ہماری ریاست تلنگانہ میں 25 جون سے ایس آئی آر کا عمل شروع ہونے والا ہے ۔ اس کے تفصیلی شیڈول سے بھی عوام کو واقف کروادیا گیا ہے ۔ ایس آئی آر کے باضابطہ آغاز سے قبل عوام میں شعور بیدار کرنے میں بھی کوئی کسر باقی نہیں رکھی گئی ہے ۔ مختلف مقامات پر ہیلپ ڈیسک قائم کرتے ہوئے عوام کی رہنمائی کی گئی ہے اور انہیںایس آئی ار کی تفصیلات سے واقف کرواتے ہوئے ضروری امور سے واقف کروایا گیا ہے ۔اب جبکہ ایس آئی آر کا عمل باضابطہ طور پر شروع ہو رہا ہے یہاں سے عوام کی خود اپنی ذمہ داری بھی شروع ہو رہی ہے ۔ اس معاملے میں کسی طرح کی لاپرواہی یا کوتاہی مستقبل میں بے شمار مسائل کو دعوت دینے کا سبب بن سکتی ہے ۔ جس طرح سے ملک کی مختلف ریاستوں میں ایس آئی آر کا عمل کرتے ہوئے لاکھوں کی تعداد میں رائے دہندوں کے نام حذف کئے گئے ہیں اسی طرح کے اندیشے تلنگانہ میں بھی لاحق ہیں اور کہا جا رہا ہے کہ تلنگانہ میں بھی لاکھوں ووٹرس کے نام فہرست رائے دہندگان سے حذف ہوسکتے ہیں۔ ایسے میں ضروری ہے کہ ہر ووٹر اپنے اور اپنے افراد خاندان کے ناموں کی شمولیت پر خاص توجہ دے ۔ جو کچھ بھی دستاویزات درکار ہیں انہیں تیار کرلیا جائے ۔ جو فارم پر کرنے کو دیا جائے گا اس کا بغور جائزہ لیا جائے ۔ اس کو اطمینان سے پڑھا جائے ۔ اس کو سمجھا جائے اور پھر بالکل درست انداز میں فارم کی خانہ پری کی جائے ۔ کسی بھی مسئلہ میں لاپرواہی نہیں برتی جانی چاہئے ۔ جب بی ایل اوز گھروں پر آئیں تو کسی طرح کی جلد بازی سے گریز کیا جائے اور اطمینان کے ساتھ اپنے ذمہ کے کام پورے کئے جائیں ۔بی ایل اوز کی جانب سے طلب کئے جانے والے دستاویزات فوری طور پر فراہم کئے جائیں اور آخری وقتوں تک اس عمل کی نگرانی کی جائے اور وقفہ وقفہ سے جائزہ لیتے ہوئے ناموں کی شمولیت کو یقینی بنانا چاہئے ۔ یہ بات ذہن نشین رکھنی چاہئے کہ لاپرواہی ہرگز نہیں کی جانی چاہئے ۔
مسلمانوں اور دیگر پسماندہ طبقات کو اس معاملے میں زیادہ چوکس رہنے کی ضرورت ہے ۔ خود چیف منسٹر تلنگانہ اے ریونت ریڈی ‘ دیگر وزراء اور کانگریس قائدین بارہا ان اندیشوں کا اظہار کرچکے ہیں کہ ایس آئی آر کے ذریعہ مسلمانوں اور پسماندہ طبقات کے ناموں کو حذف کرنے کی سازش ہوسکتی ہے ۔ بی آر ایس کے ورکنگ صدر کے ٹی راما راؤ بھی ان اندیشوں کا اظہار کرچکے ہیں کہ ایس آئی آر کے نام پر مسلمانوں اور دیگر پسمادنہ طباقت کے نام ووٹر لسٹ سے حذف کئے جاسکتے ہیں۔ یہ اندیشے بے بنیاد بھی نہیں ہیں کیونکہ ملک کی جن ریاستوں میں ایس آئی آر کا عمل ہوچکا ہے وہاں تمام دستاویزات رکھنے کے باوجود لاکھوں افراد کے نام ووٹر لسٹ سے خارج کردئے گئے ہیں ۔ ان کی دوبارہ شمولیت کیلئے بارہا کوششیں کرنے کے باوجود بھی ناکامی ہاتھ آئی ہے ۔ جو نام حذف کئے گئے ہیں ان کی تعداد معمولی بھی نہیں ہے بلکہ لاکھوں کی تعداد میں نام حذف کئے جاچکے ہیں۔ ایسے میں تلنگانہ میں تمام ووٹرس اور خاص طور پر مسلمانوں اور اقلیتوں کو چوکس رہنے کی ضرورت ہے ۔ کسی اور پر انحصار کرنے اور خود لاپرواہی برتنے کے نتائج سنگین ہوسکتے ہیں۔ اپنے اور اپنے اہل خانہ اور رشتہ داروں اور پڑوسیوں کے ناموں کی شمولیت کیلئے ہر شہری کو ذمہ دارانہ رول نبھانے کی ضرورت ہے اور جہاں کہیں کوئی مسئلہ ہو سیاسی قائدین سے مدد لی جاسکتی ہے ۔
الیکشن کمیشن کا عملہ ہو یا پھر بی ایل اوز ہوں انہیں بھی لاپرواہی اور تن آسانی سے کام نہیں لینا چاہئے ۔ یہ ملک کی جمہوریت اور مستقبل کا مسئلہ ہے ۔ اس کام کو انتہائی ذمہ داری کے ساتھ اور پوری دیانتداری کے ساتھ انجام دیا جانا چاہئے ۔ جہاں کہیں رائے دہندوں میں معلومات کی کمی پائی جائے تو ان کی صبر و تحمل کے ساتھ رہنمائی کی جانی چاہئے ۔ انہیں اپنے دستاویزات پیش کرنے اور ضروری امور کی تکمیل کیلئے پورا پورا موقع دیا جانا چاہئے ۔ جلد بازی سے گریز کرتے ہوئے پورے کام کو اطمینان بخش انداز میں انجام دیا جانا چاہئے ۔ سیاسی جماعتوں کو بھی اس معاملے میں عوام کی مدد کیلئے چوبیس گھنٹے دستیاب رہنا چاہئے اور بوتھ سطح کے کارکنوں کو اس کی ذمہ داری سونپی جانی چاہئے ۔