اوقافی جائیدادوں کے تحفظ اور اقلیتی امور پر مسلم ارکان اسمبلی کے ساتھ عنقریب اجلاس

   

اسمبلی میں بھٹی وکرمارکا کا تیقن، اکبر اویسی نے جامعہ نظامیہ کی اراضی کے ہراج کا مسئلہ اٹھایا، وقف بورڈ کی تشکیل جدید کا مطالبہ

حیدرآباد۔10۔ستمبر (سیاست نیوز) ڈپٹی چیف منسٹر بھٹی وکرمارکا نے اوقافی جائیدادوں کے تحفظ اور اقلیتوں کو درپیش دیگر مسائل پر عنقریب ارکان اسمبلی کا اجلاس طلب کرنے کا تیقن دیا۔ اسمبلی میں وقفہ سوالات کے دوران مجلس کے فلور لیڈر اکبر اویسی کے مطالبہ پر بھٹی وکرمارکا نے کہا کہ وزیر اقلیتی بہبود محمد اظہرالدین نے مجلسی رکن کی تجاویز کا نوٹ لیا ہے اور جلد ہی مسلم ارکان اسمبلی کا اجلاس طلب کرتے ہوئے تمام مسائل کی یکسوئی کے اقدامات کئے جائیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ جن مسائل کی نمائندگی کی گئی، ان کی یکسوئی کا اجلاس میں جائزہ لیا جائے گا۔ مجلس کے فلور لیڈر ا کبر اویسی نے ضمنی سوالات کے تحت اوقافی جائیدادوں کی تباہی اور خاص طور پر جامعہ نظامیہ کی اوقافی اراضی کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ میں اوقاری جائیدادوں کا برا حال ہے اور وقف جائیدادیں تباہ ہورہی ہیں۔ جامعہ نظامیہ کی اوقافی اراضی کو حکومت نے فروخت کردیا ہے۔ اس سلسلہ میں عدالت میں مقدمہ زیر دوران ہے۔ وقف اراضیات کے تحفظ کے لئے رجسٹریشن ایکٹ کی دفعہ 22A کی ممنوعہ فہرست میں شامل کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ درگاہ حضرت حسین شاہ ولیؒ اور درگاہ حضرت بابا شرف الدینؒ کی اوقافی اراضیات کا بھی یہی حال ہوا ہے۔ انہوں نے وقف بورڈ کی تشکیل جدید کا مطالبہ کیا اور کہا کہ نئے وقف ایکٹ کے تحت وقف بورڈ کا اجلاس طلب نہیں کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب بورڈ نہیں ہے تو پھر نیا بورڈ تشکیل دیا جانا چاہئے ۔ انہوں نے اقلیتی بہبود کے بجٹ کے خرچ کی صورتحال پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ تین ہزار کروڑ کے بجٹ میں محض 500 کروڑ خرچ کئے گئے۔ انہوں نے کہا کہ جاریہ سال فریضہ حج کی تکمیل کرنے والے حجاج کرام کے لئے چیف منسٹر نے فضائی کرایہ میں اضافہ کے طور پر فی کس 10,000 روپئے کا اعلان کیا تھا۔ چیف منسٹر کے اعلان کے باوجود آج تک رقومات جاری نہیں کی گئیں۔ انہوں نے مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں وقف کردہ حیدرآبادی رباطوں کے معاوضہ کو حاصل کرتے ہوئے نئی عمارتیں خریدنے کی تجویز پیش کی تاکہ دونوں مقدس مقامات پر حیدرآباد کے عازمین حج کو قیام کی سہولت رہے۔ اکبر اویسی نے کہا کہ درگاہ حضرت اسحاق مدنیؒ کی رقم سے نامپلی میں حج ہاؤز کی عمارت تعمیر کی گئی۔ حج کمیٹی کی جانب سے وقف بورڈ کو کرایہ نہیں دیا جاتا ہے۔ حج ہاؤز کی موجودہ عمارت میں کوئی مینٹننس نہیں ہے اور ٹائلٹس ابتر حالت میں ہیں۔ حج ہاؤز سے متصل عمارت تقریباً 15 سال سے استعمال میں نہیں ہے، اسے اقامتی اسکول ، ہیلت سنٹر ، یتیم خانہ یا اسٹڈی سنٹر کے طورپر استعمال کیاجاسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تجارتی اغراض کے لئے حوالے کرتے ہوئے کرایہ کی رقم اقلیتی بہبود پر خرچ کی جاسکتی ہے۔ انہوں نے ڈپٹی چیف منسٹر جو فینانس کے بھی وزیر ہیں ، اپیل کی کہ چیف منسٹر کے اعلان کے مطابق حجاج کرام کو فی کس 10 ہزار روپئے کی رقم جاری کریں۔1/k