ٹاملناڈو ‘ ایک نئے دور کی شروعات

   

پھر دکھا دے زندگی کے وہ صبح و شام تو
چل آگے کی طرف اے گردشِ ایاّم تو
ٹاملناڈو میں آج ایک نئی دور کی شروعات ہوئی جب سی جوزف وجئے نے ریاست کے نئے چیف منسٹر کی حیثیت سے حلف لیا ۔ وجئے کی پارٹی ٹی وی کے نے انتخابات میں تمام دوسری جماعتوںکو پیچھے چھوڑتے ہوئے شاندار کامیابی درج کی تھی ۔ اسے 234 رکنی اسمبلی میں 108 نشستیں حاصل ہوئی تھیں اور کانگریس ‘ سی پی آئی ‘ سی پی ایم اور دیگر جماعتوں کی تائید سے وجئے نے دو دن کے ٹال مٹول کے بعد ریاست میں حکومت تشکیل دی ہے اور انہوں نے چیف منسٹر کی حیثیت سے حلف لیا اور اپنے ساتھ دیگر نوارکان اسمبلی کو بھی وزارتی حلف دلایا ہے ۔ وجئے نے اقتدار سنبھالتے ہی ریاست میںمفت برقی سربراہی اور خواتین کے تحفظ کیلئے فورس تشکیل دینے کے احکام بھی جاری کردئے ہیں۔ وجئے کی پارٹی کا اقتدار اور ان کی حلف برداری ٹاملناڈو میں کئی اعتبار سے اہمیت کی حامل کہی جاسکتی ہے ۔ ٹاملناڈو کی جو سیاست تھی وہ صرف دو جماعتوں ڈی ایم کے اور انا ڈی ایم کے گرد گھومتی رہی ہے ۔ ان دونوں ہی جماعتوں نے ریاست میں تقریبا پانچ دہوں تک باری باری حکومت کی ہے ۔د رواڑی جماعتوں نے ہی ریاست پر راج کیا ہے ۔ کانگریس ہو یا پھر بی جے پی ہو ان دونوں جماعتوںکو ریاست میں کوئی بڑی سیاسی ذمہ داری حاصل نہیںہوئی ۔ کانگریس کا پھر بھی ریاست میں کچھ وجود رہا ہے لیکن ریاست میں سیاسی جگہ حاصل کرنے بی جے پی کی کوششیں زیادہ کچھ کامیاب نہیں رہی تھیں۔ ایک طویل عرصہ سے چلی آرہی درواڑی سیاست کا سلسلہ ریاست میں ختم ہوا اور محض دو سال قبل تشکیل دی گئی سیاسی جماعت ٹی وی کے نے ریاست میں اقتدار حاصل کرلیا ہے ۔ ڈی ایم کے اور انا ڈی ایم کے جیسی پارٹیوں کو شکست دیتے ہوئے اقتدار حاصل کرنا کوئی معمولی بات نہیں ہوسکتی کیونکہ دونوں ہی سابقہ برسر اقتدار جماعتیں دیرینہ ریکارڈ رکھتی ہیں اور ان کی عوامی مقبولیت کا گراف بھی بہت اچھا ہی رہا تاہم وجئے کی مقبولیت ان دونوں ہی جماعتوں پر بھاری پڑ گئی ہے ۔ ریاست کے عوام نے دونوں روایتی جماعتوںکو پیچھے چھوڑتے ہوئے وجئے کو موقع دیا ہے ۔
ٹاملناڈو کی جو روایتی سیاست رہی ہے وہ دو جماعتوں کے گردہی زیادہ تر گھومتی رہی ۔ دونوں ہی جماعتوں نے عوام کو ترقی دینے کیلئے کئی فلاحی اسکیمات نافذ بھی کرنے کے دعوے کئے ہیں۔ ریاست کے عوام اگر کسی ایک جماعت سے ناراض ہوجاتے تو دوسری کو موقع دیتے اور دوسری سے ناراض ہوجاتے تو پہلی کو موقع مل جاتا ۔ شائد یہی وجہ تھی کہ ٹاملناڈو کی اس انداز میںترقی نہیں ہوپائی جیسی ہونی چاہئے تھی ۔ ریاست میں وقفہ وقفہ سے کچھ جماعتوں کا قیام عمل میں بھی آیا تھا تاہم وہ بھی روایتی انداز میں ہی کام کر رہی تھیں اسی لئے وہ پنپ نہیں پائیں ۔ عوام کو کوئی موثر متبادل نظر نہیںآرہا تھا ۔ جب وجئے نے دو سال قبل نئی پارٹی کی شروعات کی تو کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ عوام انہیں اس قدر تائید فراہم کریں گے ۔ وجئے ایک نئی سوچ کے ساتھ سیاسی میدان میں اترے ہیں۔ انہوں نے انتخابات سے قبل عوام کی بہتری اور فلاح کیلئے کچھ وعدے کئے تھے ۔ عوام کو یہ اعتبار ہوگیا کہ وجئے ان وعدوں کی تکمیل کریں گے ۔ سابقہ دونوں ہی پارٹیوں کو بے شمار مواقع دئے گئے تھے اور کئی وعدے ایسے رہ گئے جن کی تکمیل نہیں ہوسکی تھی ۔ اب وجئے نے نئے انداز سے عوام تک رسائی حاصل کی اور عوام نے انہیںاپنی بھرپور تائید سے نوازا ہے ۔ کئی دہوں سے چلی آرہی روایتی سیاست کو بریک لگنا اور ایک نئی سوچ کے ساتھ نئی پارٹی کا اقتدار سنبھالنا ٹاملناڈو میں یقینی طور پر ایک نئے دور کی شروعات کہا جاسکتا ہے ۔ خود وجئے نے بھی اسے ایک نئے دور کی شروعات قرار دیا ہے ۔
ٹاملناڈو کے عوام نے بھی اسے ایک نئی شروعات ہی سمجھتے ہوئے موقع دیا تھا اور اب نئی حکومت کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ روایتی انداز کی سیاست اور روایتی انداز کی حکمرانی کی بجائے عوام کی توقعات اور امیدوں کے مطابق نئے انداز سے کام کرے ۔اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ عوام نے جن توقعات اور امیدوں کے ساتھ نئی پارٹی کو حکومت فراہم کی ہے ان توقعات کو پورا کیا جائے ۔ عوام کی اور ریاست کی ترقی کو پیش نظر رکھتے ہوئے کام کیا جائے تاکہ جو نئی شروعات ہوئی ہے اس کے نتائج بھی عوام کیلئے اچھے اور نئے ہوں اور جنوبی ہند میںٹاملناڈو کو وہ مقام حاصل ہوسکے جس کی ریاست کے عوام تمنا رکھتے ہوں۔