شہر کے مندروں میں اشتعال انگیز پوسٹرس، مخالف ہندو پارٹیوں کو ووٹ نہ دینے کی اپیل
حیدرآباد ۔ 8 ۔ اپریل (سیاست نیوز) بی جے پی کو سیاسی طور پر فائدہ پہنچانے اور تلنگانہ میں 10 لوک سبھا حلقوں پر کامیابی کے نشانہ کے ساتھ سنگھ پریوار نے اپنی مہم میں شدت پیدا کردی ہے۔ انتخابات کے دوران مذہبی مقامات کے استعمال پر پابندی ہے لیکن غیر محسوس طریقہ سے حیدرآباد کے مندروں میں بی جے پی کے حق میں مہم چلائی جارہی ہے۔ شہر کی کئی مندروں میں سیوا سنگھ کے نام سے پوسٹرس چسپاں کئے گئے جس میں یہ عہد کیا جارہا ہے کہ کسی بھی مخالف ہندو پارٹی یا امیدوار کو ووٹ نہیں دیا جائے گا۔ تحریر میں اس بات کا عہد لیا جارہا ہے کہ اگر امیدوار قریبی ساتھی یا رشتہ دار ہی کیوں نہ ہو لیکن مخالف ہندو ہونے پر ووٹ نہیں دیا جائے گا ۔ یہ پہلا موقع ہے جب انتخابی مہم بالواسطہ طور پر مندروں میں داخل ہوچکی ہے اور اشتعال انگیز پوسٹرس کے ذریعہ ہندو رائے دہندوں کو بی جے پی کی تائید کیلئے راغب کیا جارہا ہے ۔ مندروں کے باب الداخلہ پر لگائے گئے پوسٹرس عوام میں بحث کا موضوع بن چکے ہیں۔ پوسٹرس میں اس بات کا عہد کیا جارہا ہے کہ اپنے اپنے علاقوں میں صد فیصد رائے دہی کو یقینی بنایا جائے گا ۔ پوسٹرس پر تحریر کے ذریعہ ہندو ووٹ بینک کو بی جے پی کے حق میں مستحکم کرنے کی مہم چلائی جارہی ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ مذہبی مقامات پر اس طرح کی سرگرمیوں کی اجازت نہیں دی جانی چاہئے کیونکہ مذہب ہر شخص کا انفرادی معاملہ ہے اور اسے انتخابات سے نہیں جوڑا جاسکتا۔ مشیر آباد کی مندر کے پجاری رمنا چاری نے بتایا کہ انہوں نے مندر میں لگائے گئے قابل اعتراض پوسٹرس کو فوری نکال دیا ۔ ان کا کہنا ہے کہ مندر عبادت کی جگہ ہے اور اسے سیاسی سرگرمیوں کیلئے استعمال نہیں کیا جاسکتا۔ پجاری نے کہا کہ مذہب کے نام پر عوام کو تقسیم کرنے کی کوششیں افسوسناک ہیں۔1