روش کمار
اسرائیل و امریکہ کی جانب سے ایران پر مسلط کردہ جنگ ایک ماہ مکمل کرچکی ہے۔ وائیٹ ہاؤس کی ترجمان مذاکرات میں شامل شخصیتوں کے قتل پر فخر کا اظہار کررہی ہے اور صدر ٹرمپ بمباری کے ویڈیوز جاری کررہے ہیں۔ مشرق وسطیٰ کے ملکوں میں اتنی بمباری ہورہی ہے جس کے بارے میں جان کر انسانیت میں یقین رکھنے والا ہر شخص لرز کر رہ جاتا ہے لیکن اس بار وہاں رہنے والے ہندوستانیوں کو لیکر رپورٹس بہت کم آرہی ہے۔ آپ کو بتادیں کہ خلیجی ملکوں میں ایک کروڑ سے زائد ہندوستانی باشندے مقیم ہیں، برسرروزگار ہیں اور ہر سال اربوں ڈالرس ترسیلات روانہ کرتے ہیں۔ بہرحال ہم آپ کو بتارہے تھے کہ خلیجی ملکوں میں ایک کروڑ سے زائد ہندوستانی مقیم ہیں۔ ایسے میں ہندوستان میں موجود ان کے ماں باپ بھائی بہنوں، بیوی بچوں اور دوستوں کا پریشان ہونا فطری بات ہے۔ اس بار جنگ کے درمیان مودی حکومت کا کوئی وزیر قطر، دوبئی دورہ کیوں نہیں کررہا ہے۔ ہندوستانی باشندوں کو روس۔ یوکرین جنگ کے دوران واپس ملک لانے کیلئے جو اقدامات کئے گئے تھے ان کے ویڈیوز دیکھ کر یہ سوال آپ کے ذہن میں ابھی تک کیوں نہیں آئے۔ خلیجی ملکوں میں ایک کروڑ ہندوستانی باشندے رہتے ہیں اور ایک ویڈیو وہاں سے نہ آئے تعجب ہوتا ہے۔ قانون ہیکہ کسی نے ویڈیو بھیجا تو جیل، ان حالات میں کوئی ویڈیو نہیں بھیج رہا ہے۔ خلیجی ملکوں میں رہنے والے ہندوستانی باشندے ڈرون کے حملوں سے ڈرے رہتے ہیں یا جیل جانے کے ڈر سے نہ کوئی گودی چیانل وہاں سے دھواں دار رپورٹنگ کررہا ہے۔ ہندوستان پر اتنا بڑا اثر ہے اور ہندوستان میں چرچا معمولی ہے۔ اسرائیل کی پارلیمنٹ نے ایسا قانون پاس کیا کہ اس کی جیلوں میں بند فلسطین کے ان لوگوں کو پھانسی دی جائے جن پر کسی اسرائیل کے قتل کے الزامات ہیں۔ ایسے معاملوں میں پھانسی ہی ڈیفالٹ سزا مانی جائے گی۔ جب یہ قانون منظور ہوا تب پارلیمنٹ کے وسط میں ارکان شراب کی بوتل لئے کھڑے تھے یہ کیسا ملک ہوگیا جو ایک ساتھ ایران، لبنان پر حملہ کررہا ہے۔ اس سے پہلے دو سال تک غزہ پر بمباری کرتا رہا آج بھی کررہا ہے۔ اب اس کے درمیان فلسطینی قیدیوں کو پھانسی پر لٹکائے گا۔ ملزم کو کسی سے ملنے کی اجازت نہیں رہے گی اور سزا سنانے کے 90 دن کے اندر پھانسی دے دی جائے گی۔ اسرائیل میں پھانسی کی سزا بہت مشکل سے دی جاتی ہے۔ آخری بار 1962ء میں وہاں پھانسی کی سزاء دی گئی تھی لیکن اس قانون کے مطابق عدالت کو بھی اختیار دیا گیا ہیکہ وہ اپنے شہریوں یعنی اسرائیلیوں کو بھی پھانسی کی سزا دے سکتی ہے۔ پھانسی کے قانون پر اسپیکر رونے لگی اور ارکان پارلیمنٹ شراب کی بوتلیں لیکر ناچنے لگے۔ اس کے بعد بھی لیڈران انسانیت پر تقایر کرتے ہیں۔ وہ آپ سن بھی لیتے ہیں کھوکھلا کون ہوگیا ہے جو شامپین کی بوتل لے کرناچ رہا ہے یا جو ان تمام کو ناچتے ہوئے دیکھ رہا ہے۔ ابھی تو کہانی شروع ہوئی۔ اس دنیا کو جنگ میں جھونک کر ٹرمپ آپ کو کبھی ذہنی تناؤ میں دکھائی نہیں دیں گے۔ ان کے فرزند ایریک ٹرمپ نے ایک ویڈیو ٹوئیٹ کیا کہ ٹرمپ کی یاد میں بننے والی لائبریری فلوریڈا کے میامی میں بن رہی ہے۔ ایران پر ہزاروں ٹن بموں کی بارش کرنے والے ٹرمپ کے نام پر لائیری بن رہی ہے ۔ یہ ویڈیو AI کے استعمال سے بنایا لگتا ہے۔ ان کے بیٹے ایریک ٹرمپ نے ٹوئیٹ کیا۔ اس عمارت کودیکھ کر ہندوستانی ناظرین سے اپیل ہیکہ سہم نہ جائیں باہر سے یہ کتنا بھی اچھا ہوا لیکن اندر داخل ہونے پر یہ مال کی شکل اختیار کرلیتی ہے۔ ٹرمپ کے شوق کا تصور آپ دیکھ سکتے ہیں۔ لائبریری کو ایرپورٹ بنادیا گیا ہے۔ ان کی میعاد مکمل ہونے کے بعد اُس طیارہ کو یہاں رکھا جائے گا جسے قطر نے بطور تحفہ پیش کیا۔ جنگ کے درمیان شان و شوکت کا ایسا مظاہرہ کیا جارہا ہے۔ امریکہ میں روایت ہے کہ سابق صدر کی یاد میں لائبریری بنتی ہے جہاں ان سے جڑے دستاویز رکھے جاتے ہیں۔ ایک طرف عالیشان لائبریری جہاں دنیا پڑھے گی لکھے گی اور دوسری طرف غزہ کے یہ ویڈیو جو بچے پڑھ سکتے تھے ان کے گھر کھنڈرات میں بتدیل کردیئے گئے۔ اسکولوں پر بم گرائے گئے۔ اب تو فلوریڈا کا پام بیچ ایرپورٹ کا نام بدل کر پریسیڈنٹ ڈونالڈ جے ٹرمپ ایرپورٹ رکھا جانے والا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ دوسری جنگ عظیم کے بعد سے یہ دنیا پیٹ پکڑ اکڑو بیٹھی تھی کہ کب ٹرمپ جیسا کوئی آئے گا جو بم گرائے گا، ظلم ڈھائے گا اور لوگوں کے اندر کی ساری بیماریوں، برائیوں کو خوبصورتی کی شکل دے گا۔ دنیا کو یہی تماشہ پسند ہے۔ ٹرمپ تماشہ دکھا رہے ہیں۔ ٹرمپ کو صرف ٹرمپ کی نظر سے مت دیکھئے ان کے آس پاس کے لوگوں کی نظر سے بھی دیکھئے۔ بہت قسمت سے بہت سارے لوگ ایک جگہ جمع ہوتے ہیں۔ جنگ کے کوریج سے گذرنا ناظرین یا تماشہ بین کیلئے مشکل صورتحال ہوتی ہے جو روبیو کل تک جنگ کے پیروکار تھے وکالت کررہے تھے آج ہتھیاروں کے خلاف بیانات دے رہے ہیں۔ امریکہ کو نہیں ایران کو دے رہے ہیں۔ امریکہ کے سکریٹری آف اسٹیٹ مارکو روبیو نے کہا اگر ایران اپنے ہتھیاروں پر پیسے خرچ نہیں کرتا لوگوں پر خرچ کرتا تو ان کا کتنا بھلا ہوتا۔ یہ بات سن کر دل ایسے متاثر ہوگیا جیسے بنا گیس کے ہی چولہے پر چاول رکھ دیا گیا ہو۔ اگر امریکہ ہتھیاروں پر خرچ نہیں کرتا جنگ نہیں کرتا تو اس کے لوگ سڑکوں پر نہیں سوتے۔ دنیا کے لوگوں کا گھر نہیں اجڑتا روبیو اور ٹرمپ الیکشن سے پہلے یہی سب کہا کرتے تھے مگر اب جنگ کو درس قرار دے رہے ہیں۔ انہوں نے شعبہ تعلیم کی فنڈنگ بند کردی اور جنگ کی وجہ سے امریکہ میں نوکریاں جانے لگیں۔ امریکہ کے کوسٹ گارڈس کے ٹوئیٹر ہینڈل پر یہ نوٹس چسپاں ہے کہ اس ہینڈل کو اپ ڈیٹ نہیں کیا جائے گا کیونکہ فنڈنگ بند ہوگئی۔ رپورٹ ہے کہ ریپبلکن پارٹی کے لیڈران ہیلتھ بجٹ میں کٹوتی کرنے کے بارے میں سوچ رہے ہیں تاکہ ایران کی جنگ اور امیگرنٹس کے خلاف کارروائی کرنے کیلئے 200 ارب ڈالرس کا اضافی فنڈ نکالا جاسکے۔ عام امریکیوں کے ہاسپٹل بل بڑھاکر ایران میں جنگ لڑی جارہی ہے۔ ایران کو لکچر دیا جارہا ہیکہ ہتھیاروں پر خرچ نہیں کرتا لوگوں پر خرچ کرتا تو اس کا بھلا ہوتا۔ اس طرح سے ٹرمپ امریکہ کو گریٹ بنارہے ہیں۔ روبیو کے بعد ٹرمپ کے وزیر جنگ کا کارنامہ بھی جان لیجئے۔ فینانشیل ٹائمس کی ایک رپورٹ کے مطابق پہلے وزیر جنگ کے بروکر نے ڈیفنس فنڈ خریدنے کی کوشش کی۔ ذرائع کے حوالے سے رپورٹ ہوا ہیکہ 28 فبروری کے حملے سے کچھ ہفتہ پہلے پٹھ ہیگستھ کے بروگر مورکن نے بلیک را سے رابطہ کیا کہ ہیگستھ ہتھیاروں کی کمپنی ڈیفنس انڈسٹریل ایکٹیو میں کئی ملین ڈالرس سرمایہ مشغول کرنا چاہتے ہیں۔ پچھلے ایک سال میں IDEF فنڈ 28 فیصد بڑھا لیکن ایران جنگ کے بعد سے 13 فیصد گر گیا۔ اگر یہ الزآم درست ہے تو اس کا مطلب ہیگستھ نے مبینہ طور پر اپنے عہدہ کا فائدہ اٹھانے کی کوشش کی ہوگی۔ اس خبر پر پنٹگان کی طرف سے مذمت کی گئی ہے۔ وزارت دفاع کے ترجمان نے مطالبہ کیا ہیکہ فینانشیل ٹائمس فوری اس رپورٹ کو واپس لے۔ اس بارے میں اسرائیل سے بھی خبریں شائع ہورہی ہیں کہ وہاں کی فوج بھیانک طریقہ سے جنگ پر Betting کررہی ہے جوا کھیل رہی ہے۔ اسرائیل میں جواری صحافیوں کو دھمکارہے ہیں کہ اگر انہوں نے ایران کی میزائل حملہ کی رپورٹ نہیں کی تو جان سے مار ڈالیں گے۔