40 ملین پاکستانیوں کے اکاؤنٹ کرپٹو کرنسی میں ہونے کا انکشاف

   

اسلام آباد ۔ 31 اگست (ایجنسیز) چیئرمین پاکستان ورچول اثاثہ ریگولیٹری اتھاریٹی بلال بن ثاقب کا کہنا ہے 40 ملین پاکستانیوں کے اکاؤنٹ کرپٹو میں ہیں۔ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے کابینہ سیکرٹریٹ کے اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے چیئرمین پاکستان ورچول اثاثہ ریگولیٹری اتھاریٹی بلال بن ثاقب نے بتایا کہ پوری دنیا کی مارکیٹ میں یہ ٹیکنالوجی چل رہی ہے، دبئی، تھائی لینڈ کی حکومتیں یہ کررہی ہیں، نوجوان اپنے آپ کو معاشی طور پر آزاد چاہتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ نوجوانوں نے پاکستان کی تیسری بڑی کرپٹو مارکیٹ بنا دی ہے، 40 ملین پاکستانیوں کے اکاؤنٹ کرپٹو میں ہیں، 8 سال تک اسٹیٹ بینک نے ڈیجیٹل اثاثے پر پابندی لگائے رکھی، ٹیکنالوجی پر پابندی لگاکر آپ اپنے آپ کو منجمد کر رہے ہوتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا ہم نے ورچوئل ایسٹ کی 2 بین الاقوامی کمپنیوں کو این او سی دیے ہیں، ہم نیکہا 5 ستمبر تک ورچوئل ایسٹ والے رجسٹریشن کرائیں ورنہ پابندی لگنا شروع ہو گی، پاکستان نے 5 ماہ میں یہ رجیم کھڑی کی ہے جو دنیا میں تیز ترین ہے، ریگولیشن میں بھارت سے آگے ہیں، پاکستان میں ورچوئل کا 250 بلین ڈالر کا حجم ہے، پاکستان میں ورچول کا 10 سے 20 ارب ڈالرز پیسہ ہے، 40 سال سے کم عمر لوگ اسے استعمال کر رہے ہیں۔
انڈیا نے ورچول اثاثہ پر 30 فیصد ٹیکس لگا دیا، ہم پاکستان میں ایسا نہیں کرنا چاہتے۔