بورڈ کی 1958 کی قرار داد اور عدالتی فیصلوں کا حوالہ ۔ چیف جسٹس کی قیادت والی بنچ کی رولنگ
حیدرآباد 27 اپریل ( سیاست نیوز ) تلنگانہ ہائیکورٹ نے اپنے ایک حالیہ فیصلے میں تلنگانہ وقف بورڈ کی ایک درخواست کو مسترد کردیا ہے جس میں شہر کی ایک فائیو اسٹار ہوٹل پر ملکیت کا دعوی کیا گیا تھا ۔ چیف جسٹس آلوک ارادھے اورج سٹس انیل کمار جوکانتی پر مشتمل ایک ڈویژن بنچ نے واضح کیا کہ وقف بورڈ کی جانب سے ایسا ادعا پیش کرنا اپنے دائرہ اختیار سے تجاوز ہے اور اسے ایسا کرنے سے باز رہنے کو کہا ہے ۔ اس تنازعہ میں درخواست گذاروں وائسرائے ہوٹلس (موجودہ میریاٹ) نے آندھرا پردیش ہائیکورٹ کے اقدامات کو چیلنج کیا جو 23 اگسٹ 2007 کے احکام پر مشتمل تھے جو وقف ایکٹ 1995 کے سیکشن 54 کے تحت جاری کئے گئے تھے ۔ وقف بورڈ نے ابتداء میں وقف ایکٹ 1954 کے تحت انکوائری کی تھی جس میں واضح کیا تھا کہ تھا کہ یہ جائیداد وقف نہیں ہے ۔ تاہم بعد میںاس تعلق سے ادعا جات اٹھتے رہے خاص طور پر 1964 میں عبدالغفور نے اس سلسلہ میں ایک سیول درخواست داخل کی تھی اور دعوی کیا تھا کہ یہ جائیداد وقف ہے ۔ قانونی چیلنجس اور عدالتی مداخلتوں بشمول 1968 میں ایک ہائیکورٹ حکمنامہ کے باوجود وقف بورڈ اس پر اپنا ادعا جتاتا رہا ہے ۔ گذرتے وقتوں میںوقف بورڈ کی جانب سے نوٹسیں جاری ہوتی رہیں اور کچھ کارروائی بھی شروع ہوئی ۔ 2014 میںبھی ایسا کیا گیا تھا ۔ حالانکہ سابق میںعدالتی رولنگ اور درخواست گذاروں کے اعتراضات موجود تھے لیکن وقف بورڈ اپنے ادعا پر اٹل رہا۔ درخواست گذار ایک اخباری رپورٹ پر حرکت میں آئے تھے جس میں کہا گیا تھا کہ وقف بورڈ ان کے خلاف کارروائی کا ارادہ رکھتا ہے ۔ درخواست گذاروں نے سابقہ عدالتی فیصلوںکو پیش کیا تاہم وقف بورڈ نے قانونی کارروائی جاری رکھی جس کے بعد عدالت میں مذکورہ درخواست دائر کی گئی تھی ۔ معاملہ کی اہمیت اور نزاکت کو سمجھتے ہوئے عدالت نے وقف ٹریبونل کو درخواست گذاروں کے خلاف کسی بھی فیصلے سے روکتے ہوئے عبوری حکمنامہ جاری کیا ۔ عدالت نے وقف ایکٹ 1954 کا حوالہ دیا جس کے سیکشن 27 میں بورڈ کو یہ اختیار تھا کہ وہ فیصلہ کرے کہ کوئی جائیداد وقف ہے یا نہیں۔ بورڈ کا فیصلہ سیکشن 27(1) کے تحت قطعی ہوتا ہے تاوقتیکہ اسے برخواست نہ کیا جائے یا کوئی سیول عدالت اسے کالعدم نہ کردے ۔ عدالت نے حوالہ دیا کہ وقف بورڈ نے1954 ایکٹ کے دفعہ 27 کے تحت انکوائری کی اور 5 اکٹوبر 1958 کی قرار داد کے مطابق واضح کردیا تھا کہ یہ جائیداد وقف نہیں ہے ۔ عدالت نے اس کیس میں آندھرا پردیش ہائیکورٹ کے فیصلے کا بھی حوالہ دیا جس میں کہا گیا کہ یہ جائیداد وقف نہیں ہے ۔ اسی کے تحت عدالت نے اس ہوٹل پر وقف بورڈ کی درخواست کو مسترد کردیا اور اسے ایسا کرنے سے باز رہنے کی بھی ہدایت دی ہے ۔