شکایتیں نظرانداز، کام چلانے کی ہدایت، اولیائے طلبہ اور سرپرستوں میں ناراضگی
حیدرآباد۔23۔اگسٹ(سیاست نیوز) تلنگانہ اقلیتی اقامتی اسکولوں میں غیر معیاری انتظامات کے بعد اب غیر معیاری یونیفارمس کی شکایات بھی موصول ہونے لگی ہیں اور کہا جارہاہے کہ تعلیمی سال 2026-27 کے لئے تاخیر سے پہنچنے والے یونیفارمس کے معیار کے سلسلہ میں جو شکایات موصول ہورہی ہیں ان شکایات کو اعلیٰ عہدیداروں کی جانب سے نظر انداز کرتے ہوئے ’کام چلانے‘ کی ہدایت دی جا رہی ہے ۔ ذرائع کے مطابق جن کمپنیوں کے ذریعہ اقامتی اسکولوں کے یونیفارمس تیار کروائے گئے ہیں ان کمپنیوں کا اعلیٰ عہدیداروں نے دورہ کرتے ہوئے فوری طور پر یونیفارمس کی اجرائی کے سلسلہ میں دباؤ ڈالتے ہوئے یونیفارمس حاصل کرنے میں کامیابی حاصل تو کی ہے لیکن یونیفارمس کے پارچہ اور سلوائی کے علاوہ سائز کے متعلق کئی شکایات کے بعد طلبہ ان یونیفارمس کے استعمال سے انکار کرنا شروع کردیا ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ ریاست تلنگانہ کے بیشتر تمام اقامتی اسکولوں کے یونیفارمس ایک ہی کمپنی کے ذریعہ حاصل ہوئے ہیں لیکن اقلیتی اقامتی اسکولوں کو جو یونیفارمس حاصل ہوئے ہیں ان کے معیار سے متعلق موصول ہونے والی شکایات کو نظرانداز کرنے کی پالیسی اختیار کرنے کی ہدایت دی جار ہی ہے اور اقامتی اسکولوں کے ذمہ داروں کو کہا جارہاہے کہ وہ یونیفارمس کے معیار کے متعلق شکایت کرنے کے بجائے طلبہ کو ان ہی یونیفارمس سے کام چلانے کی تاکید کریں اور ان شکایات کو منظر عام پر آنے سے روکنے کے اقدامات کریں۔ ذرائع کے مطابق بیشتر تمام اسکولوں کے ذمہ داروں کو اس بات کی ہدایت دی گئی ہے کہ وہ طلبہ کو فراہم کئے جانے والے یونیفارمس میں پائی جانے والی خامیوں کا تذکرہ کرنے کے بجائے ان والدین کو جو یہ شکایات کر رہے ہیں انہیں خاموش کروانے کے اقدامات کریں ۔اقلیتی اقامتی اسکولوں میں خدمات انجام دینے والے ذمہ داروں اور عملہ کا کہناہے کہ اعلیٰ عہدیداروں کو اس بات سے واقف کروانے پر انہیں واضح طور پر کہہ دیا گیا ہے کہ وہ یونیفارمس کے موصول ہونے کی تصدیق کریں اور دیگر معاملات میں اپنی مداخلت سے گریز کریں جبکہ والدین اور طلبہ کی جانب سے یونیفارمس کے سائز ‘ کپڑے کے معیار اور سلوائی پر کئے جانے والے اعتراضات کے باوجود کسی بھی طرح کی کاروائی کی یا سپلائی کرنے والوں کے خلاف شکایت کا موقف فراہم نہیں کیا جارہاہے جس کے نتیجہ میں یونیفارمس حاصل کرنے والے ذمہ داروں اور اقامتی اسکولوں کے خلاف کاروائی کا والدین کے پاس اختیار حاصل رہے گا اور وہ ان کی شکایت کرنے کے مجاز ہوں گے۔3