ہماچل پردیش۔ کولو میں زمین کھسکنے کی وجہہ سے 8عمارتیں منہدم

,

   

شملہ۔ حالیہ بارش کے بعد جن مکانات میں دارڑیں پڑ گئی تھیں اورانہیں غیرمحفوظ قراردیاگیاتھاجمعرات کے روز ہماچل پردیش کے کولو ضلع کے اینی علاقے میں منہدم ہوگئی ہیں‘ دھول او رملبے کے بڑے بادل اٹھے۔ تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ہے۔

موقع پر موجود اینی کے سب ڈویثرنل مجسٹریٹ(ایس ڈی ایم) نریش ورما نے کہاکہ چار پانچ دن قبل مذکورہ عمارتوں‘ ہاوزنگ دوکانوں‘ بینکوں میں دارڑیں اگئی تھیں۔ انہوں نے کہاکہ ان عمارتوں کو غیرمحفوظ قراردیاگیاتھا اور انہیں حال ہی میں خالی بھی کرایاگیاتھا۔

انہوں نے کہاکہ نقصان کاتخمینہ کیاجارہا ہے اور اینی میں قومی شاہراہ 305سے متصل دیگر عمارتوں کو بھی احتیاطی اقدامات کے طور پر خالی کیاجارہا ہے۔

درایں اثناء ہماچل کے مختلف حصوں میں بارش کاسلسلہ ہنوز جاری ہے۔ چہارشنبہ کی رات تک پالم پور میں 137 ملی میٹر بارش درج کی گئی ہے‘ وہیں نہان میں 93ایم ایم‘ شملہ میں 79ایم ایم‘ دھرم شالہ میں 70ایم ایم او رمنڈی میں 57ایم ایم بارش ریکارڈ کی گئی ہے۔

ہماچل پردیش میں 24جون کے روز مانسون کی آمد کے بعد سے اب تک 40لوگ لاپتہ ہیں اور جملہ 280لوگوں کی ہوئی ہے جبکہ اسمال میں ریاست کے اندر بارش سے متعلق اموات کی تعداد 120تک پہنچ گئی ہے۔

اسٹیٹ ایمرجنسی اپریشن سنٹر کے بموجب 12,100سے زائد مکانات پوری طرح یا جزوی تبا ہ ہوگئے ہیں۔بارش کی وجہہ سے ریاست میں 709سڑکو کو بند کردیاگیاہے۔

اس مانسون میں ہماچل میں تین دور میں بھاری بارش ہوئی ہے۔ پہلے دور کی بھاری بارش 9سے 10جولائی کے درمیام میں ہوئی جس میں منڈی اورکولو ضلع میں بھاری تباہی ہوئی ہے‘ دوسرے دورکی بارش14اور 15اگست کے دوران شملہ اور سولان اضلاعوں میں تباہی ہوئی منگل کی رات کو پیش ائے تیسرے دور کی شدید بار میں شملہ شہر بہت زیادہ متاثر ہوا ہے۔

چیف منسٹر سکھیدویندر سنگھ ساکھو نے چہارشنبہ کے روز کہاکہ نقصان ز,دہ کاموں کی دوبارہ تعمیر کے لئے ریاست میں ڈپٹی کمشنر ان اور لائن ڈپارٹمنٹ کو 165.22کروڑ روپئے جاری کئے گئے ہیں۔

انہوں نے دعوی کیاہے کہ بھاری بارش کی وجہہ سے اب تک ریاست کو 10,000کروڑ کانقصان ہوا ہے۔