دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ اور پنڈتوں کے اخراج پر کانگریس کا اظہار تشویش
نئی دہلی : کانگریس نے جموں و کشمیر میں دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات کے درمیان کشمیری پنڈتوں کے مسلسل اخراج پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کو وہاں کی صورتحال پر وائٹ پیپر جاری کرنا چاہئے ۔کانگریس کے ترجمان پون کھیڑا نے جمعرات کو یہاں پارٹی ہیڈکوارٹر میں ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ کشمیر میں حالات ابتر ہوتے جا رہے ہیں اور گزشتہ آٹھ برسوں کے دوران وہاں حالات مزید خراب ہوئے ہیں۔ حکومت وہاں انتخابات نہیں کرا پارہی ہے اور دہشت گرد لوگوں کو نشانہ بنا کر قتل کر رہے ہیں، لیکن مودی حکومت اس صورتحال کو معمول کے مطابق بتا رہی ہے ۔ ترجمان نے کہا کہ جموں و کشمیر میں 10 ماہ میں 30 کشمیری پنڈت مارے گئے ہیں۔ دہشت گرد نشانہ بنا کر وارداتیں انجام دے رہے ہیں۔ شوپیاں جیسی جگہ پر 32 سال سے دہشت گردی کے ماحول میں جو کشمیری پنڈت رہ رہے تھے ، وہ بھی ہجرت کرنے لگے ہیں۔ اس دیوالی پر 15 خاندان شوپیاں جیسی جگہ چھوڑ کر چلے گئے ہیں۔ مسٹر کھیڑا نے کہا کہ مودی حکومت جموں و کشمیر میں امن و سکون کی بات کرتی ہے لیکن سچائی یہ ہے کہ آئے دن دہشت گرد کشمیری پنڈتوں اور دیگر کو نشانہ بنا کر قتل کر رہے ہیں اور انہیں بھاگنے پر مجبور کر رہے ہیں لیکن حیرانی کی بات یہ ہے کہ مسلسل جاری ان دہشت گردانہ واقعات کے درمیان حکومت دعویٰ کرتی ہے کہ وہاں حالات معمول پر آ رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کشمیری پنڈتوں کی نقل مکانی مسلسل ہو رہی ہے ۔ چاروں طرف خوف اور دہشت کا ماحول ہے ۔ اگر مودی سرکار کی نظر میں یہ معمول کی صورتحال ہے تو اسے اپنی آنکھیں ضرور کھولنی چاہئیں۔انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت کی آؤٹ ریچ پالیسی کے تحت اس کے وزراء جموں و کشمیر میں پروگرام کر رہے ہیں لیکن کسی وزیر کی ہمت نہیں ہے کہ وہ کشمیری پنڈتوں کے کیمپوں میں جا کر ان کی خیریت دریافت کرے ۔ڈاکٹر منموہن سنگھ کی حکومت میں کشمیری پنڈتوں کے لیے کیے گئے کاموں کا ذکر کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ اس دوران ساڑھے چار سو کشمیری پنڈتوں کو ملازمتیں دی گئیں۔ تب کشمیری پنڈت انتخابی سرگرمیوں میں بھی شامل ہوتے رہے ۔