ووٹ چوری ، پاپ کا گھڑا بھر گیا… عوام سڑکوں پر
گیانیش کمار نے اپوزیشن کو متحد کردیا … مودی حکومت سکتہ میں
رشیدالدین
انقلاب کا بگل آخر کار بج گیا۔ ایک طرف جنتر منتر تو دوسری طرف ممبئی کے شیواجی پارک سے دستور اور جمہوریت کو بچانے عوام سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔ کانگریس زیر قیادت اپوزیشن پارٹیوں نے 8 اکتوبر تک ملک بھر میں جمہوریت بچاؤ تحریک کا اعلان کیا ہے ۔ جنتر منتر اور ممبئی میں پولیس چھاؤنی میں علاقہ کو تبدیل کرتے ہوئے سینکڑوں کی تعداد میں احتجاجیوں کو حراست میں لیا گیا۔ دونوں مقامات پر پولیس کی جانب سے احتجاج کی اجازت نہیں دی گئی اور ترنگا کے سایہ میں احتجاج کرنے والے مختلف سیاسی ، سماجی اور جہدکاروں کو حراست میں لے کر حکومت اس خوش فہمی میں ہے کہ گیانیش کمار کو بچالیا جائے گا۔ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار چاروں طرف سے گھر چکے ہیں اور بچاؤ کا کوئی راستہ دکھائی نہیں دے رہا ہے۔ دہلی اور ممبئی میں بھلے ہی احتجاج کو روک دیا گیا ہو لیکن ملک کے دیگر حصوں میں عوام کی اس مخالفت کو روکا نہیں جاسکتا کیونکہ ابھی تو یہ آغاز ہے۔ گیانیش کمار خود تو پھنس گئے ساتھ میں اپنے سیاسی آقاؤں کو بھی عوامی عدالت میں کھڑا کردیا ہے۔ ’’ہم تو ڈوبے ہیں صنم تم کو بھی لے ڈوبیں گے‘‘ کے مصداق گیانیش کمار نے مودی حکومت اور بی جے پی کی کھٹیا کردی ہے۔ ظاہر ہے کہ قدرت کا یہی اصول ہے کہ جب پاپ کا کھڑا بھر جائے تو زوال مقدر بن جاتا ہے۔ گیانیش کمار کل تک ناقابل چیلنج تصور کر رہے تھے کیونکہ مودی حکومت نے انہیں قانونی بچاؤ یعنی قانون کا بلٹ پروف جیکٹ پہنا دیا اور ان کے فیصلوں کے خلاف تاحیات کسی بھی کارروائی سے تحفظ فراہم کردیا۔ جس دن پارلیمنٹ میں چیف الیکشن کمشنر اور ساتھی الیکشن کمشنرس کو تاحیات قانونی تحفظ کیلئے قانون سازی کی گئی ، اسی وقت اندازہ ہوچکا تھا کہ الیکشن کمیشن کے ذریعہ کوئی بڑی سازش ہونے والی ہے۔ دال میں کچھ کالا نہیں بلکہ ساری دال ہی کالی نکلی ، جب گیانیش کمار نے ووٹ چوری کے ذریعہ نہ صرف مرکز بلکہ کئی ریاستوں میں بی جے پی کو اقتدار عطا کیا۔ گیانیش کمار نے بی جے پی کی مدد کیلئے غیر قانونی فیصلے کئے اور ایس آئی آر کے نام پر ملک بھر میں 13 کروڑ سے زائد نام فہرست سے خارج کردیئے گئے ۔ ایک طرف حکومت تو دوسری طرف سپریم کورٹ نے گیانیش کمار کا تحفظ کیا ۔ عوام کیلئے انصاف کی آخری امید عدلیہ ہوتی ہے۔ وہاں چیف جسٹس سوریا کانت نے ایک بھی معاملہ میں انصاف رسانی کے بجائے صرف تاریخ پہ تاریخ کے ذریعہ ٹالنے کا کام کیا ۔ حکومت اور عدالت جب ساتھ ہوگئے تو گیانیش کمار نے من مانی کی انتہا کردی اورساتھی الیکشن کمشنرس کو پونچھ کر پھینک دیا۔ ناانصافی جب حد سے تجاوز کرجائے تو کوئی نہ کوئی آواز ضرور اٹھتی ہے اور ساتھی الیکشن کمشنرس سکھبیر سنگھ سندھو اور ویویک جوشی نے بغاوت کرتے ہوئے گیانیش کمار کی اصلیت عوام کے سامنے پیش کردی۔ انتخابی سسٹم کے اغواء اور ووٹ چوری کے خلاف سیاسی پارٹیاں ، Gen-Z اور جہدکار میدان میں آچکے ہیں۔ نیٹ امتحانی پرچہ کے افشاء معاملہ میں جس طرح دھرمیندر پردھان کو استعفیٰ دینا پڑا ، ٹھیک اسی طرح ووٹ چوری اور عوام کو رائے دہی کے حق سے محروم کرنے کی سازش میں گیانیش کمار کو کرسی چھوڑنی پڑے گی۔ عوامی تحریک کے وہ دوسرے دھرمیندر پردھان ہوں گے ۔ قانونی تحفظ کے تحت اگرچہ گیانیش کمار کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جاسکتی لیکن عوامی انقلاب کے آگے کوئی تحفظ ٹک نہیں پائے گا۔ ملک میں Gen-Z تحریک کا آغاز کرنے والی کاکروچ جنتا پارٹی نے ممبئی سے گیانیش کمار کے استعفیٰ کی مہم چھیڑدی ہے جبکہ دہلی میں جنتر منتر پر جہدکار ، دانشور ، قانون داں ، متفکر شہری ، طلبہ تنظیموں کے نمائندے ، سیاسی قائدین اور عام آدمی نے جمع ہوکر واضح کردیا کہ اب کرو یا مرو کا مرحلہ ہے اور گیانیش کمار کے گدی چھوڑنے تک پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ پولیس ، گودی میڈیا اور پروپگنڈہ مشنری کے ذریعہ مودی حکومت عوامی تحریک کو کچل نہیں پائے گی۔ اب تو صورتحال یہ ہے کہ جتنا دباؤگے اتنا ہی شدت سے ابھریں گے۔ گزشتہ 13 برسوں میں مودی ، امیت شاہ ، بی جے پی اور آر ایس ایس نے ڈکٹیٹرشپ کے تمام ریکارڈ توڑدیئے۔ انہیں یقین ہوچلا تھا کہ ہندو راشٹر کے قیام میں کوئی طاقت رکاوٹ نہیں بن سکتی۔ ایک طرف مسلمانوں کے نام چن چن کر فہرست سے خارج کئے گئے تو دوسری طرف Gen-Z کو فہرست میں شمولیت یعنی رائے دہندہ بننے سے روکنے کیلئے غیر قانونی شرائط کو نافذ کیا گیا۔ بہار اور مغربی بنگال میں لاکھوں مسلمانوں کے نام کسی وجہ کے بغیر ڈیلیٹ کرتے ہوئے بی جے پی کو کامیاب کیا گیا۔ کرناٹک میں ایک تازہ ترین انکشاف ہوا جس میں پتہ چلا کہ فارم 7 جو کسی کے نام کو حذف کرنے کیلئے داخل کیا جاتا ہے، وہ ہزاروں کی تعداد میں پہلے ہی سے تیار کردہ تھے۔ ہر فارم میں کسی مسلمان کے نام کو ڈیلیٹ کرنے کی درخواست کی گئی۔ پہلے سے ٹائپ شدہ فارم 7 کے تحت کارروائی کرنے کیلئے بوتھ لیول آفیسرس پر دباؤ بنایا گیا۔ بوتھ لیول آفیسرس کا کہنا تھا کہ کئی نام ایسے ہیں جنہیں وہ برسوں نہیں بلکہ کئی دہوں سے جانتے ہیں۔ انڈین ایکسپریس اور دی ہندو اخبارات نے تحقیقاتی رپورٹس کے ذریعہ دستور اور جمہوریت کے تحفظ کا کام کیا ہے ۔ مثل مشہور ہے کہ انسان کا برا وقت آئے تو سایہ بھی ساتھ چھوڑ دیتا ہے۔ ٹھیک اسی طرح مودی ۔ امیت شاہ ، بی جے پی اور آر ایس ایس نے گیانیش کمار کو بھنور میں چھوڑ کر الیکشن کمیشن کی ووٹ ڈکیتی سے دامن بچانے کی کوشش کی ہے۔ الیکشن کمیشن کی دھاندلیوں کے برسر عام آنے کے بعد مودی حکومت اور بی جے پی سکتہ میں ہے۔ گیانیش کمار کے بچاؤ میں امیت شاہ ، کوئی بھی مرکزی وزیر حتیٰ کہ بی جے پی کے کسی ترجمان نے بیان دینے کی ہمت نہیں کی۔ حکومت اور بی جے پی پر طاری سناٹہ اس بات کا ثبوت ہے کہ سب کچھ ملی بھگت سے کیا جاتا رہا اور اس جرم کے تار مودی اور امیت شاہ تک جڑے ہیں۔ جمہوریت اور دستور کے قتل سے مودی امیت شاہ کا دامن داغدار ہے اور عوامی تحریک ان کا تعاقب کرے گی۔
