یوپی اسمبلی انتخابات میں جیت یا ہار مودی کا ہوگا برا حال!

   

ڈی کے سنگھ
وزیراعظم نریندر مودی کی عمر کو لیکر بہت کچھ کہا جارہا ہے ، ان کے حامی اس بات کو لیکر پُرامید ہیں 2029ء کے بعد بھی عہدہ وزارت عظمی پر مودی جی ہی فائز ہوں گے جبکہ اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا کہ ان کی مخالفت میں بھی آوازیں پورے زور و شور کے ساتھ سنی جارہی ہیں ۔ اپوزیشن کے مطابق مودی جی کی تیسری معیاد ان کی آخری معیاد ثابت ہوگی کیونکہ پچھلے بارہ برسوں کے دوران عوام مودی حکومت کی عوام دشمن پالیسیوں اور فیصلوں سے تنگ آچکے ہیں ، عوام سب سے زیادہ اس بات کو لیکر ناراض ہے کہ مودی مہنگائی پر قابو پانے میں بری طرح ناکام ہوگئے ہیں ۔ مہنگائی پر کنٹرول تو دور کی بات ہے گزرتے دنوں کے ساتھ ساتھ مہنگائی میں مسلسل اضافہ ہوتا جارہا ہے اور اس مہنگائی سے سب سے زیادہ متاثر عوام ہورہے ہیں ۔ اس کے علاوہ اپوزیشن اس بات کو لیکر بھی مودی حکومت کو مسلسل شدید تنقید کا نشانہ بنارہی ہے کہ مرکزی ایجنسیوں کی آزادی و شفافیت پوری طرح ختم ہوچکی ہے ، کبھی بااختیار اور آزاد کردار کیلئے شہرت رکھنے والی ایجنسیوں کی آزادی اور شفافیت ختم کردی گئی ہے اور وہ حکومت کے اشارو ں پر ناچ رہی ہیں ( اس بارے میں ملک کے سینئر ترین لیڈر شرد پوار کے بیانات دیکھے جاسکتے ہیں) بہرحال سوال یہ ہیکہ مودی جی اپنی وراثت کو اپنے دور اقتدار کو یادگار بنانے کیا کریں گے ؟ ۔ اس کیلئے 5 ایسے کام ہیں جو وزیراعظم نریندر مودی اپنی وراثت اور اپنی معیادوں کو یادگار بنانے کیلئے کرسکتے ہیں لیکن نہیں کریں گے ۔ ویسے بھی انتخابات میں گرتی ہوئی عوامی مقبولیت و حمایت مودی کے سامنے وراثت کا ایک مختلف نوعیت کا چیلنج پیش کررہی ہے ۔ یہ ایسا چیلنج ہے جسے صرف پالیسی کی کامیابیوں سے نہیں ناپا جاسکتا ۔ اب وقت آگیا ہے کہ وزیراعظم نریندر مودی اس بات پر سنجیدگی سے غور کریں کہ ہندوستان کے ایک نہیں بلکہ تین مرتبہ عہدہ وزارت عظمی پرفائز ہونے والی شخصیت کے طور پر تاریخ انہیں کس طرح یاد رکھے گی ۔ میں تقریباً بہت ساری ناراض آوازیں سن سکتا ہوں ۔ سوال یہ ہیکہ اب ان کی وراثت کی بات کیوں کی جارہی ہے ؟ ، ایسا کیا ہوگیا ہے کہ خاص و عام مودی کی وراثت کے بارے میں بات کرنے لگے ہیں ؟ وہ ابھی باھی 76 برس کے ہوئے ہیں یعنی ان کی عمر 76 سال ہوئی ہے ۔ 17 ستمبر کو سنگھ پریوار بالخصوص اس کے سیاسی ونگ بی جے پی کے لیڈروں اور کارکنوں نے ان کی 76 ویں سالگرہ منائی ۔ ویسے بھی دنیا میں ایسے کئی صدور، وزرائے اعظم گزرے ہیں جو ضعیف العمری میں بھی خدمات انجام دے چکے ے ہیں، مودی تو ابھی 76 برس کے ہوئے ہیں ۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی عمر 80 برس ہے، خود ہمارے ملک میں مرارجی دیسائی 81 برس کی عمر میں عہدہ وزارت عظمیٰ پرفائز تھے ۔ ملایشیا کے مہاتر محمد نے 92سال کی بڑی عمر میں بحیثیت وزیراعظم اپنی آخری معیاد کا آغاز کیا تھا ۔ یہ اور بات ہے کہ مہاتر محمد کو ملایشیا میں ایک بڑے سیاسی بحران کے نتیجہ میں دو سال بعد ہی استعفیٰ دینے پر مجبور ہونا پڑا تھا ۔ اس بحران کی وجہ یہ تھی کہ وہ اپنے نامزد جانشین کو اقتدار کی منتقلی کیلئے کوئی ٹائم لائن دینے سے گریز کررہے تھے ۔ جہاں تک مودی کی وراثت کا سوال ہے پہلے میںکچھ وضاحتیں پیش کرنا چاہتا ہوں ۔ راقم مودی کی وراثت کی بات اس لئے نہیں کررہا کہ انہوں نے 75 سال عمر کی حد مکمل کرلی ہے ، نہیں یہ حد غیر رسمی اور وقتی انتظام کے طور پر ایل کے اڈوانی ،مرلی منوہر جوشی اور بعض دیگر لیڈرو ں سے متعلق تھی ۔ مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ اور چیف منسٹر مہاراشٹرا دیویندر فڈنویس جو وزیراعظم مودی کے امکانی جانشینوں میں شمار کئے جاتے ہیں ، دونوں نے یہ اعلان کرنے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھی کہ نریندر مودی 2029 کے عام انتخابات کے بعد بھی حکومت کی قیادت کرتے رہیں گے ، ان کے اعلانات سے مودی کی عمر کا مسئلہ واضح ہوجاتا ہے ۔
بھاگوت کے ریمارکس : دوسری وضاحت یہ ہیکہ راقم آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت کے حالیہ ریمارکس سے متعلق اپوزیشن کے سازشی نظریات سے کسی بھی طرح اتفاق نہیں کرتا ۔ آپ کو بتاتا ہوں کہ موہن بھاگوت نے آحر کیا کہا تھا ۔ انہوں نے کچھ یوں کہا تھا ’’ جب ہم آج کے دور میں ایک لیڈر کے بارے میں سوچتے ہیں تو ہمارے سامنے ایک تصویر ابھرتی ہے جو تقاریر کررہا ہے ، انتخابات جیت رہا ہے ، لوگوں کو مشورے دے رہا ہے تجاویز و سفارشات پیش کررہا ہے ۔ اس سے بات نہیں بنتی قیادت یا لیڈر شپ کا مطلب لیڈر پیدا کرنا ہے ، صرف خود قیادت کرنا نہیں ہے ، اپوزیشن نے آر ایس ایس سربراہ کے اس بیان کو پکڑ لیا اور یہ سوال کرنا شروع کردیا کہ بھاگوت آخر کس لیڈر کی بات کررہے تھے لیکن آر ایس ایس سربراہ ایک عام بات کررہے تھی لیکن اپوزیشن نے اپنے طور پر آر ایس ایس سربراہ کے ریمارکس پر تشریح کی کہ سورج کا غروب ہونا یقینی ہے یعنی مودی نے اپنا عروج دیکھا اب ان کا زوال یقینی ہے، کیونکہ یہی قانون فطرت ہے کہ ہر عروج کا زوال ہے ۔ حقیقت یہ ہیکہ موہن بھاگوت نہ تو اپنے نظریاتی حریفوں پر سرعام طنز کرنے یا انہیں تنقید کا نشانہ بنانے کے عادی ہیں اور نہ ہی کسی ایسے سابق پرچارک کے بارے میں جس کا وزیراعظم کی کرسی تک پہنچنا اس ایک صدی قدیم تنظیم کیلئے ایک سنہرا دہا ثابت ہوا ہو ۔ اگر کسی آر ایس ایس سربراہ نے حقیقت میں کسی بی جے پی وزیراعظم کیلئے مشکلات پیدا کی تھیں تو وہ بھاگوت کے پیشرو سدرشن تھے جنہوں نے اس وقت کے وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی کو ایک مشکل صورتحال میں رکھنے کی کوشش کی تھی یہ اور بات ہیکہ سدرشن اپنی اُس کوشش میں کامیاب نہیں ہوئے جب سدرشن واجپائی کو راشٹرپتی بھون بھیج کر سیاسی طور پر غیر متعلق بنانے کی کوشش کررہے تھے ، تب بھی انہوں نے یہ کام انتہائی محتاط انداز میں کیا ۔
