مختلف ممالک کی کئی لڑکیوں کو آزاد کرالیا گیا، سائبر آباد پولیس کی کارروائی
حیدرآباد۔ 6 ڈسمبر (سیاست نیوز) سائبر آباد پولیس نے جسم فروشی کے ایک بڑے بین الاقوامی ریاکٹ کو بے نقاب کردیا۔ 17 افراد کو گرفتار کرتے ہوئے ان کے چنگل سے 14,190 لڑکیوں اور خواتین کو آزاد کروایا جن میں ازبکستان۔ روس۔ تھائی لینڈ ۔ نیپال اور بنگلہ دیش کی لڑکیاں ہیں جبکہ ملک کی ریاستوں کرناٹک، آسام، مغربی بنگال، آندھرا پردیش، تلنگانہ کے علاوہ ممبئی و دہلی سے تعلق رکھنے والی لڑکیاں بھی شامل ہیں۔ لڑکیوں کو ملازمت کا جھانسہ دے کر انہیں جسم فروشی میں جھونکا جارہا تھا۔ ایک پریس کانفرنس کے دوران کمشنر پولیس سائبر آباد اسٹیفن رویندرا نے بتایا کہ بین الاقوامی سطح کے ریاکٹ کو بے نقاب کردیا گیا ہے۔ گرفتار 17 افراد میں اصل سرغنہ ارتو بھی شامل ہے۔ 17 افراد میں 10 بروکرس اور 7 اصل ملزمین ہیں۔ ان کا جال پورے ملک میں پھیل چکا تھا جو باضابطہ ویب سائٹس اور واٹس ایپ کے ذریعہ لڑکیوں کو سربراہ کررہے تھے اور ان کی آڑ میں منشیات کا کاروبار بھی چلایا جارہا تھا۔ پولیس نے کارروائی کے دوران ان کے قبضہ سے ایم ڈی ایم اے کو بھی ضبط کرلیا۔ اصل سرغنہ ارتو سال 2019 سے اس کاروبار میں ملوث ہے جس نے 850 لڑکیوں کو قحبہ گیری کے کاروبار میں جھونک دیا۔ ریاست تلنگانہ کے کریم نگر اور آندھرا پردیش کے اننت پور سے اس نے اپنی سرگرمیاں شروع کیں۔ شہر کے تینوں کمشنریٹ رچہ کنڈہ، سائبر آباد، حیدرآباد میں منشیات اور لڑکیوں کا کاروبار اس نے شروع کیا۔ بڑے ہوٹلس سے اس کا رابطہ رہا اور ہوٹلس کو بکنگ کا باضابطہایک نٹ ورک قائم کرلیا تھا۔ہر قسم کی لڑکیوں کے لئے ویب سائٹ کے ذریعہ سلاٹ بکنگ سسٹم تھا۔ ضرورت پڑنے پر ہوائی جہاز کے ذریعہ لڑکیوں کوسپلائی کیا جاتا تھا۔ بیرونی ممالک ازبکستان، روس، تھائی لینڈ اورنیپال کی لڑکیوں کو بھی منتقل کرتے ہوئے ان کے ذریعہ زور و شور سے کاروبار کیا جارہا تھا۔ اس ٹولی کا نٹ ورک ملک کے 15 بڑے شہروں میں تھا ان کے خلاف 39 مقدمات درج ہیں۔ کال سنٹر اور واٹس ایپ کے ذریعہ کسٹمرس کو لڑکیاں سربراہ کی جاتی تھیں اور ملک و ریاست کے لحاظ سے ہر لڑکی کی ایک قیمت مقرر کرلی گئی تھی۔ جسم فروشی کے ذریعہ حاصل ہونے والی آمدنی کا 35 فیصد حصہ اشتہارات، ویب سائٹ کے اخراجات کے لئے مختص تھا۔ 30 فیصد جسم فروش لڑکیوں کو اور 35 فیصد آرگنائزر کا حصہ ہے۔ لڑکیوں کو روزگار کا جھانسہ دے کر انہیں منتقل کیا جاتا اور جسم فروشی کے ذریعہ بھاری رقومات کا لالچ دے کر انہیں اس کاروبار میں جھونک دیا جاتا ہے۔ لڑکیوں کو منتقل اور انہیں منتخب کرنے والے اور انہیں سپلائی کرنے والوں کی ایک چین بنائی گئی تھی۔ حیدرآباد کے علاوہ بنگلورو اور دہلی سے کال سنٹرس چلائے جا رہے تھے۔ واٹس اپ کے گروپ تیار کئے گئے تھے اور ہر گروپ 300 آرگنائزرس پر مشتمل تھا۔ ان خاطیوں کے خلاف کوکٹ پلی، میاں پور، مادھاپور اور گچی باؤلی میں 5 مقدمات درج ہیں جبکہ سابق میں 90 مقدمات درج کرنے کی اطلاع ہے۔ کمشنر پولیس نے بتایا کہ گزشتہ ماہ سلمان عرف وویک اور عرفان عرف وکاس کی گرفتاری کے بعد پولیس نے اینٹی ہیومن ٹریفکنگ اور ویمن سیفٹی ونگ کو متحرک کیا۔ تحقیقات کے دوران پولیس کی ٹیموں نے اس کیس کی نوعیت کو بھانپ لیا اور تحقیقات کے ذریعہ اس بین الاقوامی جسم فروشی کے ریاکٹ کو بے نقاب کیا۔ کمشنر پولیس نے بتایا کہ وشنو عرف شرنا سائی، سدھیر عرف سائی گنگادھری، فیاض عرف ونود، رشی عرف سلمان، افسر عرف ساحل، شلیندر پرساد عرف سلیم، عدیم عرف ارتو، ابھئے عرف ارتب عرف اروا عرف نکھل سمبر، ہربیندر کور عرف سمرن کور عرف انیکا، سلمان عرف وویک، عرفان عرف ویکاس، رفیق خان عرف سیام، جوگیشور راؤ عرف نانی، سائی بابو گوڑ عرف لکی اور کوڈی سرینواس کو گرفتار کرلیا۔ اس کے علاوہ پولیس نے ریڈسن ہوٹل کے مینجر راکیش کو بھی گرفتار کرلیا۔ انہوں نے بتایا کہ اس کیس میں مزید گرفتاریاں کی جائیں گی اور گرفتار افراد کے خلاف پی ڈی ایکٹ نافذ کیا جائے گا۔ اس موقع پر سائبر آباد پولیس کے دیگر اعلیٰ عہدیدار موجود تھے۔ ع