جب کسی کی ساکھ ختم ہوجاتی ہے تو کچھ بھی نہیں بچتا۔ یہی حال اس وقت نریندر مودی اور ان کے ساتھیوں کا ہے ۔ حالیہ برسوں میں نریندر مودی کی قیادت میں ہر الیکشن میں بی جے پی کامیاب ہوتی رہی لیکن یہ الیکشن کس حد تک آزادانہ اور منصفانہ تھے ، اس کا پول کھل چکا ہے۔ الیکشن نہیں بلکہ ایک دھوکہ تھا ، اس کا انکشاف خود الیکشن کمیشن کے اندر سے اٹھنے والی آوازوں کے ذریعہ ہوا ہے اور ووٹ چوری کے ثبوت بھی الیکشن کمیشن سے باہر آنے لگے ہیں۔ جب کبھی ساکھ جاتی ہے تو اقتدار خطرہ میں پڑ جاتا ہے اور اقتدار کو خطرہ لاحق ہو تو ساتھی بھی دامن بچاتے ہیں۔ مکیش امبانی ان دنوں کانگریس کی فہرست سے باہر ہوچکے ہیں اور کانگریس پارٹی صرف اڈانی کو نشانہ بنارہی ہے۔ کہیں یہ اس بات کا اشارہ تو نہیں کہ مودی حکومت کے برے دن قریب ہیں۔ الیکشن کمیشن کے ذریعہ جس طرح ووٹ چوری کی گئی اور جمہوریت کا قتل کیا گیا۔ آخرکار عوام کو سڑکوں پر آنا ضروری ہوگیا ۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مودی حکومت عوامی انقلاب کو کب تک روک پائے گی۔ عوام سڑکوں پر آکر کہنے لگے ہیں کہ گیانیش کمار اور مودی کرپٹ اور بدعنوان ہیں۔ ملک کے تمام اداروں کو ختم کردیا گیا۔ دستور ختم ہوگیا اور قانون کی حکمرانی کو طاق پر رکھ دیا گیا۔ عوام کا واحد دستوری حق رائے دہی بھی چھین لیا گیا ۔ اب لڑائی فیصلہ کن مرحلہ میں داخل ہوچکی ہے۔ Gen-Z اور عام آدمی خالی ہاتھ واپس لوٹنے کیلئے تیار نہیں ہے ۔ گیانیش کمار اور چیف جسٹس سوریاکانت کے روابط پر مشہور ٹی وی سیریل ’’یہ رشتہ کیا کہلاتا ہے‘‘ کے ٹائٹل کی گونج سنائی دے رہی ہے۔ گیانیش کمار نے جو کچھ بھی غیر قانونی کام کیا، اس کا تحفظ چیف جسٹس سوریا کانت عدالت میں کرتے رہے۔ ایک بھی معاملہ چاہے وہ بہار کا ہو یا مغربی بنگال کا ابھی تک سپریم کورٹ نے حل نہیں کیا اور عوام کو کوئی راحت نہیں دی۔ اطلاعات کے مطابق جسٹس سوریاکانت کو ہماچل پردیش کے چیف جسٹس ہائی کورٹ ، سپریم کورٹ جج اور پھر چیف جسٹس آف انڈیا کے عہدوں پر ترقی میں گیانیش کمار کا اہم رول ہے۔ جب وہ مرکزی وزارت داخلہ میں تھے اور انٹلیجنس بیورو کے ذریعہ سوریاکانت کے حق میں رپورٹ مرکز کو روانہ کرتے رہے۔ کیرالا حکومت نے خودکشی کے ایک معاملہ کی جانچ شروع کردی ہے جس میں خودکشی کرنے والے شخص نے گیانیش کمار کا نام لیا تھا جب وہ کیرالا میں پی ڈبلیو ڈی ڈپارٹمنٹ کے سکریٹری تھے۔ سابق ہوم سکریٹری آر کے سنگھ نے بھی گیانیش کمار کی بدعنوانیوں کے کئی پول عوام کے سامنے کھول دیئے ہیں۔ ندیم شاد نے عوام کی حوصلہ افزائی کچھ اس طرح کی ہے ؎
میرے چراغو آنکھ ملاؤ سورج بن کر بات کرو
آندھی آتی ہے تو آئے گھبرانے سے کیا ہوگا