میدک ۔ یکم ستمبر ۔ ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز ) سابق ڈپٹی اسپیکر و بی آر ایس رہنما پدما دیویندر ریڈی نے چیف منسٹر ریونت ریڈی پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ سابق چیف منسٹر کے چندرشیکھر راؤ پر ذاتی تنقید کرنے سے گریز کریں اور عوام سے کئے گئے وعدوں کی تکمیل پر توجہ مرکوز کریں۔انہوں نے کہا کہ کانگریس حکومت ایک ہزار دن کی حکمرانی مکمل کرچکی ہے، اس لیے چیف منسٹر کو خود احتسابی کرتے ہوئے بتانا چاہیے کہ عوام سے کئے گئے وعدوں میں سے کتنے پورے ہوئے ہیں۔ پدما دیویندر ریڈی نے الزام عائد کیا کہ حکومت اپنے وعدوں کی تکمیل میں ناکامی سے عوام کی توجہ ہٹانے کے لیے کے سی آر کو نشانہ بناتے ہوئے تنقید کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کے سی آر کے خلاف ذاتی اور توہین آمیز ریمارکس چیف منسٹر کے عہدے پر فائز شخص کو زیب نہیں دیتے۔انہوں نے کہا کہ تلنگانہ تحریک کے قائد کی حیثیت سے کے سی آر نے اپنی جان کی پرواہ کئے بغیر علحدہ تلنگانہ ریاست کے حصول میں اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ ’’ایک ہزار جنم لینے کے باوجود کے سی آر کے کئے ہوئے کام کرنا ممکن نہیں ہے‘‘ اور تلنگانہ کی تاریخ سے کے سی آر کا نام مٹانا کسی کے بس کی بات نہیں۔وعدوں پر عمل درآمد کہاں ہے؟سابق ڈپٹی اسپیکر نے کانگریس حکومت کی جانب سے اعلان کردہ چھ ضمانتوں پر سوال اُٹھاتے ہوئے کہا کہ مکمل قرض معافی، رعیتو بندھو، خواتین کی فلاح و بہبود، بیروزگار نوجوانوں کو بھتہ سمیت دیگر وعدوں کی موجودہ صورتحال سے عوام کو واقف کروایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ عوام تشہیری شور نہیں بلکہ ایسا عملی کام چاہتے ہیں جو ان کی زندگیوں میں حقیقی تبدیلی لائے۔غریبوں کے مکانات منہدم کرنا کیا ترقی ہے؟پدما دیویندر ریڈی نے ہائیڈرا کے نام پر غریبوں کے مکانات منہدم کرنے اور موسیٰ پروجیکٹ کے نام پر اراضی کے مسائل پیدا کرنے کو ترقی قرار دینے پر اعتراض کیا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ کے سی آر کے خلاف کئے گئے تکبرانہ ریمارکس فوری طور پر واپس لیے جائیں اور تلنگانہ کے عوام سے غیر مشروط معافی مانگی جائے۔