جنگ میں ایران کا غیر متزلزل موقف

   

ایک کہانی وقت لکھے گا نئے مضمون کی
جس کی سرخی کو ضرورت ہے تمہارے خون کی
ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ کو ایک ماہ سے زیادہ کا وقت ہوگیا ہے ۔ جو جنگ اس اندازہ کے ساتھ یا اس جھانسہ کے ساتھ شروع کی گئی تھی کہ چند دنوں میں ہی حذف پورے ہوجائیں گے وہ ایک ماہ سے زیادہ عرصہ سے جاری ہے اور اس کے فوری طور پر خاتمہ کے بھی کوئی آثار نظر نہیںآرہے ہیں اور خود امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ آئندہ دو تا تین ہفتوں میں ایران کے خلاف مزید شدت سے حملے کرتے ہوئے اسے پتھر کے دور میںڈھکیل دیا جائے گا ۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ امریکہ کو بھی اندازہ ہے کہ یہ جنگ مزید کم از کم ایک ماہ اور چل سکتی ہے ۔ اسرائیل نے امریکہ کو یہ جھانسہ دیا تھا کہ چند دنوں میں اس جنگ کو پورا کیا جاسکتا ہے اور ایرانی قیادت کا صفایا کرنے کے بعد وہاں اپنی مرضی کی کٹھ پتلی حکومت قائم کی جاسکتی ہے ۔ امریکہ اور اسرائیل ایران کی اعلی قیادت کو شہید تو کرچکے ہیں تاہم ایران اس جنگ میں انتہائی استحکام کے ساتھ کھڑا ہے اور اس کا جو تاحا ل موقف ہے وہ انتہائی غیر متزلزل دکھائی دے رہا ہے ۔ ایران نے جس حوصلے کا مظاہرہ کیا ہے وہ خود امریکہ اور اسرائیل کیلئے بھی غیر متوقع ہی کہا جاسکتا ہے اور اس کے نتیجہ میں جنگ طوالت اختیار کرتی چلی جا رہی ہے ۔ اس جنگ نے نیا کے سامنے امریکہ کے موقف کو کمزور کردیا ہے اور امریکہ کی جو سوپر پاور کی امیج تھی وہ داو پر لگ چکی ہے ۔ صدر ٹرمپ ایک مضحکہ خیز لیڈر قرار پانے لگے ہیں۔ ان کے جو لگاتار بیانات ہیں وہ مذاق کا موضوع بن رہے ہیں۔ ٹرمپ کبھی انتہائی جارحانہ انداز میں سخت ترین حملے کرنے کی دھمکیاں دے رہے ہیں تو کبھی وہ جنگ کے خاتمہ اور جنگ بندی معاہدہ کیلئے بھی بے چین نظر آرہے ہیں۔ ایران میں ہاتھ آنے والی ناکامیوں اور ایران کی جانب سے ہونے وای مزاحمت نے ٹرمپ کے اوسان متاثر کردئے ہیں اور وہ اس کا غصہ اپنے ناٹو حلیفوں اور یوروپ کے ممالک پر نکالنے سے بھی گریز نہیں کر رہے ہیں۔ کبھی ناٹو کے وجود پر ہی سوال کرنے لگے ہیں تو کبھی یوروپی مماک کو خود ہی آبنائے ہرمز سے تی درآمد کرنے پر زور دے رہے ہیں۔ ان کے بیانات میں توازن نظر نہیں آرہا ہے ۔
دوسری جانب جہاں تک ایران کا سوال ہے تو اعلی ترین قیادت سے محروم ہونے کے باوجودا یران کے حوصلوںپر کوئی اثر نہیں ہوا ہے ۔ ایرانی قیادت نے جس جذبہ سے جام شہادت نوش کیا تھا اسی جذبہ کو ایران تاحال برقرار رکھے ہوئے ہے اور وہ امریکہ اور اسرائیل کی دھمکیوں سے خوفزدہ ہونے کی بجائے پوری دلیری کے ساتھ ان کا سامنا کر رہا ہے اور اپنی طاقت کے مطابق جواب بھی دیا جا رہا ہے ۔ ایران نے گذشتہ کئی برس تحدیدات میں گذارے ہیں۔ بے تحاشہ معاشی مشکات نے ایران کی معیشت کو مشکل ترین حالات کا شکار کردیا تھا ۔ اس کے باوجود ایران باطل طاقتوں کے آگے جھکنے کی بجائے حق پر ڈٹے رہنے کو ترجیح دے رہا ہے اور اسے اپنے نقصانات کی کوئی پرواہ نہیں رہ گئی ہے ۔ وہ اپنے دفاع کیلئے وہ سب کچھ کر رہا ہے جو اس کے بس میں ہے ۔ یہ جنگ ایران نے شروع نہیں کی بلکہ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے اس پر مسلط کی گئی ہے ۔ در پردہ جنگ ختم کرنے کی کوششیں بھی امریکہ کی جانب سے شروع کی گئی ہیں تاہم ایران کسی طرح کی شرائط کو تسلیم کرنے کیلئے تیار نہیں ہے اور وہ اپنی شرائط پر جنگ ختم کرنا چاہتا ہے ۔ امریکہ اور اسرائیل کو یہ امید ہرگز بھی نہیں تھی کہ ایران اس قدر دلیری اور ثابت قدمی کے ساتھ جنگ میں ڈٹا رہے گا ۔ یہی وجہ ہے کہ ٹرمپ اپنی خفت کو چھپانے میں بھی ناکام ہو رہے ہیں اور وہ اس طرح کے بیانات دیتے چلے جا رہے ہیں جن سے خود ان کا مذاق بن رہا ہے اور امریکہ کی شبیہہ متاثر ہو رہی ہے ۔
ایران نے انتہائی محدود وسائل اور نا مساعد حالات کے باوجود جس بے جگری سے اس جنگ کا سامنا کیا ہے اور لگاتار کرتا جا رہا ہے وہ اپنی مثال آپ ہے اور اس نے دنیا کے سامنے ایک سوپر پاور کی امیج کو بھی خراب کرکے رکھ دیا ہے ۔ ایران نے اپنی کامیاب حکمت عملی سے جنگ کا انداز بھی بدل کر رکھ دیا ہے اور سوپر پاور کہے جانے والے ممالک کے دانت کھٹے کرنے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھی ہے ۔ ایران نے دنیا پر واضح کردیا ہے کہ محض طاقت کے بل پر کسی کو بھی جھکنے کیلئے مجبور نہیں کیا جاسکتا ۔ بظاہر کمزور ملک بھی اپنے دفاع کیلئے دنیا کی بڑی طاقت کے آگے سینہ تان کر کھڑا ہوسکتا ہے اور سوپر پاور کو اپنے گریبان میں جھانکنے پر مجبور کرسکتا ہے ۔