شویتا ترپاٹھی
ٹاملناڈو میں ایک جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کانگریس کے قومی صدر ملکارجن کھرگے نے وزیراعظم نریندر مودی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور ان کا ایک دہشت گرد کے طور پر حوالہ دیا۔ کھرگے نے جہاں مودی جی کو نہیں بخشا وہیں آل انڈیا ڈراویڈا منیترا کاراگم (AIADMK) کو بھی آڑے ہاتھوں لیا اور این ڈی اے کے ساتھ اس کے اعتماد پر سوال اُٹھائے۔ کھرگے نے وزیراعظم نریندر مودی پر تخریبی سیاست کرنے کا الزام بھی عائد کیا اور اے آئی اے ڈی ایم کے و دیگر علاقائی جماعتوں کے بی جے پی زیرقیادت این ڈی اے سے اتحاد پر سنگین سوالات بھی اُٹھائے۔ کھرگے کا کہنا تھا کہ آخر کیسے AIADMK مودی سے ہاتھ ملا سکتی ہے وہ ایک دہشت گرد ہے اور مودی ایک ایسا شخص ہے جو مساوات میں یقین نہیں رکھتا ایسے میں یہ لوگ بی جے پی والوں سے اتحاد کررہے ہیں۔ ان کا ساتھ دے رہے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ لوگ جمہوریت کو کمزور کررہے ہیں۔ انھوں نے یہ بھی الزام عائد کیاکہ وزیراعظم کی پالیسیوں کا مقصد جمہوری اداروں، اقلیتی برادریوں اور ملک کے وفاقی ڈھانچہ کو دہشت زدہ کرنا ہے۔ کھرگے نے یہ انتباہ بھی دیا کہ اس طرح کا اتحاد صرف اور صرف عوام دشمن طاقتوں کو مضبوط اور ریاست ٹاملناڈو کے مفادات کو کمزور کرے گا اور کوئی بھی محب وطن ہندوستانی اسے برداشت نہیں کرے گا۔
کانگریس کے قومی صدر کے مذکورہ ریمارکس ایک ایسے وقت منظر عام پر آئے جبکہ کانگریس مرکز میں برسر اقتدار حکمراں اتحاد کے خلاف اپوزیشن کو متحد کرنے کی جان توڑ کوشش کررہی ہے۔ ویسے بھی ٹاملناڈو، مغربی بنگال، آسام، کیرالا اور مرکزی زیرانتظام علاقہ پڈوچیری میں اسمبلی انتخابات کو ملحوظ رکھیں تو صدر کانگریس کا یہ بیان بہت زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔ کھرگے نے خاص طور پر ٹاملناڈو کے عوام پر زور دیا کہ وہ ہر اس پارٹی کو مسترد کردیں جو مرکزی حکومت کی تائید و حمایت کرتے ہوئے اس کا ساتھ دے رہی ہے۔ ان کی بجائے ان سیاسی جماعتوں کا ساتھ دیں جو سیکولرازم، سماجی انصاف اور ریاست کی خود مختاری کی تائید و حمایت کریں جو دراوڑ پن سیاست کے اہم موضوعات ہیں۔ تاہم بعد میں کھرگے نے وزیراعظم نریندر مودی کو دہشت گرد کہنے کی وضاحت کرتے ہوئے کہاکہ مودی جی عوام اور سیاسی جماعتوں کو دہشت زدہ کررہے ہیں، انھیں ڈرا رہے ہیں، دھمکا رہے ہیں۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ میں نے مودی کو کبھی دہشت گرد نہیں کہا۔ میرا مطلب یہی تھا کہ مودی ہمیشہ دھمکیاں دیتے ہیں۔ مثال کے طور پر ای ڈی، آئی ٹی اور سی بی آئی جیسے ادارے ان کے ہاتھوں کھلونا بنے ہوئے ہیں۔ حد تو یہ ہے کہ مودی اسمبلی و پارلیمانی حلقوں کی حد بندی بھی اپنے ہاتھ میں اپنے کنٹرول میں رکھنا چاہتے ہیں۔ جیسے ہی کھرگے نے مودی کو دہشت گرد قرار دیا، بی جے پی لیڈروں کے ساتھ ساتھ پیوش گوئل نے کانگریس کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ ان کا کہنا تا کہ مجھے شرم آتی ہے کہ کانگریس اور ڈی ایم کے اس قدر گرگئی ہے کہ وہ وزیراعظم نریندر مودی کی تضحیک کررہے ہیں۔ حالانکہ انھیں عوام نے جمہوری طور پر ہندوستان کا وزیراعظم منتخب کیا جبکہ یہ لوگ مودی جی کو دہشت گرد قرار دے کر ان کی توہین کررہے ہیں۔ راہول گاندھی اور ایم کے اسٹالن کو اس ضمن میں معذرت خواہی کرنی ہوگی کیوں کہ ان لوگوں نے نہ صرف وزیراعظم کی توہین کی بلکہ ہندوستانی عوام کی بھی توہین کی ہے۔ کانگریس اور ڈی ایم کے نے 140 کروڑ ہندوستانیوں بشمول 8 کروڑ ٹامل بھائیوں اور بہنوں کی توہین کی اور یہ اتحاد ناپاک اتحاد ہے اور عوام اپوزیشن کی غلط حکمرانی سے کافی متاثر ہوئے۔ بی جے پی لیڈروں نے تو کھرگے کی گرفتاری کا مطالبہ کردیا۔ ویسے بھی کھرگے نے پہلی مرتبہ مودی پر سخت تنقید نہیں کی۔ اس سے پہلے بھی ہریانہ اسمبلی انتخابات 2024ء کے بعد بھی بی جے پی کو دہشت گردوں کی پارٹی قرار دیا تھا، جو لوگوں پر حملے کرتے ہیں، قبائیلیوں اور دلتوں کے خلاف مظالم ڈھاتے ہیں۔