کوئی چلا سکے نہ یہ کوئی رُکا سکے
چلتا ہوا خدائی کا یہ کاروبار ہے
مشرق وسطی میں جنگ بندی بظاہر نافذ تو ہے تاہم ایسا لگتا ہے کہ فریقین کی جانب سے اس جنگ بندی کی مہلت کو بات چیت کے ذریعہ مستقل جنگ بندی کیلئے استعمال کرنے کی بجائے جنگ کی تیاریوں کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے ۔ امریکہ کی جانب سے لگاتار دھمکیوں کا سلسلہ بھی جاری ہے ۔ خود ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے مسلسل ایسی دھمکیاں دی جا رہی ہیں جن کے نتیجہ میں بات چیت کے عمل کو نقصان ہورہا ہے اور ایران ‘ امریکہ پر یقین اور بھروسہ کرنے کیلئے تیار نہیں ہے ۔ جس وقت دو ہفتوں کیلئے جنگ بندی کا اعلان کیا گیا تھا تو ساری دنیا نے راحت کی سانس لی تھی اور یہ امید کی جا رہی تھی کہ جنگ بندی کو مستقل کرنے کیلئے پندرہ دن کی مہلت کے دوران بات چیت کی جائے گی اور کچھ تجاویز کے تبادلے عمل میں لائے جائیں گے ۔ پندرہ دن کی مہلت ختم ہوگئی تاہم اس میں صدر امریکہ ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے توسیع کا اعلان بھی کردیا گیا تھا ۔ اس جنگ بندی کی کوئی مہلت مقرر نہیں کی گئی تھی ۔ اس وقت بھی یہ امید پیدا ہوگئی تھی کہ بات چیت ہوگی ۔ ایک موقع پر ایران کی جانب سے بات چیت کیلئے رضامندی ظاہر نہیں کی گئی تھی تو دوسری بار امریکہ نے اپنے وفد کو بھیجنے سے گریز کیا ۔ بات چیت پوری طرح سے تعطل کا شکار ہے حالانکہ یہ دعوے بھی کئے جا رہے ہیں کہ در پردہ بات چیت ہور ہی ہے ۔ تاہم اس کی تفصیلات سامنے نہیں آ رہی ہیں بلکہ امن کی توقعات کے برخلاف جنگ کے دوبارہ شروع ہونے کے اندیشے لاحق ہونے لگے ہیں۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ مسلسل ایسے بیانات دے رہے ہیں جن میں ایران کیلئے واضح دھمکیاں ہیں ۔ کبھی فوجی ساز و سامان مشرق وسطی کو بھیجا جا رہا ہے تو کبھی اسرائیل کو ہتھیاروں کے کھیپ روانہ کئے جا رہے ہیں۔ کبھی بات چیت کیلئے امریکہ تیار رہنے کی بات کی جا رہی ہے تو کبھی ایران کے خلاف بڑے پیمانے پر فوجی کارروائیوںکا دوبارہ آغاز کردینے کی بات بھی کی جا رہی ہے ۔ اس طرح یہ صورتحال بالکل غیر واضح ہے اور کسی ایک پہلو کی سمت پیشرفت ہوتی دکھائی نہیںدے رہی ہے ۔ اب یہ اندیشے پیدا ہونے لگے ہیںکہ آیا واقعی جنگ بندی کی گئی ہے یا پھر دوبارہ جنگ شروع کرنے کیلئے مہلت حاصل کی گئی تھی ۔
ایران کا جہاں تک سوال ہے تو وہ لگاتار یہ کہتا رہا ہے کہ امریکہ پر پوری طرح سے بھروسہ نہیں کیا جاسکتا ۔ ایران بات چیت کیلئے اپنی جانب سے تجاویز بھی روانہ کر رہا ہے ۔ درمیان میں پاکستان کی موجودگی سے استفادہ کرتے ہوئے تجاویز بھیجی جا رہی ہیں لیکن امریکہ ان تجاویز کو قبول کرنے کیلئے تیار نظر نہیںآتا ۔ ایران کے وزیر خارجہ نے دوسرے دور کی بات چیت کے امکانات کے دوران پاکستان کے ایک سے زائد مرتبہ دورے کئے ۔ اومان کا دورہ بھی کیا اور وہ صدر ولادیمیر پوٹن سے بات چیت کیلئے روس بھی گئے تھے ۔ روسی صدر نے بھی جنگ بندی میں مدد کرنے کا تیقن دیا تھا ۔ ان سب کے باوجود بات چیت شروع ہونے کے آثار دکھائی نہیں دے رہے ہیں اور اس کے برخلاف جنگ دوبارہ شروع ہوجانے کے اندیشے تقویت پانے لگے ہیں۔ یہ صورتحال ساری دنیا کیلئے اچھی نہیںکہی جاسکتی ۔ اس کے نتیجہ میں ساری دنیا میںمسائل پیدا ہونے کے اندیشے مزید تقویت پار ہے ہیں۔ آبنائے ہرمز کا مسئلہ اب بھی جوں کا توں ہی ہے ۔ امریکہ کی جانب سے ایرانی بندرگاہوں کا بحری محاصرہ جاری ہے ۔ ایران بھی دوسرے ممالک کے تجارتی بحری جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گذرنے کی اجازت نہیں دے رہا ہے ۔ دنیا بھر میں تیل کی سپلائی متاثر ہوگئی ہے ۔ مشکلات کے باوجود آبنائے ہرمز پار کرنے کی کوشش کرنے والے جہازوں پر حملے ہو رہے ہیں۔ انہیں یرغمال بنایا جا رہا ہے یا پھر انہیں واپس بھیجا جا رہا ہے ۔ یہ ساری صورتحال کچھ اچھی علامت نہیں کہی جاسکتی اور اس پر فوری طور پر توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔
امریکہ کو اپنے موقف میں لچک پیدا کرنے کی ضرورت ہے ۔ اب تک یہ واضح ہوچکا ہے کہ ایران دھمکیوں اور طاقت کے استعمال سے جھکنے والا نہیں ہے ۔ دنیا کا مسلمہ اصول ہے کہ جنگ صرف تباہی کا ذریعہ بن سکتی ہے اور اس کے ذریعہ مسائل کو حل نہیں کیا جاسکتا ۔ خود امریکہ کو بھی جنگ کی وجہ سے بھاری اخراجات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔ دنیا بھر میں زندگیوںپر اس جنگ کے اثرات مرتب ہونے لگے ہیں۔ اس صورتحال میںضروری ہے کہ دنیا کی بڑی طاقتیں امریکہ پر اثر انداز ہوں ۔ بات چیت کی حوصلہ افزائی کی جائے ۔ دونوںفریقین کے مابین اعتماد بحال کرنے کیلے اقدامات کئے جائیں اور مستقل جنگ بندی کو یقینی بنایا جائے ۔ غیر یقینی کیفیت کی وجہ سے دنیا کے حالات سدھرنے کی بجائے مزید بگڑ رہے ہیں اور زیادہ عرصہ تک غیر یقینی کیفیت دنیا میں کسی کے مفاد میں نہیںہوسکتی ۔
کمرشیل گیس کی قیمتوں میںاضافہ
مرکزی حکومت نے کمرشیل گیس کی قیمتوں میں بھاری اضافہ کرتے ہوئے عوام کو بڑا جھٹکا دیا ہے ۔ یہ دعوی کیا جا رہا ہے کہ کمرشیل گیس کی قیمتوں میںاضافہ سے عوام پر کوئی بوجھ عائد نہیںہوگا کیونکہ گھریلو پکوان گیس کی قیمتیں بڑھائی نہیں گئی ہیں۔ تاہم یہ ایک حقیقت ہے کہ کمرشیل گیس کی قیمتوں میں اضافہ کے نتیجہ میں بھی عوام پر راست یا بالواسطہ طور پر بوجھ ہی عائد ہوگا ۔ کمرشیل گیس کے استعمال کے بعد عوام کے استعمال کی اشیاء ہی مہینگی ہونے والی ہیں۔ قیمتوں میںجو 30 تا 35 فیصد اضافہ کیا گیا ہے وہ بھی بہت بھاری اضافہ ہی کہا جاسکتا ہے ۔ اس کے نتیجہ میں جہاں ہوٹلوں ‘ ریسٹورنٹس وغیرہ کے بلوں میں اضافہ ہوگا وہیں عوام کی قوت خرید بھی متاثر ہوگی اور اس کے نتیجہ میں تجارت پر بھی منفی اثرات مرتب ہونگے ۔ کمرشیل گیس کی قیمتوں میںاضافہ کے بعد پٹرول ‘ ڈیزل اور پکوان گیس کی قیمتوں میں بھی اضافہ کے اندیشے تقویت پانے لگے ہیں۔ حکومت کو چاہئے کہ وہ عوام پر راست مالی بوجھ منتقل کرنے کی بجائے متبادل امکانات پر غور کرے کیونکہ ملک کے عوام کی مالی حالت پہلے ہی سے متاثر ہے اور مزید بوجھ برداشت کرنے کے عوام متحمل نہیں ہوسکتے ۔