گاندھی جی کے خوابوں کی تکمیل اور راہول گاندھی کو وزیراعظم بنانے کیلئے جدوجہد

   

نظام آباد میں مہاتما گاندھی ، لال بہادر شاستری کی یوم پیدائش تقاریب ، ناگیش ریڈی ، طاہر بن حمدان و دیگر کا خطاب
نظام آباد۔ 2 اکتوبر ۔ ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز ) مہاتما گاندھی کی 157 ویں اور سابق وزیراعظم لال بہادر شاستری کی یوم پیدائش کے موقع پر ضلع کانگریس کمیٹی کے صدر ناگیش ریڈی اور سٹی کانگریس کمیٹی کے صدر بوببلی رام کرشنا کی قیادت میں کانگریس بھون میں دونوں عظیم رہنماؤں کے پورٹریٹس پر پھول مالائیں چڑھا کر خراج عقیدت پیش کیا گیا۔ اس موقع پر ریاستی اردو اکیڈمی کے چیئرمین طاہر بن حمدان نے کہا کہ مہاتما گاندھی اور لال بہادر شاستری کی خدمات، اصول اور نظریات ملک کی تاریخ میں ناقابل فراموش ہیں ۔ بعد ازاں تلک گارڈن میں واقع لال بہادر شاستری کے مجسمے اور گاندھی چوک پر مہاتما گاندھی کے مجسمے پر پھول مالائیں نذر کرتے ہوئے خراج عقیدت پیش کیا گیا۔ اس موقع پر ناگیش ریڈی نے کہا کہ برطانوی حکمرانوں نے تقریباً 200 سال تک ہندوستان پر حکومت کی اور ان کے دور اقتدار میں عوام کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ انہوں نے کہا کہ ملک کو آزادی دلانے کے مقصد سے مہاتما گاندھی نے امن اور عدم تشدد کے راستے پر عوام کو متحد کرتے ہوئے آزادی کی تحریک کو آگے بڑھایا ۔ آزادی کے بعد ملک کی ترقی کے لیے پہلے وزیراعظم جواہر لال نہرو نے متعدد اہم فیصلے کئے، جبکہ مہاتما گاندھی کے خوابوں کے مطابق گرام سوراج کے قیام کے لیے کانگریس نے دیہاتوں کی ترقی پر خصوصی توجہ دی۔ انہوں نے کہا کہ آزادی کے بعد سے آج تک دیہی علاقوں میں جو ترقی ہوئی ہے، اس میں کانگریس حکومتوں کا اہم کردار رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ لال بہادر شاستری نے ملک کے دوسرے وزیراعظم کی حیثیت سے ترقی کے سفر کو آگے بڑھاتے ہوئے ’’جے جوان، جے کسان‘‘ کا نعرہ دیا۔ اسی طرح اندرا گاندھی نے ’’غریبی ہٹاؤ‘‘ کے نعرے کے ساتھ غریبوں کو روٹی، کپڑا اور مکان فراہم کرنے کا مقصد اختیار کیا اور موجودہ تلنگانہ حکومت بھی اسی جذبے کے تحت غریب خاندانوں کو اندراماں مکانات فراہم کر رہی ہے۔ ناگیش ریڈی نے کہا کہ ملک میں بجلی کی سہولت محدود گھروں تک دستیاب ہونے کے دور سے آج ہر گھر تک بجلی پہنچانے میں کانگریس حکومتوں کا اہم کردار رہا ہے، جبکہ تلنگانہ میں وزیر اعلیٰ ریونت ریڈی کی حکومت 200 یونٹ تک مفت بجلی فراہم کر رہی ہے۔ نئے راشن کارڈ جاری کرتے ہوئے باریک چاول کی فراہمی، خواتین کے لیے مفت بس سفر، غریبوں کے علاج کے لیے 10 لاکھ روپے تک راجیو آروگیہ شری کی سہولت، کسانوں کے لیے قرض معافی اور باریک دھان کے لیے بونس جیسے اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ مرکز میں برسر اقتدار بی جے پی کے بعض قائدین مہاتما گاندھی کی شہرت اور خدمات کو کم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، تاہم ملک کے لیے گاندھی کی خدمات کو کبھی فراموش نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ میں ریونت ریڈی کی قیادت اور ریاستی کانگریس صدر مہیش کمار گوڑ کی رہنمائی میں ریاست ترقی کی سمت آگے بڑھ رہی ہے اور آئندہ پارلیمانی انتخابات میں کانگریس کو زیادہ نشستیں حاصل کرتے ہوئے راہول گاندھی کو ملک کا وزیراعظم بنانے اور گاندھی کے خوابوں کے مطابق ملک کی ترقی کے لیے جدوجہد جاری رکھی جائے گی۔ سٹی کانگریس کمیٹی کے صدر بوببلی رام کرشنا نے کہا کہ مہاتما گاندھی ہندوستانی قومی کانگریس کے لیے ایک رہنما کا درجہ رکھتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ گاندھی نے کانگریس کے پلیٹ فارم سے عدم تعاون تحریک، نمک ستیہ گرہ اور بھارت چھوڑو تحریک سمیت کئی تاریخی تحریکوں کو کامیابی سے آگے بڑھایا۔ گاندھی کا یقین تھا کہ دیہات ملک کی بنیاد ہیں، اسی لیے انہوں نے گرام سوراج، گھریلو صنعتوں اور دیسی اشیاء کے استعمال کو فروغ دیا۔اس موقع پر ریاستی تاڈی ٹاپر کارپوریشن کے چیئرمین شیکھر گوڑ، میئر اوما رانی، پی سی سی جنرل سکریٹری رام بھوپال، سابق ایم ایل سی اکولا للتا، نوڈا چیئرمین کیشو وینو، اے آئی سی سی مبصر کاپوکر گن راج، ڈی سی سی خازن بھکتا وستلم، نائب صدور کاؤڈپو شرت کمار اور گادری گوپی، ضلع او بی سی صدر نریندر گوڑ، ایس ٹی صدر یادگیری، ٹی پی وائی سی نائب صدر گوپی، سابق میونسپل فلور لیڈر راجندر پرساد، خواتین کانگریس صدر ریوَتی، کارپوریٹر گنگادھر، منوہر اور پروین یادو کے علاوہ بنٹو بلرام، وحید، پرمود، اوشا، چندرکلا، ملائیکا، سجاتا، اپرنا، سواپنا اور دیگر کانگریس قائدین و کارکنان موجود تھے۔