ہندوستان کے قرنطانیہ قواعد کی اقوام متحدہ پر انسانی حقوق چیف کی شدید تنقید

,

   

اقوام متحدہ۔ جس وقت ہندوستان سی او وی ائی ڈی19کے پھیلاؤ کو روکنے کے لئے جدوجہد کررہا ہے اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق مائیکل بچیلیت نے جمعرات کے روز ملک میں قرنطانیہ کے متعلق اٹھائے جانے والے اقدامات کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہاکہ وہ لوگوں کو بدنام کیاجارہا ہے۔

مذکورہ بیان میں انہوں نے ”ایسے اقدامات پر تاسف کا اظہار کیاہے جس کی وجہہ سے سماج کے کچھ طبقات کی تذلیل ہورہی ہے‘ جس میں مہاجرین بھی شامل ہیں‘ ایسی کچھ ریاستوں میں ہاتھوں پر مہر لگانے کاکام بھی کیاجارہاہے تاکہ وہ قرنطانیہ میں رہ سکیں‘ قرنطانیہ میں رہنے والوں کے مکان پر نوٹس بھی چسپاں کی جارہی ہے“۔

انہوں نے مزیدکہاکہ”رازداری کے حقوق کی حفاظت کے لئے اس طرح کے اقدامات سے احتیاط ضروری ہے تاکہ سماج کے اندر لوگوں کو تذلیل سے بچایاجاسکے‘ جو پہلے ہی اپنے سماجی موقف اوردیگر عنصر کی وجہہ سے پریشان حال ہیں“۔

وہ قرنطین کے مریضوں کی الکٹرانک آلات سے نگرانی کے معاملات پر خامو ش رہی ہیں۔ بچیلیت نے لاک ڈاؤن کی وجہہ سے مہاجر ورکرس پرپڑھنے والے والے اثرات کی سخت ناقد بھی ہیں۔

جنیوا میں ان کے دفتر سے جاری کردہ بیان کے مطابق ”اچانک لاک ڈاؤن کے اعلان کی وجہہ سے لاکھوں داخلی مہاجرین کی ہجرت کے سبب وہ کافی افسردہ ہیں“