بی جے پی فرقہ وارانہ ایجنڈہ پر قائم، مردم شماری کے سوالات کم کئے جائیں، ڈاکٹر نارائنا اور سامبا سیوا راؤ کی پریس کانفرنس
حیدرآباد۔/12 نومبر، ( سیاست نیوز) سی پی آئی کے قومی سکریٹری ڈاکٹر کے نارائنا نے کہا کہ مہاراشٹرا اور جھارکھنڈ اسمبلی انتخابات میں بی جے پی کی کامیابی کی صورت میں وزیر اعظم نریندر مودی ون نیشن ون الیکشن پر عمل آوری کی تیاری کرسکتے ہیں۔ پارٹی کے ریاستی سکریٹری کے سامبا سیوا راؤ کے ہمراہ میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے ڈاکٹر نارائنا نے کہا کہ لوک سبھا اور اسمبلیوں کے بیک وقت انتخابات دراصل وفاقی نظام کے خلاف ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیک وقت انتخابات کی صورت میں جمہوریت کو خطرہ لاحق ہوسکتا ہے۔ سی پی آئی ملک میں ون نیشن ون الیکشن اسکیم کی سختی سے مخالفت کرتی ہے۔ ڈاکٹر نارائنا نے الزام عائد کیا کہ وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امیت شاہ ملک میں سیکولرازم کو نقصان پہنچانے کیلئے فرقہ وارانہ سیاست پر عمل پیرا ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ملک میں جمہوریت اور سیکولر نظریات کو ختم کرنے کیلئے بی جے پی سرگرم ہوچکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ امیت شاہ مجرمانہ سیاست کی حوصلہ افزائی کررہے ہیں۔ تلنگانہ میں ذات پات پر مبنی مردم شماری کا خیرمقدم کرتے ہوئے ڈاکٹر نارائنا نے کہا کہ عہدیداروں کی جانب سے بعض غیر ضروری سوالات کے نتیجہ میں عوام میں الجھن پیدا ہورہی ہے۔ انہوں نے حکومت کو مشورہ دیا کہ وہ غیر ضروری سوالات کو مردم شماری کے سوالنامہ سے حذف کردے۔ انہوں نے کہا کہ سوالنامہ عوام کیلئے آسان اور مددگار ہونا چاہیئے۔ اس سلسلہ میں اگر سرکاری سطح پر کوئی ایپ تیار کیا جائے تو عوام اس پر اپنی تفصیلات درج کرسکتے ہیں۔ معاشی، سماجی اور تعلیمی پسماندگی سے متعلق سوالات تک سروے کو محدود کیا جانا چاہیئے۔ انہوں نے کہا کہ مذہبی بنیادوں پر سوالات سے عوام میں الجھن پیدا ہوگی۔ وقارآباد کلکٹر پر حملہ کی مذمت کرتے ہوئے ڈاکٹر نارائنا نے کہا کہ کسانوں کے مسائل اور ان کے جذبات کا حکومت کو احترام کرنا چاہیئے۔ حملہ کی آڑ میں کسی ایک پارٹی کے قائدین کو نشانہ بنانا ٹھیک نہیں ہے۔ ڈاکٹر نارائنا نے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کی قیامگاہ کو وزیر اعظم کا جانا اور چیف جسٹس کی جانب سے وزیر اعظم کو مدعو کرنا دونوں کو غلط قرار دیتے ہوئے ڈاکٹر نارائنا نے کہا کہ عدلیہ اور مرکزی حکومت کے بارے میں عوام میں کئی سوالات جنم لیں گے۔ عدلیہ کو چاہیئے کہ وہ لکشمن ریکھا کو عبور نہ کرے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں سیاسی پارٹیوں کو بی جے پی اپنے مفادات کیلئے استعمال کررہی ہے۔ آندھرا پردیش میں بیک وقت تلگودیشم اور وائی ایس آر پارٹی سے دوستی کی گئی۔ ڈاکٹر نارائنا نے معاشی صورتحال پر وائیٹ پیپر جاری کرنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ فلاحی اسکیمات اور ترقیاتی اسکیمات پر عمل آوری میں حکومت کو اپنا موقف واضح کرنا چاہیئے۔ سی پی آئی کے ریاستی سکریٹری ڈاکٹر نارائنا نے بی جے پی فلور لیڈر مہیشور ریڈی کے بیانات کو تنقید کا نشانہ بنایا جس میں انہوں نے تلنگانہ میں چیف منسٹر کی تبدیلی کی پیش قیاسی کی ہے۔ ڈاکٹر نارائنا نے کہا کہ مہاراشٹرا میں اتحاد میں سی پی آئی شامل ہے اور محض ایک نشست پر مقابلہ کررہی ہے جبکہ جھارکھنڈ میں سی پی آئی تنہا مقابلہ کررہی ہے۔ انہوں نے کہاکہ جگن موہن ریڈی گذشتہ 12 برسوں سے ضمانت پر ہیں اور نریندر مودی اور امیت شاہ کی مدد سے وہ جیل سے باہر ہیں۔ سامبا سیوا راؤ نے مردم شماری کے 75 سوالات کے بجائے سوالات کی تعداد کم کرنے کا حکومت کو مشورہ دیا۔1