بنگال میں افرا تفری کیوں ؟

   

نفرت کی کسوٹی پہ کسَے جائوگے ہمدم
اِس دور میں غمخوار تو پائے نہیں جاتے
ملک کی چار ریاستوں اور ایک مرکزی زیر انتظام علاقہ پڈوچیری میں اسمبلی انتخابات چل رہے ہیں۔ ان تمام ریاستوں میں انتخابی سرگرمیاں پوری شت کے ساتھ چل رہی ہیں۔ سیاسی جماعتیں اور امیدوار عوام کی تائید و حمایت حاصل کرنے اور ان کے ووٹ لینے کی جدوجہد میں جٹ گئے ہیں۔ انتخابی مہم کے دوران کوئی کسر باقی نہیں رکھی جا رہی ہے اور ایک دوسرے کو نشانہ بنانے سے بھی کوئی جماعت یا امیدوار گریز نہیں کر رہے ہیں۔ سبھی کی کوشش یہی ہے کہ زیادہ سے زیادہ تعداد میں عوام کے ووٹ حاصل کئے جائیں اور اقتدار کے گلیاروں تک رسائی حاصل کی جاسکے ۔ ویسے تو ہر ریاست کے انتخابات کی اپنی اہمیت ہوتی ہے اور اس کے ذریعہ ریاستی حکومت کا انتخاب کیا جاتاہے تاہم سیاسی اعتبار سے اس بار کے جو انتخابات ہیں ان میں سب سے زیادہ اہمیت مغربی بنگال کے اسمبلی انتخابات کی ہے ۔ یہاں تین معیادوں سے ممتابنرجی کی قیادت میں ترنمول کانگریس کو اقتدار حاصل ہے ۔ تین مرتبہ بھی بی جے پی نے اقتدار حاصل کرنے کی جدوجہد کی تھی تاہم اسے کوئی کامیابی حاصل نہیں ہوپائی تھی ۔ بی جے پی چوتھی بار پوری طاقت جھونک کر ریاست میں اقتدار حاصل کرنا چاہتی ہے اور اس کیلئے کسی بھی حد تک جانے کیلئے تیار دکھائی دیتی ہے ۔ بی جے پی کی جانب سے ریاست میں ماحو ل کو بگاڑنے سے بھی گریز نہیں کیا جا رہا ہے ۔ فرقہ وارانہ جذبات کو ہوا دی جا رہی ہے اور منافرت پھیلانے پر بھی خاص توجہ دی جا رہی ہے ۔ اس کے علاوہ ریاست میں بدامنی کے حالات اور سیاسی افرا تفری بھی پیدا کی جا رہی ہے ۔ ان ساری کوششوں کا واحد مقصد ریاست میں اقتدار حاص کرنا ہے ۔ جس طرح سے مرکزی بی جے پی حکومت کی مخالفت ممتابنرجی کی جانب سے کی جاتی ہے بی جے پی اس کو ختم کرنا چاہتی ہے ۔ بی جے پی کی قومی سطح پر بھی سب سے بڑی رکاوٹ ممتابنرجی ہی دکھائی دے رہی ہیں۔ اس کے علاوہ اپوزیشن کے انڈیا اتحاد میں یہ بھی تاثر عام ہونے لگا ہے کہ ممتابنرجی کو قومی سطح پر نریندر مودی کی متبادل کے طور پر پیش کیا جانا چاہئے ۔ بی جے پی اسی مخالفت کو ختم کرنے کیلئے بنگال میں ممتا کو شکست دینا چاہتی ہے ۔
یہی وجہ ہے ریاست میں افرا تفری کا ماحو ل پیدا کردیا گیا ہے ۔ بی جے پی خود تو ساری طاقت جھونک کر انتخابات میں مقابلہ کر رہی ہے اور ہر ہتھکنڈہ استعمال کیا جا رہا ہے ساتھ ہی ہمایوں کبیر جیسے اپنے سابقہ قائدین کو بھی میدان میں چھوڑ چکی ہے تاکہ مسلم ووٹ بینک کو تقسیم کرتے ہوئے سیاسی فائدہ حاصل کیا جاسکے ۔ ہمایوں کبیر اور ان کے ساتھیوں کی جانب سے بھی جو بیان بازیاں کی جا رہی ہیں وہ ریاست کے سیاسی ماحول پر منفی اثر ہی ڈالنے کی وجہ بن سکتی ہیں اور بی جے پی اس کے ذریعہ سیاسی فائدہ حاصل کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے ۔ بنگال میں انتہائی معمولی باتوں کو بھی بڑا مسئلہ بنا کر پیش کیا جا رہا ہے ۔ بدامنی کی کیفیت کو عام کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے اور ترنمول کانگریس کا الزام ہے کہ بی جے پی ریاست میں اسمبلی انتخاب سے قبل ہی صدر راج نافذ کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے تاکہ انتخابی دھاندلیاں پورے دھڑلے سے کی جاسکیں اور اقتدار پر کسی طرح سے قبضہ کیا جاسکے ۔ جمہوری طور پر ممتابنرجی کا مقابلہ کرنا بی جے پی کیلئے اب بھی آسان نہیں ہے کیونکہ ریاست کے حالات پر ممتابنرجی کی گرفت کافی مضبوط ہے اور ریاست کے عوام بھی ان کی تائید کرتے ہیں۔ ایسے میں بی جے پی حالات کو بگاڑ کر ‘ بے چینی اور بدامنی کی کیفیت پیدا کرتے ہوئے ووٹ تقسیم کرنے کی پالیسی اختیار کر رہی ہے اور وہ اپنے پرانے ہمدردوں کو بھی میدان میں اتار چکی ہے اور ان کے ذریعہ بھی اقلیتی ووٹوں کو تقسیم کرنے اور اکثریتی ووٹوںکو مجتمع کرنے کی پالیسی پر عمل کر رہی ہے ۔
بی جے پی کو بھی اس بات کا احساس ہے کہ اگر ممتا بنرجی کو اس بار بھی بنگال میں کامیابی حاصل ہوجائے تو قومی سطح پر بی جے پی کیلئے مشکلات میں اضافہ ہوسکتی ہے ۔ ممتابنرجی پوری طاقت اور شدت کے ساتھ بی جے پی کی مخالفت اور مودی کو روکنے کیلئے میدان میں کود سکتی ہیں۔ بی جے پی اسی وجہ سے ممتابنرجی کو روکنا چاہتی ہے ۔ وہ آئندہ پارلیمانی انتخابات میں مودی کے راستے کی رکاوٹوں کو ابھی سے دور کرنا چاہتی ہے ۔ بنگا ل کے عوام کو اس حقیقت کو ذہن نشین رکھتے ہوئے اپنے ووٹ کا استعمال کرنا چاہئے ۔ ریاست میں بدامنی اور افرا تفری پھیلانے والوں اور منفی سوچ کے ساتھ کام کرنے والوں کو کامیاب ہونے کا موقع نہیں دیا جانا چاہئے ۔