ستمبر2020کی قطعی تاریخ کے اندر مکمل کرلیاجائے گا۔مودی حکومت کے اندر جو اندازہ مقرر کیاگیا ہے وہ گھر گھر جاکر تمام فہرست بندی اوراین پی آر کا اندراج عمل میں لایاجانا چاہئے

کیونکہ سی او بی ائی ڈی 19کے بڑھتے معاملات سے ہندوستان کونمٹنے پر توجہہ مر کوز بھی کرنا ہے۔

اس کے علاوہ مرکز او رریاستی حکومتیں اور مقامی انتظامیہ کی جانب سے عوامی مقامات‘ دفاتر‘

دوکانوں کو بند کرنے کی قواعد کی جارہی ہے۔مردم شماری کے منتظمین نے یکم اپریل سے 30ستمبر تک مردم شماری اور این پی آر کو ہر ریاست اور یوٹیز میں مکمل کرنے کا اعلان کیاہے۔

ریاستوں کو مذکورہ دونوں مشقوں کو اندرون چھ ماہ مکمل میں مقررکردہ 45دنوں میں پائے تکمیل کوپہنچانا ہے۔کئی ریاستوں نے این پی آر کے اپ ڈیڈ پر اعتراض جتایاہے بالخصوص اس میں شامل نئے سوالات پر جو والدین کے مقام پیدائش پر مشتمل ہیں۔

وہیں کیرالا نے کہہ دیاہے کہ وہ این پی آر کی مشق نہیں کرے گا‘ مغربی بنگال او رتلنگانہ نے بھی اس پر روک لگادی ہے۔

کئی کانگریس کے اقتداروالی ریاستں و میں این ڈی اے کی ساتھی جے ڈی یو کی حکومتوں نے بھی 2010کے پرچہ سوالات پر این پی آر کرنے کا مشورہ دیاہے۔