تلنگانہ کابینہ میں تین نشستیں مخلوعہ ، جاریہ ماہ توسیع اور تبدیلی کی قیاس آرائیاں

   

اسمبلی اجلاس کے بعد ریونت ریڈی کا دورہ دہلی ،دعویدار ارکان اسمبلی کی سرگرمیوں میں شدت،کارکردگی کی بنیاد پر انتخاب
حیدرآباد۔4۔ستمبر (سیاست نیوز) تلنگانہ کابینہ سے کونڈا سریکھا کی برطرفی کے بعد ریاستی کابینہ میں توسیع کی قیاس آرائیاں تیز ہوچکی ہیں۔ وزارت میں شمولیت کے دعویداروں اور خواہشمندوں نے حیدرآباد سے دہلی تک اپنی سرگرمیوں کو تیز کردیا ہے تاکہ کابینہ میں کسی بھی صورت میں شمولیت حاصل کرسکیں۔ ریاستی اسمبلی کی عددی طاقت کے اعتبار سے 18 رکنی کابینہ تشکیل دی جاسکتی ہے۔ چیف منسٹر ریونت ریڈی کے بشمول ریاست میں 16 رکنی کابینہ کام کر رہی تھی اور دو نشستیں خالی تھیں۔ کونڈا سریکھا کی برطرفی کے بعد مخلوعہ وزارتی نشستوں کی تعداد بڑھ کر تین ہوچکی ہے۔ کابینہ میں خواتین کی نمائندگی گھٹ کر دو سے ایک ہوگئی اور ڈی انوسویا سیتکا واحد خاتون وزیر باقی ہیں۔ چیف منسٹر ریونت ریڈی کی ہائی کمان کے قائدین سے ملاقات کے بعد حیدرآباد واپسی کے ساتھ ہی قیاس آرائیاں کی جارہی ہیں کہ جاریہ ماہ کے اواخر تک کابینہ میں توسیع اور تبدیلی کی جاسکتی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ پارٹی ہائی کمان نے کارکردگی کی بنیاد پر بعض وزراء کو علحدہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ نئے چہروں کو شامل کیا جاسکے۔ مخلوعہ تین نشستوں کو پُر کرنے کے علاوہ مزید تین وزراء کی علحدگی کے امکانات ظاہر کئے جارہے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ آئندہ اسمبلی انتخابات سے قبل یہ آخری توسیع رہے گی اور یہی کابینہ اسمبلی انتخابات کا سامنا کرسکتی ہے۔ وزارت میں شمولیت کیلئے جو نام کانگریس حلقوں میں گشت کر رہے ہیں، ان میں صدر پردیش کانگریس مہیش کمار گوڑ ، اسپیکر تلنگانہ اسمبلی جی پرساد کمار ، گورنمنٹ وہپ اے سرینواس ، بالو نائک ، رامچندر نائک ، راج گوپال ریڈی ، مال ریڈی رنگا ریڈی ، پریم ساگر راؤ اور دوسرے شامل ہیں۔ کانگریس ہائی کمان نے راج گوپال ریڈی سے کابینہ میں شمولیت کا وعدہ کیا ہے اور توقع ہے کہ مجوزہ توسیع میں انہیں شامل کیا جائے گا۔ وزارت میں خاتون نمائندگی بڑھ کر تین ہوسکتی ہیں ، اس کے علاوہ دلت اور پسماندہ طبقات سے نمائندگی دی جائے گی۔ کونڈا سریکھا کی برطرفی سے پارٹی پر پڑنے والے اثرات کا جائزہ لیتے ہوئے ہائی کمان امکانی وزراء کے ناموں کو قطعیت دے گا۔ تلنگانہ اسمبلی اور کونسل کا اجلاس 7 ستمبر سے شروع ہورہا ہے۔ توقع ہے کہ یہ اجلاس تین یا چار دن کا رہے گا جس کے بعد چیف منسٹر ریونت ریڈی نئیدہلی روانہ ہوں گے۔ اس مرتبہ ہائی کمان سے ملاقات کا واحد ایجنڈہ کابینہ میں توسیع اور تبدیلی رہے گا۔ اطلاعات کے مطابق راہول گاندھی نے ریونت ریڈی کو ہدایت دی ہے کہ وہ انتخابات سے قبل ایسی وزارت تشکیل دیں جو پارٹی کی دوسری مرتبہ کامیابی میں اہم رول ادا کرسکے۔ ناقص کارکردگی اور بدعنوانیوں کے الزامات کا سامنا کرنے والے وزراء کو تبدیل کرنے کی ہائی کمان نے تیاریاں کرلی ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ چیف منسٹر وزراء کی کارکردگی پر مشتمل رپورٹ کے علاوہ عوام میں مقبول ارکان اسمبلی کی فہرست بھی ہائی کمان کو پیش کریں گے۔ تلنگانہ انچارج میناکشی نٹراجن نے بھی وزراء کی کارکردگی پر ہائی کمان کو علحدہ رپورٹ حوالے کی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ خاتون نمائندگی کے طور پر فلمسٹار وجئے شانتی کا نام بھی ہائی کمان کے زیر غور ہے۔ طبقاتی نمائندگی کو ملحوظ رکھتے ہوئے تلنگانہ کی کابینہ میں توسیع کی جائے گی۔1/k