اپوزیشن انڈیا اتحاد کا احتجاج

   

یہ کب سے تم معلم اخلاق بن گئے
ہم جانتے ہیں خوب ہی اپنا بھلا بُرا
ملک بھر میں ووٹ چوری کے الزام کے تحت اپوزیشن انڈیا اتحاد کی جماعتوں نے دہلی میں پیر کو جو احتجاج کیا اس نے ایک مثال قائم کردی ہے ۔ لاکھوں افراد اس احتجاج کیلئے امڈ آئے تھے جس سے پتہ چلتا ہے کہ ملک کے عوام میں بھی یہ مسئلہ کتنا اہمیت حاصل کرگیا ہے اور اس کو ملک کی اپوزیشن جماعتیں ‘ کانگریس کی قیادت میں ‘ منطقی انجام تک پہونچانے کی کوشش کر رہی ہیں۔ ویسے تو ووٹ چوری اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کی مبینہ غلط کاریوں کے خلاف 2 اکٹوبر سے ہی احتجاج کا سلسلہ شروع ہوگیا تھا ۔ جنترمنتر کے مقام کو عملا پولیس چھاؤنی میں تبدیل کرتے ہوئے پولیس کی جانب سے احتجاج کی اجازت نہیں دی گئی تھی ۔ ہزاروں افراد ‘ طلباء ‘ کارکن‘ وکلاء اور نوجوان سڑکوں پر اتر کر احتجاج کر رہے تھے ۔ پولیس کی طاقت کا استعمال کرتے ہوئے اس احتجاج کو کچلنے کی کوشش بھی مسلسل جاری تھی ۔ ملک کے کچھ دوسرے شہروں میں بھی یہ احتجاج شروع ہوا ہے اور وہاں بھی لوگ اس مسئلہ پر اپنی ناراضگی کا اظہار کر رہے ہیں ۔ جہاں تک شہر دہلی کی بات ہے وہ اب حکومت کے خلاف احتجاج کا مرکز بن گیا ہے ۔ انڈیا اتحاد کی جماعتوں نے پہلے بھی احتجاج کیا تھا ۔ جنتر منتر تک مارچ کی کوشش کی گئی تھی ۔ الیکشن کمیشن تک پہونچنے کی کوشش کی گئی تھی ۔ راج گھاٹ پہونچ کر خراج عقیدت پیش کیا گیا تھا اور کل بھی ریلی منظم کرتے ہوئے اپوزیشن نے اپنے جذبات و احساسات کا اظہار کیا ہے ۔ انڈیا اتحاد کی دوسری جماعتوں نے بھی اس احتجاج کا حصہ بننے کو ترجیح دی اور خاص بات یہ ہے کہ طلباء تحریک کا چہر ہ بن چکیں آل انڈیا اسٹوڈنٹس اسوسی ایشن کی صدر نیہا بورا بھی اس احتجاج میں پورے جوش و خروش کے ساتھ شریک رہیں۔ مختلف تنظیموں کے کارکن اور سماجی جہد کار بھی اس کا حصہ رہے ۔ اس طرح یہ بات واضح ہوگئی ہے کہ یہ محض کوئی سیاسی لڑائی یا تحریک نہیں ہے بلکہ یہ ملک کے عوام کی لڑائی ہے ‘ جمہوری حق کی لڑائی ہے اور اس میں سماج کے تقریبا تمام اہم طبقات اپنا سرگرم رول ادا کر رہے ہیں۔
یہ ضرورکہا جاسکتا ہے کہ ملک کے عوام اب اس حقیقت کو سمجھنے لگے ہیں کہ ان کے ووٹ واقعی چوری ہورہے تھے ۔ ایس آئی آر کے نام پر 13 کروڑ افراد کے نام ووٹر لسٹ سے خارج کرنا کوئی معمولی بات نہیں ہوسکتی ۔ کروڑوں کی آبادی کو ووٹ کے حق سے محروم کرنا کوئی اتفاقی عمل نہیں ہوسکتا بلکہ یہ ایک جامع اور سوچی سمجھی ہوئی سازش ہے جس پر عمل کرتے ہوئے ایک مخصوص سوچ اور نظریہ کو لاگو کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔ بات صرف 13 کروڑ ووٹرس پر رکی نہیں ہے ۔ ملک کی جن ریاستوں میں ایس آئی چل رہا ہے یا ہونے والا ہے وہاں بھی کئی ووٹ حذف کئے جاسکتے ہیں۔ یہ تعداد اور بھی زیادہ ہوسکتی ہے ۔ ایسے میں اپوزیشن جماعتوں نے جو احتجاج شروع کیا ہے اسے بالکل عوام سے جوڑے رکھا ہوا ہے ۔ کسی سیاسی جماعت نے کل کئے گئے احتجاج میں اپنا پارٹی پرچم بلند نہیں کیا ہے بلکہ ترنگا لہرایا گیا ہے ۔ اس طرح یہ پیام دینے کی کوشش کی گئی ہے کہ یہ کوئی سیاسی لڑائی نہیں ہے بلکہ ملک کے عوام کے جمہوری حق کی لڑائی ہے اور کو مخصوص سوچ کے ساتھ جوڑنا درست نہیں ہوسکتا ۔ ہندوستان کی جمہوریت ساری دنیا میں مثالی جمہوریت ہے ۔ ہم دنیا کی خوبصورت ترین جمہوریت میں رہتے ہیں اور ہمارے ہی ملک میں اگر جمہوری عمل کو متاثر کرنے یا جمہوری حق سے عوام کو محروم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے تو یہ کسی کیلئے بھی قابل قبول کوشش نہیں کہی جاسکتی ۔
انڈیا اتحاد نے تاحال ایک موثر ڈھنگ سے اور انتہائی پرامن طریقے سے اس احتجاج کو آگے برھایا ہے جبکہ احتجاج کو سبوتاج کرنے کیلئے غنڈہ عناصر کا استعمال بھی کیا گیا ہے لیکن ابھی تک احتجاج کو متاثر کرنے کی کوئی کوشش کامیاب نہیں ہوسکی ہے ۔ آئندہ بھی اس طرح کی مذموم کوششیں ہوسکتی ہیں اور اس سلسلہ میں چوکس رہنے کی ضرورت ہے ۔ احتجاج کو ہمیشہ پرامن بنائے رکھنا چاہئے اور کسی کو بھی اس کا استحصال کرنے کا موقع فراہم نہیں کیا جانا چاہئے ۔ عوام اس احتجاج کے ساتھ ہیں اور ان کا اعتماد اہمیت کا حامل ہے ۔