احمد علوی
تعلیم یافتہ …!!
نئے زمانے کی تعلیم یافتہ عورت
لباس کی طرح بستر بدلتی رہتی ہے
رواج ختم ہوا بیویاں بدلنے کا
کہ اب تو بیوی ہی شوہر بدلتی رہتی ہے
…………………………
توصیفؔ الدین ، مدینہ کالونی بھینسہ
مزاحیہ غزل
غریبوں کی دال اپنی جگہ
لیڈروں کی چال اپنی جگہ
لاکھوں سوال اک طرف
اک ووٹ کا سوال اپنی جگہ
ووٹوں میں پھوٹ نوٹوں کی لوٹ
دین و دھرم کا جال اپنی جگہ
جلسے ، بھاشن ، وعدے ، نعرے
نیتیں اپنی جگہ اعمال اپنی جگہ
بریانی و مرغ مسلم لاجواب لاجواب
مرچی سوکھی روٹی حلال اپنی جگہ
چور ، ڈاکو ، رہزن ، لٹیرے
توصیفؔ لیڈروں کی مثال اپنی جگہ
…………………………
احمقانہ مشورہ
٭ ایک ڈاکٹر نے مریض کا معائنہ کرتے ہوئے دریافت کیا ، اب تک کس کی دوا استعمال کی ، جی وہ میڈیکل شاپ کے کیمسٹ سے ہی دوائیں لیتا تھا ۔ ڈاکٹر نے برہم ہوکر کہا : ’’یہی تو آپ لوگ سمجھتے نہیں۔ کسی ڈاکٹر سے رجوع کرنے کے بارے میں آپ لوگوں کو ہمیشہ کہا جاتا ہے ۔ بھلا بتائیے کیمسٹ کوئی علاج کرسکتا ہے ؟
اُس نے کوئی احمقانہ مشورہ دیا ہوگا ؟
مریض نے جواب دیا : ’’اُس نے مجھے آپ سے رجوع کرنے کا مشورہ دیا ‘‘۔
ابن القمرین ۔ مکتھل
…………………………
کونسی چیز …!!
٭ ماسٹر : وہ کونسی چیز ہے جو دیکھ سکتے ہیں مگر پکڑ نہیں سکتے …!!
شاگرد : سر آپ کے کان …!!
کوثر جہاں بیگم ۔ عادل آباد
…………………………
…خبر پہ شوشہ …
’’وہ انتظار تھا جس کا …!‘‘
٭ مغربی بنگال میں پہلی بار بی جے پی نے اسمبلی انتخابات میں اکثریت حاصل کی۔ کسی بھی ریاست میں نئی سیاسی پارٹی اقتدار میں آتی ہے تو ریاست میں بدلاؤ کا عمل شروع ہوتاہے۔ مگر بنگال میں اقتدار کی منتقلی سے قبل ہی بدلاؤ شروع ہوگیا۔
چہارشنبہ (6 مئی) کو خبر آئی کہ فوری طور پر ایک سڑک کا نام تبدیل کردیا گیا، سڑکوں پر جگہ جگہ غنڈہ گردی، اشتعال انگیز نعروں کا لگایا جانا، توڑپھوڑ وہ بھی بلڈوزر کے ذریعہ اور آگ زنی کے واقعات، ایک مندر کے قریب جہاں برسوں سے کچھ مسلمانوں کی دکانیں تھیں اُنھیں ہٹادیا گیا۔ یعنی بھگوا بریگیڈ نے بنگال میں اپنے وجود کا احساس دلانا شروع کردیا۔ ایسے ناگفتہ اور کشیدہ حالات میں کیاایک پرامن اور پرسکون زندگی کی توقع کی جاسکتی ہے۔ عوام نے ریاست میں کیا ایسے حالات دیکھنے کے لیے سیاسی تبدیلی لائی تھی۔ لگتا ہے بدلاؤ کی خاطر نئی پارٹی کو بھاری اکثریت دلانے والے عوام اب یہ کہیں گے؎
’’وہ انتظار تھا جس کا، یہ وہ سحر تو نہیں…! ‘‘
کے این واصف۔ ریاض
…………………………
ایک جملہ …!!
٭ میاں بیوی کے بیچ جھگڑا ہوا ، جھگڑے کے دوران شوہر نے ایک جملہ کہا : ’’خوبصورت ہو تو اس کامطلب تم کچھ بھی بولوگی …!؟‘‘جس سے جھگڑا ہی ختم ہوگیا ! اس کے بعد بیوی نے کچھ کہا ہی نہیں بلکہ چائے کے ساتھ پکوڑوں سے بھی نوازا … !
ہمیں بیماری سے لڑنا ہے ، بیمار سے نہیں …!
اختر عبدالجلیل ناز ۔ محبوب نگر
…………………………
میری جگہ !!
٭ جج نے ملزم سے کہا : کچھ دیر بعد آپ کو پھانسی پر لٹکادیا جائیگا آپ کی آخری خواہش ہو تو بتاؤ ؟ملزم نے جج سے کہا : واقعی آپ میری آخری خواہش پوری کریں گے !
جج نے کہا : ہاں قانون کے مطابق پھانسی سے پہلے ملزم کی آخری خواہش پوچھی جاتی ہے !
ملزم نے کہا تو پھر ٹھیک ہے میری جگہ آپ پھانسی پر لٹک جائیے !!
ایم اے وحید رومانی ۔ پھولانگ ، نظام آباد
…………………………