نئی دہلی، 24 اپریل (آئی اے این ایس) ہندوستانی کرکٹ میں ایک بار پھر انتخاب سے متعلق بڑی بحث شروع ہوگئی ہے، جہاں سنجو سیمسن کی شاندار فارم نے ونڈے ٹیم میں رشبھ پنت کی جگہ پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔ رواں سال ٹی 20 ورلڈ کپ میں عمدہ کارکردگی کے بعد سیمسن نے اپنی فارم کو انڈین پریمیئر لیگ 2026 میں بھی برقرار رکھا ہے، جس کے بعد شائقین اورماہرین کے درمیان یہ سوال زور پکڑ رہا ہے کہ کیا اب انہیں ونڈے ٹیم میں موقع دیا جانا چاہیے؟ جہاں ایک طرف رشبھ پنت اپنی فارم کی تلاش میں ہیں، وہیں سنجو سیمسن زبردست ردھم میں نظر آرہے ہیں۔پنت نے اس سیزن کے سات میچز میں 147 رنز بنائے ہیں، ان کی اوسط 24.50 اور اسٹرائیک ریٹ 132.43 رہا ہے۔ ان کی بہترین اننگز 68 رنز کی ہے جو انہوں نے حیدرآباد کے خلاف کھیلی، تاہم مجموعی طور پر وہ مستقل مزاجی دکھانے میں ناکام رہے ہیں۔ دوسری جانب، سیمسن شاندار فارم میں ہیں۔ انہوں نے سات میچز میں293 رنز بنائے ہیں، ان کی اوسط 58.60 اور اسٹرائیک ریٹ 178.65 ہے۔ خاص طور پر انہوں نے اس سیزن میں چنئی کی جانب سے کھیلتے ہوئے دو سنچریاں بھی اسکورکی ہیں، جو ان کی میچ وننگ صلاحیت کو ظاہرکرتی ہیں۔دونوں کھلاڑیوں کے اعداد و شمارکا یہ فرق 2027 کے ونڈے ورلڈکپ جو جنوبی افریقہ میں کھیلا جائے گا، کے پیش نظر وکٹ کیپرکے انتخاب پر بحث کو مزید تیزکررہا ہے۔سنجو سیمسن کا ونڈے ریکارڈ بھی متاثرکن ہے۔ انہوں نے 16 میچز میں 510 رنز بنائے ہیں، ان کی اوسط 56.66 ہے، جس میں ایک سنچری اور تین نصف سنچریاں شامل ہیں۔ جنوبی افریقہ میں بھی ان کی کارکردگی قابلِ ذکر رہی ہے، جہاں انہوں نے صرف دو اننگز میں 120 رنز بنائے ہیں۔ دوسری طرف، رشبھ پنت نے 31 ونڈے میچز میں871 رنز اسکورکیے ہیں، ان کی اوسط 33.50 ہے، جس میں ایک سنچری اور پانچ نصف سنچریاں شامل ہیں۔ جنوبی افریقہ میں انہوں نے تین میچز میں 101 رنز بنائے ہیں۔جنوبی افریقہ کی کنڈیشنز کو دیکھتے ہوئے، جہاں تکنیک اور صبر کا امتحان ہوتا ہے، کئی شائقین کا ماننا ہے کہ سیمسن کو مزید مواقع ملنے چاہئیں۔سوشل میڈیا پر بھی سیمسن کی حالیہ کارکردگی کے بعد زبردست بحث جاری ہے۔ ایک مداح نے لکھا، ‘‘ان اعداد و شمار کو کب تک نظر انداز کیا جائے گا؟ سیمسن کو اب ون ڈے میں مستقل موقع ملنا چاہیے۔ایک اور نے کہا، ‘‘پنت ایک میچ ونر ہیں، لیکن شاید اب وقت ہے کہ وہ ٹیسٹ کرکٹ پر توجہ دیں اور سیمسن کو ون ڈے میں موقع دیا جائے۔’’تیسرے مداح نے لکھا، ‘‘سیمسن کو تسلسل کے ساتھ موقع دیا جائے۔’تاہم پنت کے حمایتی بھی کم نہیں۔ ایک مداح نے لکھا، ‘‘لوگ بھول جاتے ہیں کہ پنت دباؤ میں کیا کر سکتے ہیں، کلاس ہمیشہ قائم رہتی ہے۔’’ جبکہ دوسرے نے کہا،آئی پی ایل کے چند خراب میچز کی بنیاد پر بین الاقوامی کیریئر کا فیصلہ نہیں ہونا چاہیے۔اب سلیکٹرز ایک مشکل صورتحال سے دوچار ہیں۔ پنت عالمی کرکٹ کے بہترین اور جارحانہ وکٹ کیپر بلے بازوں میں شمار ہوتے ہیں اور ماضی میں اہم مواقع پر ٹیم کے لیے میچ جتوا چکے ہیں لیکن سنجو سیمسن کی موجودہ فارم ان کے لئے فائدہ مند ہے ۔