ماہِ ذوالقعدہ کی فضیلت و اہمیت

   

حافظ محمد صابر پاشاہ :
اسلامی تقویم کا ہر مہینہ اپنی الگ شان اور روحانی تاثیر رکھتا ہے، مگر بعض مہینے ایسے ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے خصوصی عظمت و حرمت سے نوازا ہے۔ انہی مقدس مہینوں میں ایک عظیم اور بابرکت مہینہ ماہِ ذوالقعدہ بھی ہے، جو نہ صرف عبادت و ریاضت کا مہینہ ہے بلکہ امن، احترام اور روحانی تیاری کا بھی پیغام دیتا ہے۔ماہِ ذوالقعدہ ان چار مہینوں میں شامل ہے جنہیں اشہرِ حرم کہا جاتا ہے۔ یہ چار مہینے ہیں: ذوالقعدہ، ذی الحجہ، محرم اور رجب۔ ان مہینوں میں جنگ و جدال سے منع کیا گیا اور امن و سلامتی کو فروغ دیا گیا۔ اس طرح ذوالقعدہ امن، سکون اور عبادت کا مہینہ ہے۔”ذوالقعدہ “ کے لغوی معنی ہیں: بیٹھنے والا مہینہ۔ عرب اس مہینے میں جنگ و سفر ترک کرکے گھروں میں قیام کرتے تھے، اسی لئے اس کا نام ذوالقعدہ رکھا گیا۔ یہ مہینہ گویا ایک توقف، ایک سکون، اور ایک روحانی تیاری کا وقفہ ہے۔احادیثِ مبارکہ سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے متعدد عمرے اسی مہینے میں ادا فرمائے۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ ذوالقعدہ عبادت، خصوصاً عمرہ کی ادائیگی کے لئے نہایت بابرکت مہینہ ہے۔ ماہِ ذوالقعدہ اسلامی تاریخ میں کئی اہم واقعات کا حامل ہے، جن میں:صلح حدیبیہ: یہ عظیم واقعہ اسی مہینے میں پیش آیا، جس نے اسلام کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا۔مختلف غزوات اور معاہدات بھی اسی مہینے میں وقوع پذیر ہوئے، جو اس کی تاریخی اہمیت کو مزید اجاگر کرتے ہیں۔ چونکہ ذوالقعدہ حرمت والا مہینہ ہے، اس لئے اس میں نیکیوں کا اجر بڑھا دیا جاتا ہے۔ اس مہینے میں درج ذیل اعمال کا اہتمام کرنا چاہیے: کثرت سے نوافل اور تلاوتِ قرآن، ذکر و اذکار اور درود شریف، استغفار اور توبہ، حقوق العباد کی ادائیگی اور دلوں کی صفائی اور کینہ و حسد سے اجتناب۔ ذوالقعدہ دراصل ذی الحجہ کی تیاری کا مہینہ ہے، جس میں حج جیسی عظیم عبادت ادا کی جاتی ہے۔ اس لئے یہ مہینہ انسان کو ظاہری و باطنی طور پر تیار کرتا ہے تاکہ وہ آئندہ آنے والے ایام میں زیادہ اخلاص کے ساتھ عبادت کر سکے۔