چیف منسٹر ریونت ریڈی کی کارکردگی سے بی آر ایس بوکھلاہٹ کا شکار ، امن کو بگاڑنے کی سازش
حیدرآباد 12 نومبر ( سیاست نیوز) سینئر کانگریس قائد سابق صدر نشین سٹ ون محمد مقصود احمد نے کلکٹر وقار آباد پر بی آر ایس حملے کی مذمت کی اور قصور واروں کے خلاف سخت کارروائی کا حکومت سے مطالبہ کیا ۔ محمد مقصود احمد نے کہا کہ حکومت کے ترقیاتی اقدامات میں رکاوٹ پیدا کرنا اور فلاحی اسکیمات کی مخالفت کرنا بی آر ایس کی عادت بن گئی ہے ۔ ریاست میں کانگریس حکومت قائم ہونے کے بعد اظہار خیال کی آزادی دی گئی ۔ جمہوری احتجاج کا موقع فراہم کیا گیا ہے ۔ جس کا بی آر ایس بیجا استعمال کررہی ہے ۔ حصول اراضی معاملے میں جب کلکٹر کی جانب سے عوامی سماعت کا اہتمام کیا گیا تھا اس میں شامل ہو کر بی آر ایس کے قائدین جمہوری انداز میں احتجاج درج کرواسکتے تھے ۔ اس کے بجائے کلکٹر اور دیگر سرکاری عہدیداروں پر حملہ کرنا سب کچھ بی آر ایس کی منظم حکمت عملی کا نتیجہ ہے جس کی کانگریس پارٹی مذمت کرتی ہے ۔ کانگریس قائد نے کہا کہ افسوس کی بات یہ ہے کہ قائد اپوزیشن کے سی آر بی آر ایس ورکنگ صدر کے ٹی آر اور سابق وزیر ٹی ہریش راؤ نے کلکٹر پر حملے کی مذمت نہیں کی بلکہ قصور واروں کی گرفتاری کی مذمت کی ہے ۔ کے ٹی آر اور ہریش راؤ کا ردعمل بی آر ایس کے غنڈہ گردی کلچر کی حوصلہ افزائی کے مترادف ہے ۔ بی آر ایس کی جانب سے موسیٰ ندی کو خوبصورت بنانے کے پراجکٹ کی مخالفت کی جارہی ہے ۔ شہر کے مضافات میں فیوچرسٹی کی مخالفت کی جارہی ہے ۔ سرکاری ملازمتوں کی فراہمی کیلئے ہونے والے امتحانات کی مخالفت کی جارہی ہے ۔ چیف منسٹر ریونت ریڈی کی کارکردگی سے بی آر ایس بوکھلاہٹ کا شکار ہے ۔۔ 2