قرآن

   

بے شک اللہ حیا نہیں فرماتا اس سے کہ ذکر کرے کوئی مثال مچھر کی ہو یا اُس سے بھی حقیر چیز کی تو جو ایمان لائے وہ خوب جانتے ہیں کہ یہ مثال حق ہے اُن کے رب کی طرف سے (اُتری ہے ) اور جنھوں نے کفر کیا سو وہ کہتے ہیں کیا قصد کیا اللہ نے اس مثال کے ذکر سے گمراہ کرتا ہے اللہ اس سے بہتیروں کو اور ہدایت دیتا ہے اس سے بہتیروں کو اور نہیں گمراہ کرتا اس سے مگر نافرمانوں کو ۔ (سورۃ البقرہ :۲۶)
علامہ قرطبی ؒ فرماتے ہیں مقصد ہوا کہ کسی حقیقت کو واضح کرنے کے لئے اگر مکھی، مکڑی، مچھر یا اس سے بھی حقیر ترین چیز سے مثال دینا ضروری ہو تو اللہ تعالیٰ کسی کے اعتراض کے ڈر سے ایسی مثال کو ترک نہیں فرماتا۔ سلیم الطبع لوگ تو مثال کے مفید ہونے کی وجہ سے تسلیم کرتے ہیں کہ یہ اللہ کا کلام ہے ۔ لیکن جن کی فطرت مسخ ہو چکی ہے وہ اعتراض کرنا شروع کر دیتے ہیں کہ یہ عجیب خدا کا کلام ہے جس میں مکڑی اور مچھروں کا ذکر ہے۔ ضلال کا اصلی معنی ہلاک ہونا ہے اور فسق عرف شرع میں کہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی اطاعت وفرماں برداری سے نکل جانا۔ (قرطبی) ان کی نافرمانی کی نوعیت اگلی آیت میں تفصیلاً بیان فرما دی۔ اللہ تعالیٰ سے وعدہ کر کے توڑ دینا، وہ رشتے اور تعلقات انفرادی اور اجتماعی جن کو محفوظ رکھنے کا اللہ تعالیٰ نے تاکیدی حکم فرمایا ہے ان کو قطع کر تے رہنا۔ اپنے جاہ ومنصب کے لئے ظلم وستم اور فتنہ وفساد برپا کرتے رہنا۔ یہ ان کے کرتوت تھے۔ اور جن کے یہ کر توت ہوں ان کو ہلاکت وتباہی سے کیونکر بچایا جا سکتا ہے۔ عارف رومی رحمہ اللہ فرماتے ہیں ’’نقض میثاق وشکست تو بہا موجب لعنت شود در انتہا‘‘۔