نئی دہلی، 7 مئی (آئی اے این ایس) آئی پی ایل 2026 میں پلے آف کی دوڑ فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو چکی ہے جہاں دہلی کیپیٹلز کی ٹیم اپنی ڈگمگاتی ہوئی مہم کو سہارا دینے کے لیے جمعہ کی شام نئی دہلی کے ارون جیٹلی اسٹیڈیم میں کولکتہ نائٹ رائیڈرزکے مدمقابل ہوگی۔ اکشر پٹیل کی قیادت میں کھیلنے والی دہلی کیپیٹلز کے لیے وقت تیزی سے نکلا جا رہا ہے اور اسے ٹورنمنٹ میں بقا کے لیے نہ صرف اپنی فارم بلکہ اپنے ہوم گراؤنڈ پر مسلسل ناکامیوں کے سلسلے کو بھی توڑنا ہوگا، جبکہ دوسری جانب تین بارکی فاتح کولکتہ نائٹ رائیڈرزکی ٹیم ابتدائی چھ میچوں میں شکست کے بعد اب مسلسل تین فتوحات کے ساتھ زبردست فارم میں ہے اور اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ 2024 سے اب تک کولکتہ کو دہلی پر 3-0 کی برتری حاصل ہے۔ دہلی کیپیٹلز کی سب سے بڑی کمزوری ٹیم میں مستقل مزاجی کا فقدان رہا ہے جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ انہوں نے اب تک 10 میچوں میں 20 مختلف کھلاڑیوں کو آزمایا ہے جو کہ کسی بھی ٹیم کی جانب سے دوسری سب سے زیادہ تبدیلیاں ہیں اور یہی غیر یقینی صورتحال ان کی ناکامی کا سبب بن رہی ہے۔ دہلی کی بیٹنگ لائن میں کے ایل راہول 181کے اسٹرائیک ریٹ سے 445 رنز بناکر تن تنہا جدوجہد کررہے ہیں لیکن باقی بیٹرس کی جانب سے خاطر خواہ ساتھ نہ ملنے کے باعث ٹیم کا ٹاپ آرڈر بحران کا شکار ہے، جبکہ بولنگ میں بھی دہلی کی کارکردگی مایوس کن رہی ہے جس نے اب تک سب سے کم41 وکٹیں حاصل کی ہیں اور ان کے اہم بولرس کلدیپ یادو اور ٹی نٹراجن اپنی بہترین فارم کھو چکے ہیں۔ اس کے برعکس کولکتہ نائٹ رائیڈرزکے لیے سنیل نارائن اور ورون چکرورتی کی اسپن جوڑی مہلک ثابت ہو رہی ہے جہاں نارائن بہترین اکانومی ریٹ کے ساتھ رنز روکنے میں کامیاب رہے ہیں وہیں ورون چکرورتی نے گزشتہ چند میچوں میں وکٹوں کی جھڑی لگا کر اپنی ٹیم کے موقف کو مستحکم کردیا ہے، ساتھ ہی رنکو سنگھ اورکیمرون گرین کی حالیہ فارم نے کولکتہ کے بیٹنگ یونٹ کو مزید خطرناک بنا دیا ہے۔ جمعہ کو ہونے والا یہ مقابلہ دہلی کے لیے پلے آف کی امیدیں برقرار رکھنے کا آخری موقع ہے جہاں انہیں ٹاس جیتنے کے ساتھ ساتھ اپنی حکمت عملی میں بڑی تبدیلی کرنا ہوگی ورنہ کولکتہ کا طوفان انہیں پلے آف کی دوڑ سے باہر کر سکتا ہے۔اس مقابلے میں پھر ایک مرتبہ جہاں دہلی کیلئے کے ایل راہول اہم ہوں گے تو ان کے مقابل میںسنیل نارائن اور چکرورتی کے بولنگ شائقین کی توجہ کا مرکز ہوں گے ۔علاوہ ازیں کپتان اکشر پٹل کے خلاف کیمرون گرین کی بیٹنگ بھی اس مقابلے کو اہم بناسکتی ہے اور یہ اسپن بولنگ کے خلاف بیٹنگ کا بھی مظاہرہ ہوگا۔