ووٹ چوری ‘ سلسلہ تھما نہیں

   

جمہوری طرز حکمرانی والے ملک میں عوام کے ووٹ کی بہت زیادہ اہمیت ہوتی ہے اور ایسا لگتا ہے کہ ہندوستان کی جمہوریت کو ووٹ چوری کے ذریعہ کھوکھلا کرنے کی کوششیں اب محض کوشش نہیں رہ گئی ہیں بلکہ ایک منظم مہم کی صورت اختیار کرگئی ہیں۔ پہلے تو الیکشن کمیشن کی جانب سے مختلف طریقوں سے اس ملک میں عوام کو ان کے ووٹ کے حق سے محروم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔ ووٹ کی حفاظت کیلئے اتنے اقدامات نہیں ہیںجتنے ووٹ کو حذف کرنے کیلئے کئے جا رہے ہیں۔ کہیں دستاویزات کے نام پر ‘ تو کہیں والدین یا ان کے والدین کے ووٹ کا ثبوت پیش کرنے کا لزوم عائد کیا جا رہاہے ۔ کہیں بلا وجہ بھی ووٹ حذف کرنے کیلئے زندہ افراد کو مردہ قرار دینے سے بھی گریز نہیں کیا جا رہا ہے ۔ کہیں نام میں معمولی سے غلطی کی وجہ سے ووٹ حذف کئے جا رہے ہیں تو کہیں کوئی اور طریقہ اختیار کیا جا رہا ہے ۔ ان سارے مراحل سے گذرنے کے بعد جس کسی کا نام مسودہ فہرست میںشامل ہوچکا ہے ان کو بھی حذف کرنے کیلئے فارم 7 کی شکل میں ایک طریقہ فراہم کردیا گیا ہے اور اس طریقہ کا بی جے پی کے بی ایل ایز کی جانب سے بے دریغ اور غلط استعمال کرتے ہوئے حقیقی ووٹرس کے نام بھی حذف کروانے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔ اس سارے عمل میں بطور خاص مسلم رائے دہندوں کے ناموں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے ۔ اب تو یہ الزامات بھی سامنے آ رہے ہیں کہ پہلے سے نشاندہی کردہ ناموں کو حذف کروانے کیلئے فارم 7 بھاری تعداد میں تیار کروالئے گئے ہیں۔ یہ جمہوری عمل کو کھوکھلا کرنے بلکہ اسے ختم کرنے کی سازش کہی جاسکتی ہے ۔ اس سے ہمارے ملک کی عظیم جمہوریت کو تباہ کیا جا رہا ہے اور ملک کے ہی عوام سے ان کے اپنے ووٹ کاحق چھینا جا رہا ہے اور اس عمل کی کسی کو بھی اجازت نہیں دی جانی چاہئے اور نہ ہی دی جاسکتی ہے ۔ بی جے پی اقتدار کے لالچ میں جمہوری عمل کو ختم کرنے سے بھی گریز نہیں کر رہی ہے حالانکہ بی جے پی کو بھی اس ملک میں اقتدار اگر ملا ہے تو وہ جمہوری عمل کی وجہ سے ہی ملا ہے ۔
خاص طور پر کانگریس اقتدار والی جنوبی ہند کی ریاستوں کرناٹک اور تلنگانہ میں یہ کوششیں شدت کے ساتھ کی جا رہی ہیں۔ کرناٹک میں تو خود ریاست کے چیف منسٹر کو اس معاملہ پر توجہ دلانے کیلئے الیکشن کمیشن کے دفتر پر رات تک دھرنے پر بیٹھنا پڑا تھا ۔ تلنگانہ میں بھی اسی طرح سے بھاری تعداد میںفارم 7 کا استعمال کرتے ہوئے حقیقی ووٹرس کو نشانہ بنانے کا سلسلہ جاری ہے ۔ الیکشن کمیشن کو اس بات کی وضاحت کرنی چاہئے کہ کس طرح سے ناموں کا ڈیٹا ان بی جے پی کارکنوں تک پہونچا ہے اور فارم 7 کس کی اجازت سے شائع کروائے گئے ہیں ۔ اس کے پس پردہ محرکات کا پتہ چلاتے ہوئے ان کے خلاف جمہوری عمل کو نقصان پہونچانے کے مقدمات درج کئے جانے چاہئیں۔ اس مسئلہ پر سماج کے ہر گوشے کو حرکت میں آنے کی ضرورت ہے اور اس طرح کی سازشوں کو ناکام بنانا ہوگا جن کے ذریعہ ہماری جمہوریت کو ختم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔جہاںسیاسی جماعتوں کو اس معاملے میں سرگرم رول ادا کرنا چاہئے وہیں خود عوام کو بھی چوکسی برتنے اور ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے ۔ ہر شخص کو اپنے جمہوری حق اور اپنے ووٹ کے حق کا تحفظ کرنے کے معاملے میں لاپرواہی اور غفلت سے گریز کرنا چاہئے ۔ کسی کو بھی ووٹ ختم کروانے کی سازش میں کامیاب کرنے کا موقع نہیں دیا جانا چاہئے ۔ عوام کی چوکسی اور مستعدی ایسی کوششوں کو ناکام بنانے میںمعاون ہوسکتی ہے ۔
جہاں تک حکام کا سوال ہے تو سب سے زیادہ ذمہ داری اور فریضہ ان کا بنتا ہے کہ وہ اس طرح کی سازشوں کو ناکام بنائیں ۔ ایسی سازشوں پر عمل کرنے والوں کے خلاف مقدمہ درج کیا جائے ۔ ان کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے ۔ اس کے پس پردہ کارفرما اصل محرکات کا پتہ چلایا جائے ۔ جو چین بنائی گئی ہے اس کا پردہ فاش کیا جائے اور جمہوریت کا تحفظ کرنے اور عوام کے حق رائے دہی کی حفاظت کرنے کیلئے کسی ذہنی یا سیاسی تحفظ کے بغیر ہر ممکن اقدامات کئے جائیں ۔