نیپال کی تباہی کے بعد ہندوستان کی کئی ریاستوں میں سیلاب سے نمٹنے کے احتیاطی تدابیر

   

گزشتہ 10 برسوں میں ملک میں 6354 اموات، بہار، مہاراشٹرا اور آسام سیلاب سے زیادہ متاثر

حیدرآباد۔ 30 اگست (سیاست نیوز) نیپال کی بھیانک طغیانی کے بعد ہندوستان اور دیگر ممالک میں سیلاب سے بچاؤ کے اقدامات پر سرگرم مشاورت شروع ہوچکی ہے۔ ہندوستان کی بعض ریاستوں میں امکانی سیلاب کے خطرے سے نمٹنے کے لئے عصری سسٹم کے استعمال کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ہندوستان میں 2015 اور 2024 کے درمیان ملک کی مختلف ریاستوں میں سیلاب کے نتیجہ میں 6354 اموات واقع ہوئی ہیں۔ سیلاب سے ہونے والی اموات میں بہار سرفہرست ہے جہاں 3174 اموات واقع ہوئیں۔ مہاراشٹرا میں 844 اور آسام میں 414 ہلاکتوں کے سبب یہ ریاستیں سیلاب کی تباہ کاریوں میں دوسرے اور تیسرے نمبر پر ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ملک میں عام طور پر سیلاب کے موقع پر ہی حکام کو احتیاطی تدابیر اور قبل از وقت وارننگ سسٹم کو متحرک کرنے کا خیال آتا ہے۔ اگر یہ عصری سسٹم ہمیشہ اور خاص طور پر مانسون کے سیزن میں متحرک رہے تو ہلاکتوں اور تباہ کاریوں پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔ مرکز اور ریاستوں کی سطح پر ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے علیحدہ محکمہ جات اور شعبے موجود ہیں جہاں سیلاب کی صورت میں بچاؤ اور راحت کے کام انجام دیئے جاتے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ محکمہ موسمیات کی پیش قیاسیو پر نظر رکھی جائے اور ایسی ریاستیں جہاں ہمیشہ سیلاب کا خطرہ برقرار رہتا ہے وہاں عصری وارننگ سسٹم متعارف کیا جانا چاہئے۔ تباہ کاریوں کے دوران کوئی بھی حکومت صرف بچاؤ اور امدادی کام انجام دے سکتی ہیں، ہونا تو یہ چاہئے کہ سیلاب سے قبل ہی حکام چوکسی اختیار کریں اور عوام کو بھی امکانی خطرہ سے واقف کراتے ہوئے محفوظ مقامات منتقلی کی ترغیب دی جائے۔ 2015 سے 2024 کے درمیان ملک کی بیشتر ریاستوں میں سیلاب سے اموات واقع ہوئی ہیں۔ اترپردیش میں 346، گجرات 244، مدھیہ پردیش 205، ٹاملناڈو 283، کیرالا 190، آندھرا پردیش 115، ہماچل پردیش 114 اور کرناٹک میں 122 اموات کی اطلاع ملی ہے۔ نیپال کی بھیانک تباہی کے بعد ہندوستان میں بھی ماہرین نے سیلاب سے نمٹنے کے بارے میں حکومت کو تجاویز پیش کی ہیں۔ 1؍F