حیدرآباد، 30 اکٹوبر ]سیاست نیوز[ حیدرآباد اور اس کے اطراف و اکناف کے علاقوں میں آنے والے دنوں میں 8 ماہ تک پانی کی شدید قلت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ حیدرآباد میٹروپولیٹن واٹر سپلائی اینڈ سیوریج بورڈ کے میئنجنگ ڈائرکٹر اشوک ریڈی نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ منجیرااور سنگور ذخائر آب میں پانی کی سطح انتہائی کم ہونے کی وجہ سے تقریباً 100 ایم جی ڈی (ملین گیلن یومیہ) پانی کی کمی پیدا ہو جائے گی، جو کہ ایک ناگزیر صورتحال ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پانی کا یہ بحران جنوری سے ستمبر تک برقرار رہنے کا اندیشہ ہے اور اس دوران حیدرآباد کو منجیرااور سنگور کے بغیر ہی پانی کی ضروریات پوری کرنی ہوں گی۔ میئنجنگ ڈائرکٹر اشوک ریڈی نے بتایا کہ واٹر بورڈ اس بحران پر قابو پانے کے لیے متبادل اقدامات کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پانی کی قلت کو دور کرنے کے لیے گوداوری سے 100 ایم جی ڈی پانی لایا جا رہا ہے ، جبکہ کرشنا سے 10 تا 15 ایم جی ڈی اور عثمان ساگر سے 5 ایم جی ڈی پانی منتقل کرنے کا منصوبہ تیار کیا گیا ہے۔2