حافظ صابر پاشاہ
ربیع الاول وہ مہینہ ہے جسے اہلِ محبت ماہِ کامل سے تعبیر کرتے ہیں؛ اس لیے کہ اسی ماہ کی نسبت اس عظیم ہستی سے قائم ہے جس ذاتِ اقدس کو اللہ تعالیٰ نے پوری انسانیت کیلئے رحمت، ہدایت اور رہنمائی کا مرکز بنایا۔ یہی وہ ماہ ہے جس کی مبارک ساعتوں میں سرورِ کونین، فخرِ موجودات، رحمتِ عالم، شفیع المذنبین، خاتم النبیین حضرت محمد مصطفیٰ ﷺاس عالمِ فانی میں جلوہ گر ہوئے۔قرآنِ مجید نے آپ ﷺ کی تشریف آوری کو کسی معمولی واقعے کے طور پر نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمت کے طور پر بیان فرمایا:’’بے شک تمہارے پاس تم ہی میں سے ایک عظیم رسول تشریف لائے۔‘‘(التوبہ)یہ آیتِ کریمہ دراصل انسانیت کیلئے ایک ابدی خوشخبری ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب رسول ﷺ کو اس دنیا میں بھیجا تاکہ بھٹکتی ہوئی انسانیت کو صراطِ مستقیم دکھائی جائے، ظلمتوں میں نور عطا ہو اور زندگی کو مقصد و معنویت نصیب ہو۔
بعثتِ نبوی ﷺ سے قبل دنیا ایک عجیب اخلاقی، روحانی اور معاشرتی اضطراب سے گزر رہی تھی۔ عرب کے معاشرے میں بت پرستی عام تھی، قبائلی تعصب نے انسانوں کو ایک دوسرے سے جدا کر رکھا تھا، طاقتور کمزور کے حقوق پامال کرتا تھا، ظلم و جبر معمول بن چکا تھا اور انسانی عظمت کا معیار کردار نہیں بلکہ حسب و نسب، مال و دولت اور طاقت و اقتدار بن چکا تھا۔ ایسے عالم میں آسمانِ ہدایت پر وہ آفتاب طلوع ہوا جس کا انتظار صدیوں سے کیا جارہا تھا۔ محمد مصطفیٰ ﷺتشریف لائے۔اور پھر تاریخ نے کروٹ لی۔آپ ﷺ کی آمد نے انسان کو اس کے رب سے جوڑا اور انسان کو انسان کی غلامی سے نجات دلائی۔آپ ﷺ نے اعلان فرمایا کہ عزت کا معیار نہ دولت ہے، نہ نسل، نہ رنگ اور نہ قبیلہ؛ اصل فضیلت تقویٰ ہے۔یہ اعلان انسانی تاریخ کے ان عظیم اعلانات میں سے ہے جس نے نسل، رنگ، زبان اور جغرافیے کی مصنوعی دیواروں کو پاش پاش کردیا۔حضرت بلال رضی اللہ عنہ کا مقام اس نظامِ رحمت کی روشن مثال ہے۔حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ، حضرت صہیب رومی رضی اللہ عنہ اور حضرت بلال حبشی رضی اللہ عنہ جیسے جلیل القدر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عملاً ثابت کردیا کہ مصطفیٰ ﷺ کا پیغام کسی نسل یا خطے کا پیغام نہیں، بلکہ پوری انسانیت کیلئے رحمت کا پیغام ہے۔
حضرت واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺنے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اولادِ ابراہیم علیہ السلام میں حضرت اسماعیل علیہ السلام کو منتخب فرمایا، پھر بنی اسماعیل میں بنی کنانہ کو، بنی کنانہ میں قریش کو، قریش میں بنی ہاشم کو اور بنی ہاشم میں آپ ﷺ کو منتخب فرمایا۔جب حضور اکرم ﷺ تشریف لائے تو گویا انسانیت کی طویل رات ختم ہونے لگی۔باطل کے ایوانوں میں لرزہ پیدا ہوا، توحید کا پرچم بلند ہوا، اخلاق نے نئی زندگی پائی اور مظلوم انسان کو آواز ملی۔آپ ﷺ نے مذہب کو صرف رسوم کا مجموعہ نہیں بنایا بلکہ اسے زندگی گزارنے کا مکمل اخلاقی نظام عطا فرمایا۔ ربیع الاول ہمیں دعوت دیتا ہے کہ ہم اپنے کردار کو اخلاقِ مصطفیٰ ﷺ سے آراستہ کریں۔سچ بولیں، امانت کی حفاظت کریں، والدین کا احترام کریں، چھوٹوں سے محبت کریں،بڑوں کی عزت کریں، پڑوسیوں کے حقوق ادا کریں،کمزوروں کا سہارا بنیں، مظلوم کے ساتھ کھڑے ہوںاور سب سے بڑھ کر اپنے دل کو محبتِ رسول ﷺ سے آباد رکھیں۔