اسمبلی انتخابات میں بی جے پی کی سیاسی چال

   

مسٹر پی چدمبرم
سابق مرکزی وزیر داخلہ
بجٹ سیشن یا بجٹ بحث کی تکمیل کے بعد 2 اپریل 2026 ء کو پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کا اجلاس ملتوی کردیا گیا اور دونوں ایوانوں کے اجلاس ایک صحیح وقت پر ملتوی کردیئے گئے کیونکہ آسام ، کیرالا اور مرکزی زیرانتظام علاقہ پڈوچیری کے اسمبلی انتخابات 9 اپریل کو مقرر تھے ( پڈوچیری میں رائے دہندوں کا خیرمقدم روبوٹ NILA نے کیا ، کیرالا میں 62 فیصد ، آسام میں 75.91 فیصد رائے دہی ہوئی ۔ کیرالا میں 2.71 کروڑ رائے دہندوں نے 883 امیدواروں کی قسمت کا فیصلہ کردیا ہے جس کا اعلان 4 مئی کو کیا جائے گا جبکہ آسام میں 2.50 کروڑ رائے دہندوں نے 722 امیدواروں کی قسمت کا فیصلہ کردیا ہے جس کے نتائج کا اعلاان بھی 4 مئی کو کیا جانے والا ہے ) ۔ آپ کو بتادیں کہ ٹاملناڈو اور مغربی بنگال کے اسمبلی انتخابات کیلئے پرچہ نامزدگیاں داخل کرنے کا آغاز 30 مارچ کو ہوا اور 23 اپریل کو رائے دہی ہوگی (جبکہ 29 اپریل کو مغربی بنگال میں رائے دہی کے دوسرے مرحلہ کا اہتمام کیا گیا ہے ) ۔
آپ کو بتادیں کہ مغربی بنگال میں عین ریاستی اسمبلی انتخابات سے قبل ایس آئی آر کا عمل شروع کیا گیااور اس کے پیچھے حکومت کی نیت اور ارادے ٹھیک نہیں بلکہ ایس آئی آر کا مقصد لاکھوں شہریوں کے ناموں کو فہرست رائے دہندگان سے حذف کرنا ہے ( اور ایسا ہی ہوا ۔ مغربی بنگال میں ایس آئی کے نام پر 91 لاکھ سے زائد رائے دہندوں کے نام فہرست رائے دہندگان سے حذف کردیئے گئے)۔
ایس آئی آر کے ذریعہ دھوکہ : حقیقت میں دیکھا جائے تو پارلیمنٹ میں کوئی ارجنٹ بزنس نہیں تھا جبکہ جو نامکمل ٹاسک تھا وہ چار ریاستوں اور مرکزی زیرانتظام علاقہ میں انتخابی عمل کو مکمل کرنا تھا جو فی الوقت جاری ہے جس کے بارے میں سوالات ضرور اُٹھ رہے ہیں کہ یہ انتخابی عمل مزید کسی غلطی کے جاری ہے یا نہیں ؟ جہاں تک ایس آئی آر کا سوال ہے یہ ایک غلط یا نقصان دہ عمل نہیں ہے بلکہ جان بوجھ کر یا اراداتاً عوام سے کیا گیا ایک دھوکہ ہے ، ایک شرارت ہے ۔ ایس آئی آر کے پیچھے جو نیت کار فرما ہے وہ دراصل لاکھوں ہندوستانی شہریوں کو اُن کے حق رائے دہی سے محروم کرنا ہے ( اس ضمن میں آپ انڈین ایکسپریس کی اشاعت مورخہ 22 مارچ 2026 ء میں شائع مضمون “Millions of Citizen non – voters” کا مطالعہ کرسکتے ہیں۔
ان انتخابات میں بے تکی سیاسی تقاریر ہورہی ہیں ۔ اشتعال انگیز اور نفرت پر مبنی بیانات دیئے جارہے ہیں جبکہ مغربی بنگال میں ایس آئی آر کے خلاف لڑائی ملک کی سب سے بڑی عدالت سپریم کورٹ میں لڑی جارہی ہے ۔ یہ بڑی بدبختی بلکہ بدقسمتی کی بات ہے کہ ایسا لگتا ہے کہ کسی نے بھی عدالت عظمیٰ کے علم میں یہ اہم بات نہیں لائی کہ ایس آئی آر کا جن ریاستوں میں اثر پڑا ہے ان میں ریاست کے اوسطاً 10 فیصد بالغ آبادی کے نام فہرست رائے دہندگان سے حذف کرکے اُنھیں اُن کے حق رائے دہی سے محروم کردیا گیا ۔ ایسی ریاستوں میں جنوبی ہند کی دو اہم ریاستیں ٹاملناڈو ، کیرالا کے ساتھ ساتھ مغربی بنگال بھی شامل ہیں۔
