یمن میں اقوام متحدہ کی ثالثی پر جنگ بندی کا امریکہ نے کیا خیرمقدم

,

   

مذکورہ امریکہ نے تمام فریقین سے توقع ظاہر کی ہے کہ وہ یمنی عوام کے لئے اقوام متحدہ کی ثالثی پر جنگ بندی کی مکمل پابندی کریں
واشنگٹن۔امریکہ نے اقوام متحدہ کی ثالثی میں یمن کے اندر جنگ بندی کاخیرمقدم کیا‘ ساتھ صدر جو بائیڈن نے کہاکہ یہ پہل اس ملک کے لئے لوگوں کے لئے ایک طویل انتظار کی بحالی ہے۔

بائیڈن نے کہاکہ میں یمن بحران میں دو ماہ کے جنگ بندی کے آج پیش ائے اعلان کا میں خیر مقدم کرتاہوں۔ یمنی عوام کے طویل مدت سے زیر التوا ء کی یہ اقدام بحالی ہے۔

اس میں یمن کے اندر اور اس کے سرحدے علاقوں کے پار کسی بھی فریق کی طرف سے تمام فوجی سرگرمیوں کو روکنا‘ الحدیدہ بندرگاہ میں ایندھن کے جہازوں کا داخلہ‘ او رصنعاء سے متفقہ مقامات تک تجارتی پروازوں کی تجدید شامل ہے۔

انہوں نے کہاکہ یہ اہم اقدامات ہیں مگر یہ کافی نہیں ہیں۔ انہوں نے اشارہ دیاکہ مذکورہ جنگ بندی پر عمل کیاجائے اور میں نے اس سے قبل بھی کہا ہے کہ یہ ضروری ہے ہم اس جنگ کو ختم کریں۔

سات سالوں کی شورش کے بعدمذاکرات کاروں کو ایسے سیاسی سمجھوتوں تک رسائی کے لئے سخت اور ضروری کام کرنا چاہئے جو یمن کے تمام لوگوں کے لئے دیر پا امن کا مستقبل لاسکتا ہے۔

امریکی صدر نے سعودی عربیہ او رعمان کی قیادت کے رول کی بھی ستائش کی جنپوں نے مقدس ماہ صیا م سے قبل اس مشکل پہل کو روبعمل لایاہے۔

انہوں نے کہاکہ میں یمنی حکومت کی سخت محنت کا بھی مشکور ہوں اور پر امید ہوں کہ یو این کی زیرقیادت ثالثی کارگرد ہوگی۔