نئی دہلی، 2اگست (یو این آئی) ساکشی چودھری کو برسوں سے ہندوستانی باکسنگ کا مستقبل سمجھا جاتا تھا۔15 برس کی عمر میں جونیئر عالمی چمپئن اور18سال کی عمر تک مسلسل دو یوتھ عالمی خطابات جیتنے والی بھوانی کی اس باکسر سے توقع تھی کہ وہ سینئر سطح پر بھی ملک کے لیے بڑے اعزازات جیتیں گی، لیکن بار بارکندھے کی چوٹ نے ان کے کیریئر کی رفتار روک دی۔جب ان کی ہم عصر باکسر دولتِ مشترکہ کھیل، ایشیائی کھیل اور اولمپکس میں حصہ لے رہی تھیں، ساکشی چوٹ کے باعث ایک کے بعد ایک موقع گنواتی رہیں۔ پھر2026کے دولتِ مشترکہ کھیلوں کے انتخاب سے قبل انہیں ایک اور بڑے چیلنج کا سامنا کرنا پڑا۔ 54کلوگرام زمرے میں ایشیائی چمپئن پریتی پوارکی مضبوط دعویداری کے باعث ساکشی نے کوچوں کے مشورے پر51کلوگرام زمرے میں اترنے کا فیصلہ کیا۔ وزن تبدیل کرنا صرف چند کلوکم کرنے کا نام نہیں ہوتا، بلکہ رفتار، طاقت اور برداشت کو برقرار رکھنا بھی ضروری ہوتا ہے ۔ ساکشی نے یہ مشکل مرحلہ کامیابی سے طے کیا، لیکن اصل امتحان ابھی باقی تھا۔ ہندوستانی ٹیم میں جگہ بنانے کے لیے انہیں دو عالمی چمپئن، نکہت زرین اور میناکشی ہڈاکو شکست دینا تھی۔ساکشی نے پہلے نکہت اور پھر ٹرائلز میں میناکشی کو شکست دے کر ثابت کردیا کہ وہ صرف سابق یوتھ چمپئن نہیں بلکہ عالمی سطح پر مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہیں۔ بقول مبصرین، یہ کامیابیاں گلاسگو میں پیش آنے والے ہر مقابلے سے زیادہ مشکل تھیں۔دولتِ مشترکہ کھیلوں میں ساکشی نے غیر معمولی اعتماد کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے چاروں مقابلے متفقہ فیصلے سے جیتے ۔ جنوبی افریقہ کی لیتھابو مودوکانالے ، شمالی آئرلینڈ کی کیٹلن فرائرس، کینیڈا کی ایمبر جین وال اور فائنل میں انگلینڈ کی روبی وائٹ ان کے سامنے بے بس نظر آئیں۔فائنل میں بھی ساکشی نے اپنی لمبی پہنچ، درست پنچ اور بہترین حکمت عملی کی بدولت روبی وائٹ کو سنبھلنے کا موقع نہیں دیا اور متفقہ فیصلے سے اپنے پہلے ہی دولتِ مشترکہ کھیلوں میں گولڈ میڈلجیت لیا۔ساکشی کی یہ کامیابی صرف گلاسگو میں چار فتوحات کا نتیجہ نہیں بلکہ برسوں کی محنت، چوٹوں سے واپسی، وزن کا زمرہ تبدیل کرنے اور عالمی چمپئن حریف باکسرس کو شکست دینے کی جدوجہد کا ثمر ہے ۔