ترقی کے دعوے اور عوامی بدحالی

   

وزیر اعظم نریندر مودی نے ایک ویڈیو پیام جاری کرتے ہوئے دعوی کیا ہے کہ ہندوستان نے 7.8 فیصد کی شرح سے ترقی کی ہے ۔ وزیر اعظم نے یہ دعوی کیا ہے کہ ایک ایسے وقت میں جبکہ دنیا بھر میں معاشی بدحالی کا عروج ہے ۔ کئی ممالک میں حالات ابتر ہوتے چلے جا رہے ہیں۔ کورونا کے بعد سے اب تک دنیا بھر کے حالات میں کوئی سدھار نہیں آیا ہے ۔ اس کے باوجود ہندوستان تیز رفتاری سے ترقی کر رہا ہے ۔ وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ہندوستان کے آس پاس کے ممالک کی حالت بھی ابتر ہے اور وہاں بھی معاشی سرگرمیاں متاثر ہو کر رہ گئی ہیں۔ ہندوستان نے تاہم سبھی مشکلات کو پار کرتے ہوئے ترقی کیا سفر طئے کیا ہے ۔ ان کا دعوی تھا کہ ملک نے 7.8 فیصد کی شرح سے ترقی کی ہے جو سارے ملک کیلئے ایک اچھی علامت ہے ۔ وزیر اعظم نے ساتھ ہی یہ اپیل بھی دہرائی کہ ملک کے عوام بیرونی ممالک کے سفر سے گریز کریں۔ اگر وہ بیرونی ممالک میں شادیک رنا چاہتے ہیں تو اس سے بھی گریز کیا جائے اور وکست بھارت کے خواب کو یقینی بنانے کیلئے بلا ضرورت سونا خریدنے سے بھی فی الحال رک جائیں۔ ایک ہی بیان میں وزیر اعظم نے دو متضاد باتیں کی ہیں۔ اگر واقعی ملک اس شرح سے ترقی کر رہا ہے تو پھر ملک کے عوام کو بیرونی سفر اور سونا خریدنے سے روکنے کی وجہ سمجھ سے باہر ہی کہی جاسکتی ہے ۔ وزیر اعظم نے بالواسطہ طور پر راہول گاندھی پر تنقید کی ۔ قائد اپوزیشن کا نام لئے بغیر انہوں نے کہا کہ کچھ جھوٹ کی گونج چلائی جا رہی ہے کہ ملک میں حالات درست نہیں ہیں اور معاشی مشکلات کا اندیشہ ظاہر کیا جا رہا ہے ۔ اگر واقعی ملک میں معاشی مشکلات کے اندیشے لاحق نہیں ہیں تو پھر بیرون ملک سفر اور سونا خریدنے سے رکنے کی اپیل بے معنی ہو کر رہ جاتی ہے ۔ وکست بھارت کی جو بات ہے تو یہ خواب بھی اسی طرح کا ہے جس طرح کا دو کروڑ ملازمتوں کا تھا ۔ یہ بھی اسی طرح کا خواب ہے کہ ملک میں 100 اسمارٹ شہر بنائے جائیں گے ۔ یہ خواب بھی اسی طرح کا ہے کہ ہر شہری کے کھاتہ میں 15 لاکھ روپئے آئیں گے ۔
ہندوستان بھر کے آج جو حالات ہیں وہ سب کے سامنے ہیں۔ جہاں حکومت کی جانب سے تیز رفتار ترقی کے دعوے کئے جا رہے ہیں تو اس بات کا بھی جواب دینا چاہئے کہ ملک کے عوام بدحالی کا شکار کیوں ہو رہے ہیں۔ مہنگائی کی وجہ سے عوام کو جو مشکلات پیش آ رہی ہیں وہ ناقابل بیان کہی جاسکتی ہیں۔ پکوان گیس سے لے کر تیل تک ‘ پٹرول سے لی کر ڈیزل تک ‘ دالوں سے لی کر چاول تک ‘ ادویات سے لے کر چینی تک ہر شئے مہنگی ہوتی چلی جا رہی ہے جبکہ عوام کی آمدنی میں کوئی اضافہ نہیں ہو رہا ہے ۔ اس کے علاوہ حکومت کی جانب سے ملازمتوں کی فراہمی بالکل بھی بند ہے ۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ خانگی شعبہ میں بھی بڑی کمپنیوں کی جانب سے مسلسل ملازمتوں میں تخفیف کی جا رہی ہے ۔ مصنوعی ذہانت کے نام پر عملہ کی تعداد گھٹائی جا رہی ہے ۔ انہیں دوسرے روزگار تلاش کرنے کو کہا جا رہا ہے ۔ عوام ضرورت کی ہر شئے کیلئے اضافی پیسے ادا کرنے پر مجبور کئے جا رہے ہیں اور اس جانب توجہ دینے کیلئے حکومت تیار ہی نہیں ہے ۔ عام آدمی کو راحت پہونچانے کی بجائے زی نیٹ ورک کے بانی سبھاش چندرا کے 22 ہزار کروڑ روپئے کے بھاری قرضہ کو محض ساڑھے چھ کروڑ میں ختم کردیا گیا ہے ۔ اس سے حکومت کے ایجنڈہ کا پتہ چلتا ہے جبکہ یہ سبھاش چندرا وہی ہیں جن کو بی جے پی ارکان اسمبلی نے تائید کرتے ہوئے ہریانہ سے راجیہ سبھا کیلئے انتخاب میں مدد کی تھی ۔
دیہی علاقوں کے عوام کی مشکلات بھی بے تحاشہ ہوگئی ہیں۔ انہیں بھی ضروریات زندگی کی تکمیل کیلئے پہلے سے زائد مشکل حالات کا سامنا ہے ۔ مڈل کلاس طبقہ سب سے زیادہ متاثر ہے ۔ سفید پوشی کا بھرم رکھنے کی کوشش میں اس کی کمر ٹوٹ رہی ہے ۔ نہ ضروریات زندگی کا سامان قابل رسائی ہے نہ علاج عوام کیلئے سستا ہے ۔ ملک واقعی ترقی کر رہا ہے تو پھر حکومت کو یہ جواب دینا چاہئے کہ اس ترقی کے ثمرات محض کارپوریٹس تک کیوں محدود ہیں اور عوام کو اس کے ثمرات سے محروم کیوں رکھا جا رہا ہے ۔