جو عالم ایجاد میں ہے صاحب ایجاد
کرتا ہے شب و روز طواف اس کا زمانہ
مرکزی حکومت کی جانب سے پارلیمنٹ اور اسمبلی حلقوں کی ازسر نو حد بندی کے مسئلہ پر تیز رفتاری سے پیشرفت کی کوشش کی جا رہی ہے ۔ اس مسئلہ کو خواتین تحفظات سے بھی جوڑنے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔ ملک میں مردم شماری کا عمل شروع ہوچکا ہے ۔ کئی ریاستوں میں یہ کام چل رہا ہے اس کے باوجود اس کے مکمل ہونے کا انتظار کئے بغیر حکومت کی جانب سے سارے مسئلہ پر بہت جلد بازی کا مظاہرہ کیا جا رہا ہے ۔ اس کے نتیجہ میں کچھ شکوک و شبہات پیدا ہورہے ہیں۔ جنوبی ہندوستان کی ریاستوں کو یہ اندیشے لاحق ہیں کہ پارلیمنٹ اور قومی سطح پر ان کی جو نمائندگی پہلے ہی سے کم ہے وہ اور بھی کم ہوجائے گی ۔ حالانکہ حکومت کی جانب سے اس مسئلہ پر یہ تیقن دیا جا رہا ہے کہ جنوبی ریاستوں میں نشستوں کی تعداد کم نہیںہوگی بلکہ ان میں اضافہ ہی ہوگا ۔ تاہم اصل مسئلہ یہ ہے کہ شمالی ہند کی ریاستوں میں نشستوں کی تعداد میں زیادہ اضافہ ہوگا اور جنوبی ریاستوں کو کم حصہ داری حاصل ہوگی ۔ جو نمائندگی پہلے ہی سے کم ہے وہ بہ اعتبار تناسب اور بھی کم ہو جائے گی ۔ جنوبی ریاستوں کو شمالی ہند کی ریاستوں اور وہاں کی سیاست کے غلبہ میں کام کرنا پڑے گا ۔ اپنے عزائم کی تکمیل کیلئے مرکزی حکومت مسلسل سرگرم دکھائی دے رہی ہے اور اس مسئلہ پر اس کا موقف انتہائی مبہم اور غیر واضح ہے ۔ ملک کی اپوزیشن جماعتوں کو اس معاملے میںاعتماد میں نہیں لیا گیا ہے اور نہ ہی مکمل منصوبے سے انہیں واقف کروایا جا رہا ہے ۔ یہ طریقہ کار انتہائی نامناسب ہی کہا جاسکتا ہے کیونکہ جمہوری عمل میںاپوزیشن جماعتیں بھی اتنی ہی اہم اور حصہ دار ہیں جتنی برسر اقتدار جماعت ہے ۔ ایسے میںاپوزیشن کو اور ان کی تشویش کو نظر انداز کرنے کی پالیسی پر عمل نہیں کیا جانا چاہئے تاہم نریندرمودی حکومت اس معاملے میں بھی دیگر امور کی طرح اپوزیشن کے وجود سے ہی انکار کرتے ہوئے اپنے طور پر یکطرفہ فیصلے اور اقدامات کرتے ہوئے انہیں سارے ملک پر مسلط کرنے کی کوشش کر رہی ہے ۔ یہ پالیسی اور حکمت عملی قابل قبول نہیں ہوسکتی اور مرکزی حکومت کو بھی اپنے من مانی فیصلوںسے گریز کرتے ہوئے وفاقیت اور جمہوریت کے حقیقی اصولوںپر عمل پیرا ہونا چاہئے ۔
جہاں تک اپوزیشن جماعتوں کا سوال ہے تو انہیں اس مسئلہ پر سرگرم رول ادا کرنے کی ضرورت ہے ۔ ان تمام جماعتوںکو ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوتے ہوئے اس صورتحال کا سامنا کرنے اور ملک میںعلاقائی عدم توازن کی صورتحال پیدا ہونے سے بچانے کیلئے ایک جامع اور موثر حکمت عملی تیار کرتے ہوئے اس پر عمل پیرا ہونے کی ضرورت ہے ۔ پارلیمنٹ اور ایوان کے باہر صرف بیان بازیوں سے حکومت کو روکنا ممکن نہیں ہوگا ۔ اس کیلئے ایک باضابطہ ایکشن پلان بنایا جانا چاہئے اور جن جن جماعتوںکو حکومت کے ان اقدامات پر تحفظات یا اعتراضات ہیں انہیںآگے آتے ہوئے متحدہ جدوجہد کا آغاز کرنا چاہئے ۔ حکومت ایک مسئلہ پر واضح موقف اختیار کرنے کی بجائے اس سارے مسئلہ کو گنجلک اور پیچیدہ بنانے کی حکمت عملی پر کام کر رہی ہے ۔ عوامی مخالفت کے اندیشوں کو پیش نظر رکھتے ہوئے حلقہ جات کی حد بندی کے مسئلہ کو خواتین تحفظات بل سے جوڑا جا رہا ہے اور اس کا واحد مقصد سیاسی فائدہ حاصل کرنا ہی ہوسکتا ہے ۔ اپوزیشن جماعتوں کا جو جائز اور واجبی مطالبہ ہے کہ خواتین تحفظات ضرور فراہم کئے جائیں تاہم یہ کام 2011 کی مردم شماری کی بنیاد پر نہیں بلکہ فی الحال ملک میں جو مردم شماری کی جا رہی ہے اس کے اعداد و شمار کی بنیاد پر کی جانی چاہئے ۔ تاہم حکومت خواتین کی ہمدردی کا محض ڈھونگ رچاتے ہوئے خواتین کو بھی دھوکہ دینا چاہتی ہے ۔ اگر 2026 کی مردم شماری کی بنیاد پر خواتین تحفظات فراہم کئے جائیں تو خواتین کو مزید زیادہ نشستیںمختص ہوسکتی ہیں۔
اپوزیشن جماعتوں کو اس معاملے میںعوام کی توقعات کے مطابق متحد ہونا چاہئے ۔ اپنے اجلاس منعقد کرنے چاہئیں ۔ اپنی اپنی رائے پیش کرتے ہوئے ایک قابل قبول فارمولہ تیار کرتے ہوئے حکومت کو پیش کرنا چاہئے ۔ جن امور پر تحفظات اور اعتراضات ہیں ان کو دور کرنے کیلئے نمائندگی کی جانی چاہئے اور اگر ضرورت پڑے تو عوامی سطح پر تحریک چلائی جانی چاہئے ۔ ملک کے وفاقی ڈھانچہ کو مستحکم کرنے اور جمہوریت کے استحکام کیلئے یہ جدوجہد ضروری ہے ۔ حکومت کو اس کے من مانی فیصلوںسے روکنے کیلئے تمام جماعتوںکو اپنی ذمہ داری سمجھ کر آگے آنے اور ایک موثر موقف اختیار کرنے کی شدید ضرورت ہے ۔