وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ
اس کے سازسے ہے زندگی کا سوز دروں
قائد اپوزیشن و کانگریس لیڈر راہول گاندھی نے مہاراشٹرا کے پونے میں چھاترو ں کی گونج پروگرام منعقد کیا ۔ چھاتروں کی گونج پروگرام کا یہ چوتھا مرحلہ تھا تاہم اس کی خصوصیت یہ تھی کہ اس پروگرام کو بطور خاص طالبات کیلئے مختص رکھا گیا تھا اور طالبات کی ہزاروں کی تعداد میں شرکت کرتے ہوئے راہول گاندھی کے پروگرام کو کامیاب بنانے میں اہم اور سرگرم رول ادا کیا ہے ۔ پونے شہر میں جس طرح کا جوش و خروش دیکھا گیا اور جس طرح سے اس پروگرام کیلئے طالبات نے سرگرمی سے حصہ لیا اس نے ایسا لگتا ہے کہ مخالفین کو لرزہ کا شکار کردیا ہے اور اسی وجہ سے بی جے پی کی جانب سے اس پروگرام کو کامیڈی شو قرار دیتے ہوئے اپنی بوکھلاہٹ کا اظہار کیا جا رہا ہے ۔ یہ تنقید در اصل راہول گاندھی پر نہیں بلکہ اس پروگرام میں شریک ہوئی ہزاروں طالبات اور خواتین پر تنقید اور ان کے مسائل کو کامیڈی قرار دینے کی کوشش تھی ۔ اس سے بی جے پی کی بوکھلاہٹ کا اظہار ہوتا ہے اور یہ سمجھنے سے قاصر ہے کہ اس کی تنقید کا اصل نشانہ کون بن رہا ہے ۔ راہول گاندھی نے طالبات کیلئے چھاتروں کی گونج پروگرام کرتے ہوئے طالبات اور خواتین کو ایک آواز اور ایک پلیٹ فارم فراہم کرنے کی کوشش کی ہے ۔ انہوں نے خواتین کے مسائل کو ایک بڑے پلیٹ فارم پر ابھارنے اور پیش کرنے کی کوشش کی اور اس کے ذریعہ سسٹم اور حکومت کو جھنجھوڑنا چاہا تھا ۔ انہوں نے ملک میں جنتر منتر احتجاج کے بعد لڑکیوں ‘ طالبات اور خواتین کے خلاف جو ماحول پیدا کیا جا رہا ہے اس کو بے نقاب کرنے کی کوشش کی اور کہا کہ اس مسئلہ پر لڑکیوںاور طالبات سے جو امتیاز کیا جا رہا ہے وہ در اصل ایک منفی سوچ کا نتیجہ ہے اور اس کو خاطر میں نہیں لایا جانا چاہئے ۔ طالبات نے بھی اس بات سے اتفاق کیا کہ ان کے ساتھ بدزبانی کے مسئلہ پر امتیاز برتا جا رہا ہے ۔راہول گاندھی اسی بات کو سارے سماج کے سامنے اجاگر کرنا چاہتے تھے ۔ یہی بات شائد بی جے پی کو ہضم نہیں ہو رہی ہے اور وہ نہیں چاہتی کہ یہ کوئی مسئلہ بنے ۔
آج اس حقیقت سے کوئی انکار نہیںکرسکتا کہ ملک میں تعلیم کے مسئلہ پر شعور بیدار ہونے لگا ہے ۔ نوجوان جاگ رہے ہیں۔ وہ اپنے حق کیلئے خود ہی آواز بلند کر رہے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ ان کو بہتر تعلیم دی جائے ۔ وہ چاہتے ہیں کہ انہیں روزگار حاصل ہو ۔ ساتھ ہی طالبات چاہتی ہیں کہ سماج میں ان کے ساتھ مساوی سلوک کیا جائے ۔ ان کی آواز بھی سنی جائے اور اس کا احترام کیا جائے لیکن بی جے پی اور اس کے قائدین کی جانب سے جنتر منتر احتجاج کے بعد سے مسلسل طالبات اور لڑکیوں کو رسواء کرنے کی مہم شروع کی گئی ہے ۔ میڈیا ہو یا سوشیل میڈیا ہو سبھی پر انہیں نشانہ بنایا جا رہا ہے اور اس ساری کوشش کا مقصد یہی ہے کہ سیاسی فائدہ حاصل کیا جائے اور سماج کے نوجوانوں میں حکومت کے خلاف جو ناراضگی پیدا ہوئی ہے اس کو ختم کرتے ہوئے حالات کا رخ ہی بدل دیا جائے ۔ حالانکہ اس طرح کی کوششیں کامیاب نہیں ہو پائی ہیں تاہم راہول گاندھی نے الٹا حالات کو بی جے پی اور حکومت کے خلاف موڑنے اور خواتین کو ایک آواز فراہم کرنے کی کوشش کی تھی جس پر بی جے پی چراغ پا ہوتی نظر آ رہی ہے اور وہ اس پروگرام کو ایک کامیڈی شو قرار دینے کی کوشش کر رہی ہے ۔ بی جے پی راست طور پر نہیں بلکہ بالواسطہ طور پر طالبات اور لڑکیوںکو نشانہ بنا رہی ہے اور ان کی اس پروگرام میں شرکت کا مذاق اڑانے کی کوشش کر رہی ہے جو اس کی منفی سوچ اور ذہنیت کی عکاس ہے ۔
بی جے پی کی جانب سے خواتین کے حقوق اور ان کے فرائض کی بات تو کی جاتی ہے لیکن یہ محض ایک زبانی جمع خرچ ہے اور اس کے ذریعہ سیاسی فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے ۔ خواتین تحفظات کی دہائی دی جاتی ہے لیکن ان پر عمل نہیں کیا جاتا جبکہ اس کا قانون 2023 ہی میں منظور ہوچکا ہے ۔ بی جے پی کو اس طرح کی بوکھلاہٹ کا شکار ہونے اور خواتین و طالبات کا مذاق اڑانے کی بجائے حقیقی جذبہ اور مسائل کو سمجھنے کی ضرورت ہے تاکہ ان کے مسائل کا واقعتا کوئی حل دریافت کیا جاسکے ۔