کیا ملک میں بڑھتی ہوئی فرقہ وارانہ بے چینی نے مسلمانوں کو مذہب بیزار کردیا ہے ؟

,

   

نئی دہلی : سی ایس ڈی ایس
(CSDS)
کی جانب سے کئے گئے ایک سروے کے مطابق یہ بات سامنے آئی ہے کہ 2016ء میں کئے گئے ایک سروے کے مقابلہ میں حالیہ دنوں میں کئے گئے سروے سے یہ پتہ چلتا ہے کہ مسلمانوں میں خصوصی طور پر نوجوان طبقہ مذہب یا اپنے دین سے دور ہوتا جارہا ہے ۔ اس سروے کا ہندوستانی نوجوان طبقہ مستقبل کی خواہش اور ویژن کے عنوان سے سنٹر فار دی اسٹیڈی آف ڈیولپنگ سوسائٹیز
(CSDS)
لوک نیتی کی چیرمین تھنک ٹینک کے تعاون سے انعقاد کیا گیا تھا جس کی اجرائی گذشتہ سال ڈسمبر کے اوائل میں کی گئی تھی جس میں 18 تا 34 سال کے درمیان 6277 افراد سے بات چیت کی گئی تھی جس میں یہ انکشاف ہوا کہ خصوصی طور پر نوجوان نسل اب مذہبی سرگرمیوں جیسے نماز ، روزہ ، تلاوت قرآن اور سماعت خطبہ سے دور ہوتی جارہی ہے اور یہ تعداد ان مسلمانوں سے بھی کم ہے جن کا 2016ء میں سروے کیا گیا تھا ۔جہاں تک دیگر اقلیتو ں جیسے سکھوں اور عیسائیوں کا سوال ہے تو ان میں مسلمانوں کو ہی یہ شکایت ہے کہ دیگر اقلیتو ں کے مقابلہ ان کے ساتھ ( مسلمانوں ) مذہب کی بنیاد پر امتیازی رویہ اختیار کیا جاتا ہے جبکہ سکھوں ، عیسائیوں اور مسلمانوں کا مجموعی طور پر یہ خیال ہے کہ اب ملک میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کا وجود آہستہ آہستہ ختم ہوتا جارہا ہے ۔2021 میں مساجد میں جانے والے مسلمانوں کا تناسب 79% رہا جبکہ 2016 میں یہی تناسب 85% تھا ۔ حالانکہ دیگر مذاہب سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں میں بھی اپنی عبادت گاہوں کو جانے کا تناسب کم ہی رہا لیکن مسلمانوں میں سب سے زیادہ یعنی 6% کمی نوٹ کی گئی ۔