ممبئی 6 اکتوبر (یو این آئی) کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت ڈپکے نے الزام لگایا کہ مہاراشٹرا پولیس ان کے کارکنوں پر دہلی کے احتجاج میں شرکت نہ کرنے دباؤ ڈال رہی ہے ۔ انہوں نے سفری اخراجات اور فنڈنگ سے متعلق سوالات پر سخت اعتراض کیا اور کہا کہ پرامن احتجاج میں شرکت کی منصوبہ بندی کرنے والے شہریوں سے ایسی تفصیلات کیوں مانگی جا رہی ہیں۔ قومی راجدھانی کے جنتر منتر پر 10 اکتوبر کو سی جے پی کے ملک گیر احتجاج سے پہلے ، بلار پور پولیس کی کارکنوں کو نوٹس کے بعد تنازعہ کھڑا ہو گیا ہے ۔ سی جے پی نے پولیس کی کارروائی پر تنقید کرکے الزام لگایا کہ اس کا مقصد کارکنوں کو احتجاج میں حصہ لینے سے حوصلہ شکنی کرنا تھا۔ پارٹی رہنماؤں کے مطابق، پولیس نے 10 اکتوبر کو جنتر منتر پر احتجاج میں شرکت کی منصوبہ بندی کرنے والے متعدد کارکنوں کو نوٹس بھیجے ہیں۔ یہ نوٹس کارکنوں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ احتجاج میں شرکت کیلئے اپنے مقصد، تحریک کے مقاصد، اور سفر کیلئے مالی وسائل کی معلومات فراہم کریں۔ ڈپکے نے وضاحت کی کہ انڈین سول سیکورٹی کوڈ کی دفعہ 168 کے تحت جاری کردہ یہ نوٹس کارکنوں کو متنبہ کرتے ہیں کہ وہ انہیں قومی دارالحکومت کے سفر کے بارے میں مطلع کریں اور کسی بھی غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہونے سے باز رہیں۔ نوٹس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ کارکن تشدد، اشتعال انگیز تقاریر، یا سوشل میڈیا پر اشتعال انگیز مواد شیئر کرنے سے گریز کریں، ایسا نہ کرنے کی صورت میں امن و امان میں خلل پڑنے پر قانونی یا احتیاطی کارروائی کی جائے گی۔ سی جے پی کے بانی نے اس کارروائی پر سخت تنقید کی ہے ۔