جھارکھنڈ میں کامریڈ نیہا بورا پر سیاہی پھینکنے کے واقعہ کی شدید مذمت ، کارروائی کا مطالبہ
کاما ریڈی۔ 9اگست (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) جھارکھنڈ میں جے پی ایس سی، جے ایس ایس سی۔سی جی ایل سمیت مختلف تقرری امتحانات میں مبینہ بے قاعدگیوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے جاری احتجاج کے دوران اے آئی ایس اے کی قومی صدر کامریڈ نیہا بورا پر مبینہ طور پر شدت پسند عناصر کی جانب سے سیاہی پھینکے جانے کے واقعہ کی پی ڈی ایس یو نے شدید مذمت کی ہے اور حملے میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ پی ڈی ایس یو ضلع جنرل سکریٹری راجیشور نے جاری کردہ ایک پریس بیان میں کہا کہ جھارکھنڈ کے دارالحکومت رانچی میں تقرری امتحانات میں مبینہ بے قاعدگیوں کے خلاف منعقدہ احتجاجی پروگرام میں اے آئی ایس اے کی قومی صدر نیہا بورا نے شرکت کی تھی، جہاں بعض عناصر نے بلاجواز ان پر سیاہی پھینکی۔ انہوں نے کہا کہ جمہوری ملک میں طلبہ اور نوجوان قائدین کو اپنے خیالات کا اظہار کرنے اور عوامی و طلبہ مسائل پر احتجاج کرنے کا آئینی و جمہوری حق حاصل ہے، تاہم ان حقوق کو دبانے کی کوششیں قابل تشویش ہیں۔ راجیشور نے الزام عائد کیا کہ مرکز کی حکومت طلبہ کی آواز اور احتجاجی سرگرمیوں کو دبانے کی کوشش کر رہی ہے اور اسی سلسلے میں دہلی میں طلبہ کی جانب سے منعقدہ تحریک کے دوران بھی سخت کارروائی کی گئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والوں کو خوف زدہ کرنے یا ان کی آواز دبانے کے لیے کسی بھی قسم کے حملے یا طاقت کا استعمال جمہوری اقدار کے منافی ہے۔ پی ڈی ایس یو نے رانچی میں نیہا بورا پر پیش آئے واقعہ کی متعلقہ حکام سے جامع تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ حملے میں ملوث افراد کی شناخت کرکے ان کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے تاکہ مستقبل میں جمہوری انداز میں احتجاج کرنے والے طلبہ اور نوجوانوں کے حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جاسکے۔ راجیشور نے واضح کیا کہ اختلاف رائے اور احتجاج جمہوریت کا بنیادی حصہ ہیں اور کسی بھی گروہ کو طاقت یا دھونس کے ذریعے مخالف آوازوں کو خاموش کرنے کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے۔