ونئے ستیا پتی نے اپنی کتاب Jugalbandi : The BJP Before Modi میں لکھتے ہیں کہ اپریل 2002 میں اس وقت کے آر ایس ایس سربراہ واجپائی کی قیامگاہ ایک تجویز لیکر پہنچے ، وہ تجویز یہ تھی کہ واجپائی ملک کے اگلے صدر جمہوریہ کیوں نہ بن جائیں اور اس وقت کے وزیرداخلہ اڈوانی کو عہدہ وزارت عظمی پر فائز کیوں نہ کردیا جائے ۔ اس کی اگلی صبح آر ایس ایس سربراہ نے ناشتہ پر اڈوانی سے ملاقات کی جب اڈوانی نے ان سے دریافت کیا کہ اس تجویز پر واجپائی کا ردعمل کیا تھا ، تب سنگھ پریوار کے سربراہ نے جواب دیا کہ انہوں نے ہاں کہا اور نہ انکار کیا ۔ اس لئے میرا خیال ہے کہ واجپائی نے میری تجویز کو مسترد نہیں کیا ۔ ونئے ستیاپتی مزید لکھتے ہیں کہ ان ملاقاتوں سے چند ہفتے قبل معروف صنعتکار دھیرو بھائی امبانی نے واجپائی سے ملاقات کی تھی اور انہیں بتایا تھا کہ ایل کے اڈوانی کے بعض قریبی صحافیوں نے انہیں واجپائی کے صدر جمہوریہ بننے کے بارے میں کیا بتایا تھا ۔ اس طرح واجپائی کو آر ایس ایس کے منصوبہ کا علم اس وقت ہی ہوگیا تھا جب آر ایس ایس سربراہ نے یہ تجویز ان کے سامنے رکھی بھی نہیں تھی ۔ ملاقات کے بعد واجپائی نے این ڈی اے کے اتحادی جماعتوں کو اس بات پر راضی کرلیا تھا کہ ہندوستان کے اگلے صدر جمہوریہ کے انتخاب کا فیصلہ وہ خود کریں گے ، یہی پس منظر تھا جس کے نتیجہ میں جولائی 2002ء میں میزائل میان آف انڈیا اے پی جے عبدالکلام ہندوستان کے صدر جمہوریہ بنے ۔ اس سے چند ہفتہ قبل جون کے اواخر میں واجپائی نے اڈوانی کو نائب وزیراعظم مقرر کردیا تھا ۔
بہرحال اپریل۔ مئی 2027 میں صدارتی انتخاب سے پہلے آر ایس ایس کے وزیراعظم مودی سے متعلق منصوبے کے بارے میںاس قسم کی قیاس آرائیوں اور اندازوں کیلئے تیار رہئے ۔ سچ کہوں تو فی الحال راقم اس منصوبہ کو قبول نہیں کررہا ، یہ مجھے تیسری وضاحت کی طرف لے آتا ہے ۔ میں وزیراعظم نریندر مودی کی وراثت کی بات اس لئے نہیں کررہا ہوں کہ میرے خیال میں وہ غیر مقبول ہورہے ہیں جیسا کہ اپوزیشن کا خیال ہے ، خاص طور پرطلبہ و نوجوانوں GEN-2 کے ملک گیر احتجاج کے بعد جیسا کہ ’ انڈیا ٹوڈے ‘ کے دو سالہ موڈ آف نیشن سروے سے ظاہر ہوتا ہے کہ مودی اب بھی عوام کی پسند کے لحاظ سے سب سے مقبول وزیراعظم ہیں ، اپنی پارٹی کے اندر اور باہر موجودہ ممکنہ حریفوں سے بہت آگے ہیں ۔ اکثر لوگوں کا خیال ہیکہ اگر بی جے پی اترپردیش کے اسمبلی انتخابات 2027 جیت جاتی ہے تو وزیراعظم نریندر مودی کی مقبولیت کے بارے میں جوشکوک و شبہات پیدا ہوئے ہیں وہ دور ہوجائیں گے لیکن میری رائے اس سے مختلف ہے ۔ اگر اترپردیش اسمبلی کے انتخابی نتائج چاہے بی جے پی کیلئے جیت ہو یا ہار ہرحال میں وزیراعظم مودی کیلئے حالات کو پیچیدہ بناسکتے ہیں ۔