ہریانہ۔ فرقہ وارانہ تصادم میں مسجد کے امام سمیت چار افراد کواگ لگادی گئی

,

   

ایک مقامی پولیس افیسر نے تصدیق کی ہے کہ ایک ہوم گارڈس میں نیرج سے گولی لگانے کی وجہہ سے ہلاک ہوگیاہے۔
ہریانہ میں 31جولائی کے روز پیش ائے فرقہ وارانہ تصادم میں کم ازکم چار لوگ مارے گئے او رمتعدد زخمی ہوئے۔ تشدد کے واقعات ہریانہ کے ضلع نوح میں وشوا ہندو پریشد(وی ایچ پی) کی جانب سے نکالے گئے ایک جلوس کے دوران پیش ائے ہیں۔

تشدد کے واقعات تیزی کے ساتھ ریاست کے دوسرے حصوں میں پھیلے جس میں گروگرام بھی شامل ہیں جہاں پر دائیں بازو کے ہجوم نے ایک مسجد کو مبینہ نذر آتش کیا او رگولیا ں بھی چلائیں۔

رپورٹس کے مطابق مذکورہ مسجد کے امام جس کی شناخت مولانا ساد کے طور پر ہوئی ہے کہ واقعہ میں ہلاک ہوگئے اور دیگر دوزخمی ہوئے ہیں۔

ہلاک ہونے والوں میں دیگر دو ہوم گارڈس شامل ہیں جس کی شناخت گروسیوک او رنیرج کے طور پر ہوئی ہے جبکہ ایک شخص کی شناخت نہیں ہوئی ہے۔

رپورٹس کی مانیں تو تشدد کی شروعات موہت یادو عرف مونو مانیسرا کے وی ایچ پی کے جلوس میں نظر آنے کے بعد ہوئی ہے۔

موہت کا تعلق بجرنگ دل کے گاؤ رکشک میں ہے جس پر اسی سال فبروری میں گاؤ تسکری کے شبہ میں دو لوگوں کو زندہ جلادینے کا الزام ہے۔

پولیس نے اسے مفرور قراردیاہے۔ قبل ازیں میوات میں شوبھا یاترا کے متعلق جانکاری دیتے ہوئے اپنے سوشیل میڈیااکاونٹ پر موہت نے ایک ویڈیو اپ لوڈ کیاتھا۔

https://twitter.com/Shokatali99/status/1685311639313408001?s=20

گاؤ تسکری کے شبہ میں 35سالہ جنید اور 25سالہ نصیر نامی مسلم بھائیوں کے اغواء مارپیٹ اور جلاکرمارڈالنے کے معاملے میں موہت کلیدی مشتبہ ہے۔ دونوں کی نعشیں فبروری16کو ہریانہ کے بھیوانی ضلع میں ایک جلی ہوئی کار سے ملی تھیں۔

مسلم اکثریت والے علاقے نوح میں تشدد کی خبر پھیلتے ہی سہانا میں ہجوم نے اقلیتوں کی متعدد گاڑیوں اور دوکانات کو جلاناشروع کردیا۔


مظاہرین نے گھنٹوں سڑک بند کردی
نوح اورگروگرام اضلاعوں میں احتیاطی احکامات اور لوگوں کے اکٹھا ہونے پر امتناع عائد کردیا گیا۔ نوح او رفرید آباد میں انٹر نٹ خدمات کومسدود کردیاگیا۔ احتیاطی اقدامات کے طور پرفرید آباد اورپلوال اضلاعوں میں منگل کے روز تعلیمی ادارے بند رکھنے کے احکامات جاری کردئے گئے.۔

گروگرام پولیس کمشنر کالا رام چندر ن نے کہاکہ دو ہوم گاڑڈس جو مذکورہ ضلع سے منسلک تھے‘ متصل نوح میں تشدد میں مارے گئے ہیں۔

مذکورہ اہلکار نے کہاکہ 10سے قریب پولیس جوان بھی زخمی ہوئے ہیں۔ ایک مقامی پولیس افیسر نے تصدیق کی ہے کہ ایک ہوم گارڈس میں نیرج سے گولی لگانے کی وجہہ سے ہلاک ہوگیاہے۔

