رام پنیانی
ہندوستان نے اپنی آزادی کیساتھ ہی سیکولرازم اور جمہوریت کی راہ اپنائی ، اس کے باوجود ہمارے وطن عزیز میں ہنوز ایسی طاقتیں ہیں جو سیکولر اور جمہوری اقدار کی کٹر مخالف ہیں اور اس نظریہ میں یقین رکھتی ہے کہ ہندوستان صرف ایک ہندو راشٹرا ( ہندو ملک ) ہے ۔ ہندوستان ایک ہندو راشٹرا ہے ، ہندوؤں کا ملک ہے جیسا بیانیہ جو کسی بھی طرح ہندوستانی دستور و اقدار سے میل نہیں کھاتا آر ایس ایس جیسی تنظیم نے پھیلایا ہے ۔ واضح رہے کہ آر ایس ایس نے پچھلے سال 2025ء میں اپنے قیام کے 100سال بھی مکمل کرلئے ہیں ۔ ایک بات ضرور ہیکہ پچھلے کئی دہوں سے آر ایس ایس نے بڑی محنت کیساتھ اور خصوصی حکمت عملی کے ذریعہ ہندوستان کے ہندو راشٹر ہونے کے متعلق اپنے نظریہ کو پھیلانے میں کامیابی حاصل کی ۔ آر ایس ایس نے اقلیتوں سے نفرت کے اپنے نظریہ یا آئیڈیالوجی کو مسلسل پھیلانے کی کوشش کی ۔ اس نے شروع سے ہی مسلمانوں کو بدنام کرنے اور آبنائے وطن میں ان کی شبیہہ متاثر کرنے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھی ، ساتھ ہی کچھ دہوں سے عیسائیوں کو بھی نشانہ بنانا شروع کیا ۔ ان پر مسلسل یہ الزامات عائد کئے کہ عیسائی مشنریز ہندوؤں کا مذہب تبدیل کرواتے ہوئے انہیں عیسائیت قبول کروا رہے ہیں اور اس سے ہندوؤں کو ڈرایا دھمکایا جارہے ہے پھر لالچ دیا جارہا ہے ۔ اس کا نتیجہ یہ برآمد ہوا کہ ملک میں مذہبی آزادی تیزی سے زوال کا شکار ہوگئی اور مذہبی اقلیتوں پر مظالم میں غیرمعمولی اضافہ ہوا ۔ اس ضمن میں حالیہ عرصہ کے دوران کئی ایک رپورٹس بھی منظر عام پر آئی جس میں ملک میں بڑھتے ہوئے نفرت کے واقعات کیلئے حکومتوں ( مرکزی و ریاستی ) اور انتظامیہ کے جانبدارانہ رویہ کو ذمہ دار قرار دیا گیا ۔ اگر ہم گزشتہ دس برسوں کا جائزہ لیں تو پتہ چلتا ہے کہ پچھلے ایک برس کے دوران نفرت کا رجحان بہت بڑھ گیا ہے کیونکہ ہندو قوم پرست حکومت اقتدار میں ہے اور شرپسند عناصر کو اچھی طرح معلوم ہے کہ وہ بغیر کسی سزا کے بچ سکت ہیں ۔ یہاں تک کہ ان لوگوں نے مسلمانوں، عیسائیوں اور دلتوں پر مظالم ڈھانے و تشدد برپا کیا اور حکومت کی جانب سے بالواسطہ طور پر انہیں انعام و اکرام سے نوازا جاتا ہے ۔ ایسی ہی ایک ایجنسی USCIFR ہے ، یہ آزادانہ طور پر کام کرنے والی ایجنسی ہے جو خود مختار دو جماعتی وفاقی ادارہ ہے جس کا انٹرنیشنل ریلیجس فریڈم ایکٹ 1998 کے تحت قیام عمل میں آیا جس کا مقصد مذہبی آزادی یا عقیدہ کی صورتحال پر نظر رکھنا ، مذہبی آزادی کی خلاف ورزیوں کا جائزہ لینا اور پھر امریکی صدر ، وزیر خارجہ ( سکریٹری آف اسٹیٹ ) اور امریکی کانگریس کو پالیسی سفارشات فراہم کرنا ہے ۔ آپ کو بتادیں کہ USCIRF ہر سال اپنی رپورٹس جاری کرتا ہے جس میں دنیا کے مختلف ملکوں میں مذہبی اقلیتوں کیساتھ روا رکھے جانے والے رویہ و سلوک کا جائزہ لیا جاتا ہے اور حیرت کی بات یہ ہیکہ پچھلے سات برسوں س USCIRF ہندوستان کو خصوصی تشویش کا ملک قرار دے رہا ہے ۔ رپورٹ میںآر ایس ایس کو بین المذاہب صورتحال کے بگاڑ اور مذہبی اقلیتوں کو ڈرانے دھمکانے کی ذمہ دار قرار دیا ہے ۔ USCIRF کے مطابق راشٹریہ سوئم سیوک سنگھ ( ار ایس ایس ) کو اس کے مسلم و عیسائی مخالف اقدامات کی پاداش میں ہدفی پابندیوں کا سامنا کرنا چاہیئے ۔ اس نے ہندوستان میں مذہبی اقلیتوں کے خلاف فرقہ پرستانہ ماحول پیدا کیا ہے ، دیگر آبنائے وطن میں ان کے تعلق سے نفرت کا زہر پھیلایا ہے ۔
USCIRF نے اپنی رپورٹ میں ہندوستان کو خاص تشویش کے حامل ملکوں کے زمروں میں شامل کیا ۔ رواں سال بہت ہی پریشان کن رہا جس میں نہ صرف ہندوستان کو خاص تشویش کے حامل ملکوں کے زمرہ میں رکھا گیا بلکہ آر ایس ایس اور اس کی ملحقہ تنظیموں پر پابندی عائد کرنے پر بھی زور دیا گیا ۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ آر ایس ایس بین المذاہب صورتحال کے بگاڑ اور مذہبی اقلیتوں کو ڈرانے دھمکانے کی ذمہ دار ہے ۔ رپورٹ کے مطابق راشٹریہ سیوم سیوک سنگھ کو مذہبی آزادی کی خلاف ورزیوں میں اس کے رول اور ان کو برداشت کرنے کی وجہ سے ہدفی پابندیوں کا سامنا کرنا چاہیئے ۔ اس امریکی پیانل نے ڈونالڈ ٹرمپ انتظامیہ کو مذکورہ سفارشات پیش کی ہیں ۔ ان پابندیوں میں آر ایس ایس کے اثاثے منجمد کرنا اور امریکہ میں داخلے پر پابندی شامل ہے ۔ ہندوستان سے متعلق خصوصی رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہیکہ آر ایس ایس حکمراں بی جے پی کی سرپرست تنظیم ہے جس کے دور اقتدار میں USCIRF نے بطور خاص نوٹ کیا کہ آر ایس ایس اور بی جے پی کے درمیان باہمی تعلق کئی امتیازی قوانین کی تشکیل اور نفاذ کی اجازت دیتا ہے جن میں شہریت ،مذہبی تبدیلی مخالف اور ذبیحہ گاؤ سے متعلق قوانین شامل ہیں ۔اہم بات یہ ہیکہ یہ سفارش امریکی سرکاری ادارے یو ایس سی آئی آر ایف (US CIRF) نے ڈونالڈ ٹرمپ انتظامیہ کو دی تھی ۔ یو ایس سی آئی آر ایف نے خبردار کیا ہے کہ آر ایس ایس عوام کی مذہبی آزادی کیلئے خطرہ ہے ، اس کی سفارشات واضح ہیں فوری طور پر آر ایس ایس پابندی عائد کی جائے ۔ اس کے اثاثے ضبط کئے جائیں اور اس کے اراکین کے امریکہ میں داخلے پر پابندی عائد کی جائے ۔ امریکہ میں قائم ہندوز فار ہیومن رائٹس تنظیم نے بھی آر ایس ایس کی سیاست کی سخت مخالفت کی ہے اور کمیشن کی سفارشات سے اتفاق کیا ہے ۔ رپورٹ میں بی جے پی کی بیشتر پالیسیوں کو اُجاگر کیا گیا ہے ، ہم دیکھتے ہیں کہ اقلیتی طبقات کے خلاف تشدد دن بہ دن بڑھتا جارہا ہے ، اگرچہ گجرات جیسے خوفناک تشدد کی مثال اب نظر نہیں آتی لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ لنچنگ اور دیگر پُرتشدد واقعات وقفہ وقفہ سیپیش آرہے ہیں ۔
دعائیہ اجتماعات پر حملے بھی باقاعدگی سے ہورہے ہیں ، کرسمس 2025 کے موقع پر بجرنگ دل کارکنوں کی جانب سے جو کچھ ہوا وہ تشدد کی ایک نئی انتہا تھی ۔ رپورٹ میں NRC اور CAA کے ذریعہ مسلمانوں کو حق رائے دہی سے محروم کرنے سے متعلق مرکزی حکومت کے اقدام کے بھی حوالے دیئے گئے ۔ یہ بھی انکشاف کیا گیا کہ 50 روہنگیاؤں کو سمندر میں بے یار مددگار چھوڑ دیا گیا جن میں 14 عیسائی تھے ۔ مذکورہ تنظیم کی رپورٹ میں ببانگ دہل عمر خالد اور شرجیل امام جیسے اسٹوڈنٹس لیڈر کو بنا کسی حقیقی وجہ جیل میں ڈالے جانے کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہا گیا کہ دونوں زائد از 5 برسوں سے جیل میں بند ہیں اورحیرت کی بات یہ ہیکہ عمر خالد اور شرجیل امام کو بنا مقدمہ چلائے طویل عرصہ سے جیل میں بند رکھا گیا ، جس سے ہندوستان میں نظام انصاف کی حالت زار کا پتہ چلتا ہے ۔ ایسی ریاستوں میں اب مہاراشٹرا جیسی ریاست بھی شامل ہے ، فرقہ پرست طاقتیں اس بات کو لیکر برہم ہیں کہ وہ جن لوگوں کو نچلی ذات کا کہہ کر ان کا ہر لحاظ سے استحصال کیا کرتے تھے وہ لوگ اس غیر انسانی سلوک سے تنگ آکر دامن اسلام میں پناہ لے رہے ہیں یا پھر عیسائیت قبول کر کے خود کو ذات پات اور اونچ نچ کی الجھنوں سے دور رکھے ہوئے ہیں ۔ ان حالات میں فرقہ پرست تنظیمیں اسلام اور عیسائیت قبول کرنے والوں کو دوبارہ ہندو بنانے کی خاطر ملک کے مختلف مقامات پر گھر واپسی پروگرامس منعقد کررہے ہیں ۔ یہ دراصل دوسرے مذاہب سے تعلق رکھنے والوں پر ہندوازم تھوپنے کامکارانہ اقدام ہے ۔ USCIRF چاہتی ہے کہ امریکہ بھی اسی طرح آر ایس ایس پر پابندی عائد کردے ، جس طرح ہندوستان کے پہلے وزیر داخلہ سردار پٹیل نے اس پر پابندی عائد کی تھی اور آر ایس ایس پر وہ پابندی بابائے قوم مہاتما گاندھی کے قتل کے بعد عائد کی گئی تھی ۔ ویسے بھی 1975 میں ایمرجنسی کے دوران بھی آر ایس ایس پر پابندی عائد کی گئی تھی اور پھر 1992 ء میں شہادت بابری مسجد کے بعد بھی پابندی عائد کردی گئی تھی ۔