یوکرین میں جنگ کی شروعات سے اب تک 346بچوں کی ہلاکت

,

   

تشدد کے سبب فرار ہونے والے بچوں کو خاندانی علیحدگی‘ تشدد‘ بدسلوکی‘جنسی استحصال‘اور اسمگلنگ کا خاصا خطرہ رہتا ہے۔
کیف۔ جب سے روس نے فبروری24کو کیف میں اپنی جاری حملہ کی شروعات کی ہے کم ازکم346بچے اس وقت سے اب تک یوکرین میں مارے گئے ہیں۔

پراسکیوٹر جنرل کے دفتر کی جانب سے جمعرات کے روز دی گئی تازہ جانکاری کے مطابق یوکریناسکاپرواڈا کی خبرہے کہ 645بچے زخمی بھی ہیں۔ تاہم اس دفتر کا کہنا ہے کہ اعداد وشمار حتمی نہیں ہیں‘ کیونکہ فعال دشمنی کی جگہوں اور عارضی طور پر مقبوضہ او رآزاد کرائے گئے علاقوں میں ڈیٹا قائم کرنے کاکام جاری ہے۔

ر وسی دستوں کی جانب سے مسلسل بمباری اور دھماکوں کے سبب یوکرین میں 2108تعلیمی ادارہ تباہ ہوگئے ہیں جس میں سے 215مکمل تباہی کاشکار ہیں۔

گذشتہ ماہ ایک رپورٹ میں یونسیف نے کہاتھا کہ یوکرین کے اندر 30لاکھ بچے اور پناہ گزین کی میزبانی کرنے والے ممالک میں 2.2ملین سے زائد بچے اب انسانی امداد کی ضرورت میں ہیں۔

اقوام متحدہ کی ایجنسی کے مطابق ہر تین میں سے دو بچے لڑائی کی وجہہ سے بے گھر ہوگئے ہیں۔

یونسیف نے مزیدخبردار کیاہے کہ جنگ نے بچوں کے تحفظ کا شدید بحران پیدا کردیاہے۔تشدد کے سبب فرار ہونے والے بچوں کو خاندانی علیحدگی‘ تشدد‘ بدسلوکی‘جنسی استحصال‘اور اسمگلنگ کا خاصا خطرہ رہتا ہے۔