دماغی کینسر کا شکار چھ سالہ لڑکے کے وہ الفاظ جس نے ڈاکٹر کو دہلا کر رکھ دیا ۔ موت کے بعد حقیقت آشکار
حیدرآباد 7 جنوری ( سیاست نیوز ) ’’ڈاکٹر ‘ میرے پاس صرف چھ مہینے کا وقت ہے ۔ میرے والدین کو میرے کینسر کے بارے میں کچھ نہ بتائیں ‘‘ ۔ یہ دل کو مروڑ دینے والے الفاظ ایک چھ سالہ لڑکے کے ہیں جو اس کے انتقال کے بعد شہر کے ایک فزیشن نے ٹوئیٹ کرتے ہوئے بتائے ہیں۔ ان کا یہ ٹوئیٹ سوشیل میڈیا پر دیکھتے ہی دیکھتے وائرل ہوگیا اور اس پر آنکھیں نم کردینے والا رد عمل بھی سامنے آ رہا ہے ۔ صرف چھ سال عم والے لڑکے مانو ( نام تبدیل ) نے تاہم انتہائی کم عمری میںاپنے والدین کی تکلیف کا احساس کرتے ہوئے انتہائی بردباری کا مظاہرہ کیا اور اپولو ہاسپٹل کے ڈاکٹر سدھیر کمار حیرت زدہ رہ گئے ۔ اب تک یہ ٹوئیٹ ایک ملین صارفین تک پہونچ چکا ہے ۔ ڈاکٹر کمار نے تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ ایک دن وہ اپنے او پی ڈی میں مصروف تھے کہ ایک نوجوان جوڑا داخل ہوا ۔ اس جوڑے نے ڈاکٹر سے کہا کہ ان کا بیٹا باہر ہے ۔ اسے کینسر ہے ۔ ہم نے اسے یہ بتایا نہیں ہے ۔ برائے مہربانی اس کا معائنہ کیجئے اور علاج کیجئے تاہم مرض کی اطلاع اسے نہ دی جائے ۔ چھ سالہ لڑکے مانو کو وہیل چئیر پر لایا گیا ۔ اس کے چہرے پر مسکراہٹ تھی ۔ وہ پراعتماد دکھائی دے رہا تھا ۔ مانو کو گریڈ 4 کا کینسر اس کے دماغ کے بائیں حصہ پر تھا ۔ اسی وجہ سے وہ سیدھے ہاتھ اور پیر میںفالج کا شکار ہوگیا تھا ۔ اس کا آپریشن کیا گیا اور کیموتھیراپی بھی کی گئی ۔ یہ جوڑا ڈاکٹر سے مشورہ کے بعد واپس ہو رہا تھا کہ مانو نے ڈاکٹر سے تنہائی میں بات کرنے کی خواہش کی ۔ والدین باہر چلے گئے ۔ یہاں اس بچے نے جو کچھ کہا وہ مضبوط دل والوں کو بھی مضطرب کردینے اور آنکھیںنم کردینے کیلئے کافی ہے ۔ بچے نے کہا ’’ ڈاکٹر میں نے اس بیماری کے تعلق سے آئی پیڈ پر پڑھا ہے ۔ میں جانتا ہوں کہ میں مزید چھ ماہ ہی زندہ رہوں گا ۔ میں نے یہ بات اپنے والدین کو نہیں بتائی ۔ وہ مایوس ہوجائیں گے ۔ وہ مجھے بہت چاہتے ہیں۔ برائے مہربانی اس کی اطلاع انہیں نہ دیں‘‘ ۔ ڈاکٹر سدھیر نے کہا کہ بچے کے جملوں سے وہ دہل کر رہ گئے ۔ انہوں نے خود کو سنبھالا اور بچے سے کہا کہ جو کچھ اس نے کہا ہے اس کو دھیان میں رکھیں گے ۔ ڈاکٹر نے بتایا کہ انہوں نے مانو کے جانے کے بعد اسکے والدین کو فون کیا اور انہیںواپس بلا کر ساری بات سے انہیں واقف کروادیا ۔ ڈاکٹر سدھیر کا کہنا ہے کہ انہوں نے بچے سے کیا گیا وعدہ پورا نہیں کیا کیونکہ اس انتہائی حساس اور اہمیت کے حامل مسئلہ سے خاندان کو اس حساس مسئلہ سے واقف کروانا ضروری تھا ۔ ڈاکٹر سدھیر نے کہا کہ نو مہینے بعد یہ جوڑا دوبارہ ان سے رجوع ہوا ۔ ڈاکٹر نے انہیں فوری پہچان لیا اور مانو کی صحت کے تعلق سے دریافت کیا ۔ اس جوڑے نے بتایا کہ ڈاکٹر سے ملاقات کے بعد انہوں نے مانو کے ساتھ بہت اچھا وقت گذارا ۔ وہ ڈزنی لینڈ جانا چاہتا تھا ۔ وہاں اسے لے گئے ۔ ایک ماہ قبل وہ اس دنیا سے چل بسا ۔