افیسر نے کہاکہ زخمی اٹھ پولیس اہلکاروں کو گروگرام کے ویدانتا اسپتال لے جایاگیا۔ زخمیو ں میں ہوڈال کے ڈی ایس پی سنج سنگھ کے سر میں گولی ماری گئی اور ایک انسپکٹر کے پیٹ میں گو لی لگی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ نذر آتش کی گئی گاڑیاں یاتو جلوس کا حصہ تھیں یا پھر ان کی تھیں۔

ایک ویڈیوکلپ میں دیکھایاگیا ہے کہ کم ازکم چار کاروں کوآگ لگ گئی ہے۔ ایک اورمبینہ ویڈیومیں پولیس کی دوگاڑیوں کو تباہ شدہ دیکھایاگیاہے۔

کلپ میں گولی چلنے کی آواز بھی سنائی دے رہی ہے۔

بعدازاں دائیں بازو ہجوم نے گروگرام سیکٹر57میں ایک مسجد کو آگ لگانے کے بعد مبینہ گولیاں چلائیں۔ آگ لگانے کے واقعہ میں تین لوگوں زخمی ہوئے جنھیں ایک مقامی اسپتال منتقل کردیاگیا۔

جس میں سے ایک مذکورہ مسجد کے امام تھے جو جانبرنہ ہوسکے۔ کئی لوگوں نے سوشیل میڈیاپر قریبکے علاقوں میں مساجد پر اسی طرح کے حملوں کے متعلق پوسٹ کیا۔

تاہم سیاست ڈاٹ کام ان واقعات کی آزادنہ تصدیق نہیں کرسکتا ہے۔

نوح میں انٹرنٹ خدمات کوبند کرتے ہوئے ہریانہ حکومت نے کہاکہ علاقے میں ”شدید فرقہ وارانہ کشیدگی“ہے۔

پولیس کے بموجاب وی ایچ پی کی ”برج منڈل جل ابھیشک یاترا“ کونوح کے کھیڈلا موڈ میں کچھ نوجوانوں نے روک لیا اور جلوس پرپتھر اؤ کیا۔ جلوس میں موجود لوگوں نے ان نوجوانو ں پر بھی جوابی پتھراؤ کیا اور کاریں نذرآتش کردیں۔

بعدازا ں کئی لوگوں کو ایک مندر میں پناہ لیناپڑی کیونکہ پولیس انہیں وہاں سے محفوظ انداز میں نکال رہی تھی۔ بی جے پی کے ضلع صدر گرگی ککر نے گروگرام کے سیول لائنس سے یاترا کو جھنڈی دیکھا کر روانہ کیاتھا۔ جلوس کے ساتھ پولیس کا ایک دستہ تعینات کیاگیاتھا۔

ریاستی وزیرداخلہ انل وج نے شام میں کہاکہ مرکزی دستوں کی تین کمپنیاں موقع پر پہلے ہی پہنچ گئی ہیں۔ چیف منسرمنوہر لال کھٹر نے ”ہریانہ ایک‘ ہریانوی ایک“ کانعرہ لگاتے ہوئے نوح میں پرامن رہنے کی اپیل کی۔

کانگریس لیڈر رندیپ سراجیوالا نے ہریانہ کے لئے اس کو سیاہ دن قراردیا اور کھٹر حکومت کو نظم ونسق میں ناکامی کامورد الزام ٹہرایا ہے۔

سابق چیف منسٹر بھوپیندرسنگھ ہڈا نے لوگوں سے پرامن رہنے اوربھائی چارہ کی اپیل کی۔ نوح کے رکن اسمبلی آفتاب احمد اورسابق رکن اسمبلی ذکر حسین نے بھی اسی طرح کی اپیل کی ہے۔

وج نے کہاکہ”ہماری پہلی ترجیح حالات کو پرامن بنانا ہے۔ہم تمام سے امن برقرار رکھنے کی اپیل کرتے ہیں۔ انہوں نے رپورٹر س کو بتایاکہ تشدد کے ذمہ دار کون ہے اس کا تعین بعد میں کیاجائے گا۔