الور: راجستھان کے سابق وزیر اور کانگریس لیڈر نصرو خان نے کابینی وزیر تکارام جولی، میوات ترقیاتی بورڈ کے چیرمین زبیر خان اور الور ضلع کے رام گڑھ اسمبلی حلقہ سے ایم ایل اے صفیہ خان پر سرکاری زمین پر قبضہ کرنے اور اس کا بندر بانٹ کرنے کا الزام لگاتے ہوئے کہا ہے کہ اگر وزیر اعلیٰ اشوک گہلوت ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کرتے ہیں تو اگلے مہینے کانگریس کے قومی رہنما راہول گاندھی کی بھارت جوڑو یاترا کے تحت یہ معاملہ ان کے سامنے اٹھایا جائے گا۔ نصرو خان نے ایک پریس کانفرنس میں یہ الزام لگایا کہ میوات ڈیولپمنٹ بورڈ کے چیرمین زبیر خان اور ان کی اہلیہ صفیہ خان نے الور کے صدر پولیس اسٹیشن کے سامنے جو فٹنس سینٹر بنایا ہے اس پر سرکاری زمین پر قبضہ کیا گیا ہے ۔ یہ سرکاری زمین پی ڈبلیو ڈی اور پولیس کوارٹرز کیلئے صدر تھانے کیلئے چھوڑی گئی زمین کا حصہ ہے۔ اس کے علاوہ اس کے قریب لگائے گئے سی این جی پیٹرول پمپ کیلئے بھی پولیس کی زمین پر قبضہ کیاہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تھانے کی زمین پر قبضے کے سلسلے میں الور کے ایس پی زمین کو دیکھنے پہنچے لیکن ضلع کلکٹر نے اس کی پیمائش نہیں کرائی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ انہوں نے اس سلسلے میں ضلع کلکٹر کو بھی مطلع کیا اور انہوں نے اس کی پیمائش کرانے کا یقین دلایا لیکن ابھی تک کوئی کارروائی نہیں کی گئی ہے ۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ریکارڈ کے مطابق یہ زمین کسٹوڈین کی ہے جس کی نہ تو کوئی رجسٹریشن ہوسکتی ہے اور نہ ہی اس پر کوئی تعمیراتی کام ہو سکتا ہے۔
پیٹرول پمپ لگانے کے لئے تمام قوانین کی خلاف ورز ی کی گئی۔
مسٹر نصرو خان نے مسٹر جولی پر الزام لگایا کہ انھوں نے اپنے اختیار کا استعمال ا پنے چہیتوں کوامرین پنچایت سمیتی کے گاؤں ساوادی میں عد الت کے حکم کے باوجو زمین فروخت کردی گئی۔ جو ہائی وے پر واقع ہے ، جس کی موجودہ قیمت تقریباً 20 کروڑ روپے ہے اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ اس کمیٹی میں خود مسٹر جولی، سب ڈویژنل افسر پیارے لال سوتھوال، تحصیلدار کمل پچوری سمیت کئی افسران موجود تھے ۔ اس سلسلے میں الور کے ضلع کلکٹر کو بھی مکمل تفصیلات دی گئی تھیں لیکن ابھی تک کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔
انہوں نے الزام لگایا کہ ریاستی حکومت نے ریونیو سکریٹری ٹی روی کانت کی صدارت میں اس معاملے میں تحقیقات کا آغاز کیا تھا، لیکن دو ماہ گزرنے کے باوجود ابھی تک کوئی نتیجہ نہیں نکلا ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ اگر حکومت نے ان کی بات نہیں مانی تو اس سے متعلق راجستھان ہائی کورٹ میں اس سلسلے میں ایک مفاد عامہ کی عرضی دائر کی جائے گی اور اگلے مہینے مسٹراہل گاندھی کی بھارت جوڑو یاترا الور پہنچنے پر ان کے سامنے یہ مسئلہ اٹھایا جائے گا۔