آخر یہ آئیڈیا کس کا ہے ؟ اس قسم کے آئیڈیئے اکثر بی جے پی قائدین کے ذہنوں میں ہی عود کر آتے ہیں اور یہ وہ قائدین ہیں جو انتخابات میں بی جے پی اور اُس کے امیدواروں کو کامیاب بنانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں ۔ تاملناڈو اور مغربی بنگال کوئی چھوٹی ریاستیں نہیں ہیں بلکہ تاملناڈو میں 234 رکنی اسمبلی اور مغربی بنگال میں 294 حلقے ہیں ۔ ان ریاستوں میں انتخابات سے قبل ہی ایس آئی آر کا ایک بڑا تنازع بننا ضروری تھا اور ایسا ہی ہوا ۔ مرکزی وزیر پارلیمانی اُمور نے صدر کانگریس کو دستور کی 106 ویں ترمیمی قانون پر عمل آوری کے موضوع پر بات کرنے کیلئے للکارا ۔
آپ کو بتادیں کہ 106 ویں ترمیم ایکٹ ستمبر2023 ء کے دوران پارلیمنٹ میں منظور ہوئی ہے اور اس ترمیم کو 30 ماہ تک حکومت نے بالکلیہ طورپر نظرانداز کردیا اور اب حکومت خواب غفلت سے اچانک بیدار ہوئی ، جواب میں مسٹر ملک ارجن کھرگے نے 29 اپریل کے بعد جبکہ مذکورہ چاروں ریاستوں اور مرکزی زیرانتظام علاقہ پڈوچیری میں ریاستی اسمبلیوں کا انتخابی عمل مکمل ہوجائے گا کل جماعتی اجلاس طلب کرنے کا مشورہ دیا ۔ اگر ہم مرکزی وزیر پارلیمانی اُمور کے مکتوب کاجائزہ لیتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ انھوں نے یہ مکتوب 26 مارچ کو لکھا اور جو بہت دلچسپ ہے ۔
بی جے پی اور اُس کی قیادت ہر مسئلہ پر سیاسی تنازع پیدا کرتے ہوئے اس کے سیاسی فوائد اور سیاسی مفادات حاصل کرنے کوشاں رہتی ہے چنانچہ یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ بی جے پی قیادت پارلیمنٹ میں خواتین کو تحفظات پر عمل آوری کیلئے آخر کب بیدار ہوگی ۔ بی جے پی صرف اور صرف اپنے مفادات کی تکمیل کیلئے پارلیمنٹ میں خواتین کیلئے تحفظات کے آئیڈیا پر عمل آوری کیلئے عرصہ سے پڑی خواب غفلت سے بیدار ہوگی یا ہوسکتی ہے اور وہ بھی اس صورت میں جب اسے اس میں اپنے مفادات کا تحفظ نظر آیا ۔
یہ بھی واضح کردیا گیا کہ پارلیمنٹ میں خواتین کو تحفظات پر 2029 ء کے بعد ہی عمل آوری کی جاسکتی ہے ۔ اس سے پہلے ایسا نہیں ہوسکتا ۔ ایوان میں خواتین کیلئے نشستیں محفوظ رکھنے یا تحفظات سے متعلق دستور کی دفعات میں واضح طورپر کہا گیا کہ اس پر حلقوں کی حدبندی کے بعد ہی عمل آوری کی جائے گی ۔ آپ کو یہ بھی بتادوں کہ اس بل میں آخر کس نے لفظ ’’بعد میں ‘‘ تین مرتبہ متعارف کروایا ؟ میں نے اسی نکتہ پر انڈین ایکسپریس میں شائع اپنے کالم میں بطور خاص روشنی ڈالی ہے ۔ اس مضمون کا عنوان بھی Reservation When After After After تھا ۔ یہ مضمون 24 ستمبر 2023 ء میں شائع ہوا جس میں ہم نے خواتین تحفظات بل پر عمل آوری کے بارے میں حکومت سے کئی سوالات کئے لیکن حکومت جوابات دینے کی بجائے بالکل خاموش رہی ۔